شکریہ ہندوستان

میاں طارق جاوید

پاکستان اور بھارت تقسیم ہند کے نتیجے میں وجود میں آئے ضرور تھے مگر قیام پاکستان کا مقصد اور وجہ کچھ اور تھی ۔ کہاجاتا ہے پاکستان اس وقت معرض وجو د میں آگیا تھا جب پہلا مسلمان ہندوستان میں آیا تھا ۔ لیکن دوسری طرف آقائے نامدار حضرت محمد مصطفٰیؐ کے فرمان کے مطابق کہ مجھے مشرق کی طرف ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں کہنا بھی بزرگان دین اور اہل علم قیام پاکستان کی نوید بتاتے ہیں ایک طرف ہندوستان نے پاکستان کیخلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ تقسیم ہند سے ہی شروع کررہی ہے کہ وہ پاکستان کو کبھی دل

سے تسلیم نہیں کرتے دوسری جانب قیام پاکستان کے فورا بعد کشمیر پر قبضے کیلئے فوجی جارحیت بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا ۔ اقوام متحدہ کے قراردادوں کے باوجود ہندوستان نے آج تک کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق نہیں دیا ۔ 12لاکھ سے زائد مسلح افواج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود ہندوستان کشمیری عوام کو بھارتی نہیں بناسکا ۔ کشمیر کا قیام پاکستان سے 19دن قبل ہی پاکستان سے الحاق ہوچکا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کے باوجود آزادی کی تحریک آجکل جوبن پر ہے ۔ تمام حریت قیادت اس وقت نظر بند ہے لیکن کشمیر میں آزادی کی تحریک بڑھتی جارہی ہے جو آزادی کشمیر کیلئے بہت خوش آئندہ ہے ۔
1948، 1965اور 1971کی جنگوں کے بعد 1999میں کارگل کا واقعہ بھی بھارتی جارحیت کاشاخسانہ تھا 1971میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو دولخت کرنیکی سازش کا ایک جیتا جاگتا کردار اور نام نہاد سیکولر بھارت کا انتہا پسند نریندر مودی آج وزیر اعظم ہے جس کامکتی باہنی کے روپ میں افواج پاکستان کیخلاف لڑائی کا اعتراف آن ریکارڈ ہے 25اور 26فروری کی درمیانی رات آزاد کشمیر کے مظفر آباد سیکٹر میں بھارتی جہازوں کی آمد اور پاک فضائیہ کے رد عمل پر بھارتی فضائیہ کے جہاز اپنا اسلحہ پھینک کر دم دباکر بھاگ کھڑے ہوئے ، ایک درخت ، ایک مکان چند افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ بھارت کو اس درانداز ی سے کوئی خاطر خواہ مدد تو نہ مل سکی مگر بھارتی عوام اور حکومت پوری دنیا میں ایک بار پھر تماشہ بن کر رہ گئی ہے کیونکہ بھارتی انتہا پسند ہندو میڈیا شاید ریٹنگ کیلئے پاک بھارت جنگ ضرور کروانا چاہتا ہے لیکن الیکشن میں فتح کیلئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بچھائی ہوئی بساط پر بازی پاکستان کے ذمہ دارانہ رویوں نے پلٹ کر رکھ دی ہے ۔
جنگی جنونیت کے باوجود بھارتی عوام اور افواج جنگ سے مسلسل کنی کترا رہے ہیں ایک بھارتی ٹی وی چینل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بھارتی افواج کے 40فیصد سے زائد جوان اور افسران چھٹی لینے کیلئے درخواستیں دے چکے ہیں اور ادھر یہ عالم ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو اپنی مسلح افواج پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ پی ایس ایل دیکھنے میں مگن ہے ۔پاکستان میں ایک طرف سیاسی اختلافات عروج پر تھے پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن حکومت کیخلاف محاذ آرائی کیلئے اکٹھے ہوچکے تھے دوسری جانب بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں اور بھارتی طیاروں کی دراندازی نے تمام سیاستدانوں ، مذہبی رہنمائوں سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکر کے لوگ کو ایک بار پھر متحدہ کردیا ہے جس میں بھارت بھارتی وزیرا عظم اور انکی انتہا پسندسوچ پر انکا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے پوری پاکستان قوم کو یکجا کردیا ہے سندھ بلوچستان کے پی کے پنجاب اسمبلی سمیت قومی اسمبلی میں بھی بھارتی دراندازی کیخلاف قرار داد یں منظور کی ہیں بلکہ تمام سیاستدان اپنے اختلافات بھلا کر اپنے مسائل اور مشکلات کے ایک سائیڈ پر رکھ کر ایک بار پھر متحد ہوگئے جو بھارت کیخلاف جنگ سے پہلے ہی فتح کی نوید ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ اور وفاقی وزراء کی پریس کانفرنسوں سے قوم کا مورال تو ہائی ہوا ہے لیکن اس سے زیادہ خوشی قوم میں پیدا ہونے والے اتحاد و یکجہتی کی وجہ سے نظر آرہی ہے جو بھارت کی گیڈر بھبکیوں کے جواب میں اتحاد کی صورت میں نظر آئی اب پاکستان کی باری ہے آئی ایس پی آر کے مطابق اب بھارت سرپرائز کیلئے تیار رہے جس کے بعد بھارتی وزیرا عظم کی دھوتی یقینا گیلی ہوگئی ایک الیکشن جینے کی خاطر انتہا پسند ی کو دی جانے والی ہوا انکے اپنے گلے پڑنے والی ہے ۔ کیونکہ بھارت کی سب سے بڑے ہندو انتہا پسند لیڈر بال ٹھاکرے کا بیٹا بھی بھارتی وزیراعظم کیخلاف کھڑا ہوگیا ہے جس کا یہ کہنا کہ پلوامہ واقعہ پاکستان نے نہیں مودی نے کروایا ہے ۔ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ سیاسی مقاصد کیلئے فوجیوں کو مروایا جارہاہے یہ پاکستان کی عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے لیکن اس کے برعکس اگر بھارتی انتہا پسندی الیکشن پر حاوی ہوگئی تو یہ بھی خدشہ ہے کہ مودی ایک بار پھر بھارتی اکثریت سے بھارت کا وزیر اعظم بن جائے جو خطے کیلئے تو خطرناک ہوگا ہی مگر وہ خود بھارت کیلئے ’’گوریاچوف ‘‘بن جائے گا ۔ ایک بارپھر بھارت کی انتہا پسند اور ہندو طالبان ازم پر بھارت کا بہت بہت شکریہ

کچھ اور تھی ۔ کہاجاتا ہے پاکستان اس وقت معرض وجو د میں آگیا تھا جب پہلا مسلمان ہندوستان میں آیا تھا ۔ لیکن دوسری طرف آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیؐکے فرمان کے مطابق کہ مجھے مشرق کی طرف ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں کہنا بھی بزرگان دین اور اہل علم قیام پاکستان کی نوید بتاتے ہیں ایک طرف ہندوستان نے پاکستان کیخلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ تقسیم ہند سے ہی شروع کررہی ہے کہ وہ پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کرتے دوسری جانب قیام پاکستان کے فورا بعد کشمیر پر قبضے کیلئے فوجی جارحیت بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا ۔ اقوام متحدہ کے قراردادوں کے باوجود ہندوستان نے آج تک کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق نہیں دیا ۔ 12لاکھ سے زائد مسلح افواج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود ہندوستان کشمیری عوام کو بھارتی نہیں بناسکا ۔ کشمیر کا قیام پاکستان سے 19دن قبل ہی پاکستان سے الحاق ہوچکا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کے باوجود آزادی کی تحریک آجکل جوبن پر ہے ۔ تمام حریت قیادت اس وقت نظر بند ہے لیکن کشمیر میں آزادی کی تحریک بڑھتی جارہی ہے جو آزادی کشمیر کیلئے بہت خوش آئندہ ہے ۔
1948، 1965اور 1971کی جنگوں کے بعد 1999میں کارگل کا واقعہ بھی بھارتی جارحیت کاشاخسانہ تھا 1971میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو دولخت کرنیکی سازش کا ایک جیتا جاگتا کردار اور نام نہاد سیکولر بھارت کا انتہا پسند نریندر مودی آج وزیر اعظم ہے جس کامکتی باہنی کے روپ میں افواج پاکستان کیخلاف لڑائی کا اعتراف آن ریکارڈ ہے 25اور 26فروری کی درمیانی رات آزاد کشمیر کے مظفر آباد سیکٹر میں بھارتی جہازوں کی آمد اور پاک فضائیہ کے رد عمل پر بھارتی فضائیہ کے جہاز اپنا اسلحہ پھینک کر دم دباکر بھاگ کھڑے ہوئے ، ایک درخت ، ایک مکان چند افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ بھارت کو اس درانداز ی سے کوئی خاطر خواہ مدد تو نہ مل سکی مگر بھارتی عوام اور حکومت پوری دنیا میں ایک بار پھر تماشہ بن کر رہ گئی ہے کیونکہ بھارتی انتہا پسند ہندو میڈیا شاید ریٹنگ کیلئے پاک بھارت جنگ ضرور کروانا چاہتا ہے لیکن الیکشن میں فتح کیلئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بچھائی ہوئی بساط پر بازی پاکستان کے ذمہ دارانہ رویوں نے پلٹ کر رکھ دی ہے ۔
جنگی جنونیت کے باوجود بھارتی عوام اور افواج جنگ سے مسلسل کنی کترا رہے ہیں ایک بھارتی ٹی وی چینل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بھارتی افواج کے 40فیصد سے زائد جوان اور افسران چھٹی لینے کیلئے درخواستیں دے چکے ہیں اور ادھر یہ عالم ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو اپنی مسلح افواج پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ پی ایس ایل دیکھنے میں مگن ہے ۔پاکستان میں ایک طرف سیاسی اختلافات عروج پر تھے پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن حکومت کیخلاف محاذ آرائی کیلئے اکٹھے ہوچکے تھے دوسری جانب بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں اور بھارتی طیاروں کی دراندازی نے تمام سیاستدانوں ، مذہبی رہنمائوں سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکر کے لوگ کو ایک بار پھر متحدہ کردیا ہے جس میں بھارت بھارتی وزیرا عظم اور انکی انتہا پسندسوچ پر انکا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے پوری پاکستان قوم کو یکجا کردیا ہے سندھ بلوچستان کے پی کے پنجاب اسمبلی سمیت قومی اسمبلی میں بھی بھارتی دراندازی کیخلاف قرار داد یں منظور کی ہیں بلکہ تمام سیاستدان اپنے اختلافات بھلا کر اپنے مسائل اور مشکلات کے ایک سائیڈ پر رکھ کر ایک بار پھر متحد ہوگئے جو بھارت کیخلاف جنگ سے پہلے ہی فتح کی نوید ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ اور وفاقی وزراء کی پریس کانفرنسوں سے قوم کا مورال تو ہائی ہوا ہے لیکن اس سے زیادہ خوشی قوم میں پیدا ہونے والے اتحاد و یکجہتی کی وجہ سے نظر آرہی ہے جو بھارت کی گیڈر بھبکیوں کے جواب میں اتحاد کی صورت میں نظر آئی اب پاکستان کی باری ہے آئی ایس پی آر کے مطابق اب بھارت سرپرائز کیلئے تیار رہے جس کے بعد بھارتی وزیرا عظم کی دھوتی یقینا گیلی ہوگئی ایک الیکشن جینے کی خاطر انتہا پسند ی کو دی جانے والی ہوا انکے اپنے گلے پڑنے والی ہے ۔ کیونکہ بھارت کی سب سے بڑے ہندو انتہا پسند لیڈر بال ٹھاکرے کا بیٹا بھی بھارتی وزیراعظم کیخلاف کھڑا ہوگیا ہے جس کا یہ کہنا کہ پلوامہ واقعہ پاکستان نے نہیں مودی نے کروایا ہے ۔ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ سیاسی مقاصد کیلئے فوجیوں کو مروایا جارہاہے یہ پاکستان کی عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے لیکن اس کے برعکس اگر بھارتی انتہا پسندی الیکشن پر حاوی ہوگئی تو یہ بھی خدشہ ہے کہ مودی ایک بار پھر بھارتی اکثریت سے بھارت کا وزیر اعظم بن جائے جو خطے کیلئے تو خطرناک ہوگا ہی مگر وہ خود بھارت کیلئے ’’گوریاچوف ‘‘بن جائے گا ۔ ایک بارپھر بھارت کی انتہا پسند اور ہندو طالبان ازم پر بھارت کا بہت بہت شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں