ظلم کی انتہا ۔۔چائے کے ہوٹل پر زنجیروں میں جکڑا بچہ کام کرنے پر مجبور

جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے حوالے سے متعدد  داستانیں ہمارے سامنے آچکی ہیں اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے  قانون موجود ہے لیکن قانون کا خوف نظر نہیں آرہا ۔چائے کے ایک ہوٹل پر زنجیروں میں جکڑا ایک لڑکا کام کرنے پر مجبور ہے اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس تصویر کو دیکھ کر متعلقہ حکام حرکت میں آئیں گے اور اس واقعے سمیت ایسے دیگر واقعات کا نوٹس لے کر ان کا سدباب کیا جائے گا اور ایسے ظلم کرنے والے لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ایک طرف ہمارے ملک میں دو کروڑ سے زیادہ بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے کے باوجود اسکولوں سے باہر ہیں پانچ سے پندرہ سال کے بچوں کی بڑی تعداد اسکول میں جانے کی بجائے مختلف جبری مشقت کے کاموں میں مجبور ی کے عالم میں کام کر رہی ہے ۔حکومت بڑے بڑے اعلان ضرور کرتی ہے لیکن عوام کے سامنے ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ظلم ہورہا ہے اور ظلم کرنے والے بھی خود عوام میں شامل ہیں ایسے مظالم نظر آئیں تو وہ عوام کو خود چاہیے کہ پولیس کو اس کی شکایت کریں یا اکٹھے ہو کر ایسے ظلم کا شکار لوگوں کو ایسے مظالم سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔


اپنا تبصرہ بھیجیں