وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کتنا کامیاب کتنا مفید؟

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کو ان کے حامی اور غیر جانب دار حلقوں کی جانب سے انتہائی کامیاب مفید اور تاریخی قرار دیا جا رہا ہے جس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قوم اور پاکستان کے منتخب وزیراعظم کی پذیرائی کی اور عظیم اور مقبول لیڈر قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور افغانستان امن عمل کے قیام اور وہاں سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے پاکستان کے اہم ترین کردار کو تسلیم کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی بات کی ہے اور پاکستان میں کرپشن کے خلاف عمران خان کی جاری جنگ میں ان کی کامیابی پر یقین کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کے ساتھ تجارت کو بیس گنا زیادہ ہونے کی بات کی ہے ان سب باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے بارے میں اپنے پرانے خیالات اور تصورات میں تبدیلی پیدا کی ہے اور عمران خان پاکستان کے بیانیہ کو امریکی صدر کی زبان سے منوانے میں کامیاب رہے ہیں اور مجموعی طور پر پوری دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ امریکہ پاکستان کے بارے میں بہتر خوشگوار خیالات کرتا ہے اور پاکستان میں آنے والے دنوں میں مزید سرمایہ کاری تجارت اور سیکورٹی امداد کی بحالی کے حوالے سے اچھی خبریں دنیا کے سامنے آسکتی ہیں ۔ماہرین کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے کامیاب دورہ امریکہ سے اب یہ تاثر ابھرے گا کہ پاکستان مسائل کی وجہ نہیں ہے بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہے۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کی ایک اہم اور خاص بات یہ تھی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ان کے ہمراہ تھے اور اہم علاقائی عالمی اور داخلی معاملات پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر نظر آرہی تھی جہاں وزیراعظم عمران خان پاکستان کا سیاسی چہرہ پیش کر رہے تھے وہاں علاقائی فوجی معاملات کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے اور صورتحال کو بیان کرنے کے لیے خود آرمی چیف موجود تھے اور ان کا پینٹاگون کا دورہ اور اہم ملاقاتیں بھی توجہ کا مرکز بنی رہی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران سیاسی نقطہ نظر سے بھی کامیابی حاصل کی۔ واشنگٹن کے ایرینا ون کیپٹل اسٹیڈیم میں ہونے والا تاریخی اجتماع ان کی مقبولیت کامیابی اور زبردست لیڈر شپ کی عکاسی کرتا ہے ایسا پاکستانی اجتماع ماضی میں کبھی سوچا گیا نہ دیکھا گیا۔




مجموعی طور پر وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کی کامیابی پر ان کے حامی اور غیر جانبدار بہت خوش اور پاکستان کے لیے نہایت مفید قرار دے رہے ہیں۔
البتہ ان کے سیاسی مخالفین اور ناقدین اس دورے میں بھی ان کی بعض باتوں اور ان کے انداز تحقیق کے حوالے سے تنقید کرتے نظر آتے ہیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے نا قدین  اور سیاسی مخالفین کی جانب سے ان کے دورے پر اٹھائے جانے والے اعتراضات سے قطع نظر یہ سوال  ضرور اپنی جگہ قائم ہے کہ اس دورے کے نتائج کیا نکلتے ہیں اور پاکستانی عوام کو اس کے ثمرات کب اور کیسے نظر آئیں گے یہ اہم بات ہے اب جبکہ حکومت کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے اور وزیراعظم نے دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور امریکہ کا اہم ترین اور تاریخی دورہ بھی کر لیا ہے اب  دیکھنا یہ ہے کہ وہ ملک کو کس تیزی کے ساتھ آگے کی طرف لے کر بڑھتے ہیں اور پاکستانی معیشت کے مسائل اور پاکستانی عوام کی مشکلات کس طرح حل کرتے نظر آتے ہیں۔