شدید بارش سے متاثرہ تمام اضلاع میں کے الیکٹرک اور حیسکو کی جانب سے بجلی کی فراہمی کو یقینی بناکر پانی کی فراہمی اور پانی کے اخراج کو یقینی بنائیں : مراد علی شاہ

کراچی  :  وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارش کے ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر میں اور صوبے کے دیگر اضلاع میں تمام سوک ایجنسیز کو فعال کرے تاکہ سڑکوں سے اور زیریں علاقوں جہاں پر پانی کا دباؤ ہے وہاں سے بارش کے پانی کو نکالا جاسکے۔ انہوں نے یہ ہدایت صوبائی وزیربلدیات سعید غنی اور صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن تمام اضلاع جہاں شدید بارشیں ہوئی ہیں وہاں پر کے الیکٹرک اور حیسکو کی جانب سے بجلی کی فراہمی کو یقینی بناکر مناسب پانی کی فراہمی اور پانی کے اخراج کویقینی بنائیں۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]

مراد علی شاہ نے لوکل باڈیز ، واٹر بورڈ اور واسا کے افیشلز کو ہدایت کی کہ وہ سڑکوں سے بارش کے پانی کو نکالنے کے لیے مین ہولز کی صفائی رکھیں اور فعال رہیں۔کراچی اور حیدرآباد میں نالوں کی صفائی کی جارہی تھی تاکہ اُن میں بارش کا پانی بہتر طریقے سے داخل اور نکاسی ہوسکے۔ انہوں نے زیریں علاقوں میں جنریٹرز پر ڈی واٹرنگ پمپ نصب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تین دنوں تک شدید بارشوں کی پیشن گوئی ہے لہٰذا 24 گھنٹے شفٹوں میں کام کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر انرجی سے کہا کہ وہ وہ حیسکو سے بات کرے جہاں تمام 12 فیڈرز ٹرپ ہوگئے ہیں اور جب کہ کراچی میں بھی زیادہ تر علاقے پیر کی صبح سے بجلی سے محروم ہیں جہاں پر بجلی بحال کرائی جائے ۔انہوں نے کے الیکٹرک اور حیسکو سے کہا کہ وہ رین ایمرجنسی کے حوالے سے اجلاسوں میں شریک تھے تو پھر وہ ایمرجنسی پلان کیوں نہیں بنا سکے؟ وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو بھی ہدایت کی کہ وہ ضلعی پولیس کو ہدایت کریں کہ وہ مشکل صورتحال میں لوگوں کی مدد کریں۔




انہوں نے کہا کہ لوگ پولیس کی موجودگی میں خود کو محفوظ تصور کریں اور انہوں نے ٹریفک بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں لوگوں کی ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی مدد کریں ۔مرا د علی شاہ نے سندھ کے لوگوں بالخصوص کراچی پر زور دیا کہ وہ سوک ایجنسیز ، پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ خدمات کی انجام دہی کے حوالے سے تعاون کریں ۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کو باہر سڑکوں پر جمع ہونے والے بارش کے پانی میں نہانے اور سمندر میں بھی نہانے سے منع کریں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک جوار بھاٹا کا موسم ہے لہٰذا تمام تر ضروری اقدامات لازمی طور پر کیے جانے چاہئیں۔ کراچی واٹر بورڈ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ پپری اور دھابیجی میں بجلی کے چلے جانے کے باعث شہر کو پانی کی فراہمی بُرے طریقے سے متاثر ہوئی ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے سی ایم سیکریٹریٹ کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں جمع ہونے والے بارش کے پانی کو پمپنگ کے ذریعے نکالنے کے لیے ڈی واٹرنگ پمپ بھی نصب کیے ہیں۔