سندھ کا بینہ نے ڈاکٹرو ں کی تنخو اہیں صو بہ پنجا ب کے برا بر کر نے کی منظو ری دے دی 

کشمیر کے مسئلے پر سندھ حکومت وفا قی حکومت اور کشمیر یو ں کے ساتھ شا نہ بشا نہ کھڑی ہے ۔بیرسٹر مر تضیٰ وہاب

کرا چی ۔ سندھ کا بینہ نے گریڈ 17سے گریڈ 20کے ڈاکٹرو ں کی تنخواہیں صو بہ پنجاب کے برابر کرنے کی منظوری دے دی تنخواہو ں میں اضافے سے سرکاری خزانے پر 5.6بلین روپے سالانہ بوجھ پڑے گا۔ کابینہ کے بیشتر اراکین نے ڈاکٹرز کی تنخواہوں پر اضافے کو اچھی کارکردگی سے مشروط کر نے کی تجویز دی ہے۔اجلا س میں * سروس اسٹیکچر تھری ٹائرز فارمولا کرنے اور تمام الا?نسز دیگر صوبوں خصو صاََ پنجاب کے برابر کرنے پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا 15000 روپے ما ہا نہ ہا?س افسران کو اضافی دیا جائے گاجبکہ دس ہزار روپے ما ہانہ پوسٹ گریجویٹ کو اضافی دیا جائے گا۔اجلا س میں فیصلہ کیا گیا کہ قا نو ن سازی کے تحت محکمہ صحت ،تعلیم اور صحت ادا رو ں میں تنخوا ہو ں میں اضا فہ کا کارکر دگی کی بنیا د پر ہو گا۔مزید نئے ڈاکٹر ز بھر تی کئے جا ئینگے اور ان نئے ڈاکٹر ز کی بھر تی مخصو ص ہسپتا لو ں کے لئے ہو گی جہا ں سے وہ ٹرا نسفر نہیں ہو سکیں گے۔ تنخو اہو ں میں اضا فے کا اطلا ق فر وری سے ہو گا اس با ت کا فیصلہ سندھ کا بینہ کے اجلا س میں کیا گیا اجلا س میں30آئیٹم پیش کئے جا نے تھے لیکن وقت کی کمی کے سبب 21آئیٹم پر بحث ہوئی کا بینہ کا آئندہ اجلا س بد ھ کو بلا نے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلا س میں کئے گئے فیصلو ں کی تفصیلا ت بتا تے ہو ئے صو با ئی مشیر اطلا عا ت و قا نو ن اور اینٹی کرپشن بیرسٹر مر تضیٰ وہا ب نے بتا یا کہ کا بینہ کے اجلا س میں کابینہ نے بھارتی رویے اور کشمیریوں پر مظالم کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بھارت ہمیں میلی آنکھ سے نہ دیکھے سندھ حکومت کشمیر کے مسئلے پر وفاقی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو دوبارہ اٹھانے پر حکومت پاکستان اقدامات کرے۔کا بینہ نے جمعے کے روز اسپیکر آغاسراج درانی کی گرفتاری اورگھرپر چھاپے کی مذمت کی۔انہو ں نے مزید کہا کہ کا بینہ نے محکمہ صحت سندھ اور پی پی ایچ آئی کے ما بین تجدید شدہ ایم او یو پر بھی تبا دلہ خیال کیا گیا۔ پی پی ایچ آئی سندھ حکومت کے تعاون سے 1176 بنیا دی مرا کز صحت کے ذریعے صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہے کا بینہ کو بتا یا گیا کہ پی پی ایچ آئی کی انتظامیہ نے اگلے پانچ سالوں کیلئے معا ہدے میں توسیع کی درخواست کی تھی جسے صو با ئی کابینہ نے منظو ر کر لیا ہے یہ توسیع 6 دسمبر 2018ئ سے دسمبر 2023 تک ہوگی۔پی پی ایچ آئی صوبے کے دیہی علاقوں میں ہیلتھ ایڈیکیٹرز کو بہتر کرنے کیلئے کام کر رہی ہے۔تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کرنے کے فیصلے کے ساتھ سندھ حکومت نے پی پی ایچ آئی سے معا ہدے میں مزید د5 سالوں کی تو سیع کی گئی ہے سندھ کابینہ نے پی پی ایچ آئی کے کام کو سراہاہے۔ مشیر اطلا عا ت نے مزید بتا یا کہ سندھ کابینہ نے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے بل کی اصولی منظوری دی ہے اور ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو بل میں ضروری تر میم کر کے اسمبلی بھیجے گی۔ کمیٹی ممبران کے لئے وزیر بلدیات، وزیر صحت اور میئر کراچی کو نامزد کیا گیا ہے۔انہو ں نے بتا یا کہ سندھ کابینہ فیکلٹی کو سینڈیکیٹ نامزد کرنے کی منظوری بھی دیدی اور سینڈیکیٹ، بورڈز آف گورنرز کی تقرری کا اختیار وزیراعلیٰ سندھ کو دیا گیا ہے جبکہ کراچی یونیورسٹی کے ناصر سلمان کو سینڈیکیٹ کا ممبر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔اس کے علا وہ سندھ گو ر نمنٹ چلڈر ن ہسپتا ل نیو کرا چی کا بجٹ جاری کر نے پر بھی غو ر کیا گیا یہ اسپتال پاورٹی ایجوکیشن انیشیٹو (پی ای آئی) کے تحت چلا یا جا رہا ہے پی ای آئی کو 439.8 ملین روپے بھی جاری کیئے گئے ہیں صوبائی کا بینہ کو بتا یا گیا کہ آڈٹ کے کچھ اعتراضات تھے، جس کے باعث گذشتہ 18 مہینوں سے اسپتال کو فنڈز جاری نہیں ہوئے اب آڈٹ اعتراضات کلیئر ہوگئے ہیںسندھ حکومت نے 18 مہینوں سے رو کے گئے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ حکومت اور پی ای آئی کے معا ہدے کی تجدید کی جا ئے گی جس سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کر سکے گی۔مشیر اطلا عا ت سندھ بیرسٹر مر تضیٰ وہا ب نے مزید بتا یا کہ ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز اور آکیوپیشنل سیفٹی اور ہیلتھ کونسل کے قیام کی منظوری دی ہے جبکہ سندھ میں بے سہا را خواتین کیلئے سیف ہاﺅسز کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے یہ تجویز سو شل ویلفیئر ڈیپا ر ٹمنٹ کی جا نب سے دی گئی تھی ان ہا ? سز کے قیا م پر 145ملین رو پے کی لا گت آئے گی۔ انہو ں صو با ئی کا بینہ کے اجلا س کی تفصیلا ت بتا تے ہو ئے کہا کہ بے سہا را خواتین کے لئے سیف ہا ﺅسز کیلئے ڈسٹرکٹ کمیٹیز بنائی گئی ہیں جن کو ڈپٹی کمشنرز ہیڈ کریںگے اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سیف ہاﺅسز کے رولز بنانے کی ہدایت بھی کردی ہیں یہ سیف ہا?سز ہر ضلع میں قائم کیئے جائیں گے انہو ں نے بتا یا کہ کا بینہ اجلا س میں اردو یونیورسٹی آف آرٹ، آرکیٹیکچر، ڈیزائن اور ہیریٹیج سکھر بل 2008 کابینہ میں پیش کیا گیا جو کابینہ نے منظور کرلیا اور اسمبلی بھیجنے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ ایک شاندار ادارہ ہوگا اور اس کی فیکلٹی کے لیے بہترین ماہرین منتخب کیئے جائیں گے سندھ کا بینہ نے سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ایکٹ 2009 کے سیکشن 5(2)میں تر میم کی منظو ر ی دی ہے۔ کابینہ نے سیکریٹری اسکولز اور سیکریٹری کالجز کو اسٹیوٹا بورڈ کا ممبر مقرر کرنے کی بھی منظوری دی سندھ کابینہ کے اجلا س میں نیب کی طرف سے مختلف کمیٹیز کی روشنی میں لینڈ روینیو ایکٹ 1976 میں کچھ ترمیم پر غور کیا گیا یہ ترمیم سیکشن 52 لینڈ اکیوسیشن ایکٹ 1894 کے سیکشن 3 اور سیکشن 23 (2) میں، سیکشن 3 (سی) کی تجاویز ہیںکابینہ نے ترمیم منظور کر تے ہو ئے اسمبلی کو بھیجنے کی منظو ر ی دی ہے۔ کا بینہ اجلا س میں کے فور پروجیکٹ کی ڈیزائن رویوکیلئے نیسپاک کی خدمات حاصل کرنے پر غور کیا گیا اور بتا یا گیا کہ کے فور پروجیکٹ 25.551 بلین روپے کا تھا اور اس کے 50 فیصد فنڈز سندھ اور 50 فیصد وفاقی حکومت کو دینے تھے اب کے فور کے مزید امو ر سامنے آئے ہیں جو کہ کرنے ہیںاس کاموں میں 50 میگاواٹ کا پاور پلانٹ، کچھ روٹس میںتبدیلی وغیرہ شامل ہیںسیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ اور وزیر بلدیات سعید غنی نے کابینہ کو اس سلسلے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہو ئے بتا یا کہ وفاقی حکومت کی بھی خواہش ہے کہ نیسپاک کے فور کے ڈیزائن رویو کرے، یہ پروجیکٹ جب بنایا گیا تھا تو 45 بلین روپے کا تھا پھر اس کو کم کر کے 25 بلین روپے کیا گیا حیسکو کے پا س بجلی فراہم کرنے کیلئے راضی نہیں، اس لئے کے لائن پاور پاور پروجیکٹ لگا رہے ہیں کابینہ نے کے فور پروجیکٹ کیلئے نیسپاک کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دیتے ہو ئے ٹی او آر جلد بنا کر کام شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔مشیر اطلا عا ت نے مزید بتا یا کہ اجلا س میں جونیئر اسکول ٹیچرز پی بی ایس 14 اور ارلی چائلڈ ہوڈ ٹیچرز پی بی ایس 15 کی بھرتیوں کے معیار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور بتا یا گیا اس وقت نئی بھرتیوں کے لئے امیدواروں کے پاسنگ مارکس 60 فیصد ہیں انکو 50 فیصد کیا جائے، اسکول ایجوکیشن کی اس درخواست کی بھی منظوری دی گئی 2017کی بھرتی پالیسی پر بھی نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا یہ فیصلہ اسکولوں کو بہتر انداز میں فعال کرنے کے پیش نظر کیا گیا۔اجلا س میں کمشنر میرپورخاص اور کمشنر شہید بینظیرآباد کو سندھ کچی آبادی اتھارٹی کا ممبر بنانے کی منظوری دی گئی جبکہ تھر کول فیلڈ کیلئے ایل بی او ڈی واٹر سپلائی اسکیم نصیرآباد کے لئے نیسپاک کی خدمات لینے پر بھی غور کیا گیا۔اس مو قع پر سیکریٹر ی آبپا شی نے کابینہ ارا کین کو بتا یا کہ ایل بی او ڈی کے پانی کا معیار بہت زیادہ خراب ہے اس پانی کو الٹرا فلٹریشن میمبرین سسٹم کے ذریعے ٹریٹ کیا جائے صو با ئی وزیر توا نا ئی امتیا ز شیخ نے کا بینہ کو آگا ہ کیا کہ پانچ شو گرملز کا پانی ایل بی او ڈی میں جاتا ہے میں نے شگرملز سے بات کی ہے کہ وہ اگلے کریشنگ سیزن سےے پہلے اپنے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں گے ایل بی او ڈی کا 35 کیوسک پانی تھر پہنچایا جارہا ہے 16 میٹرک ٹن کول ہر سال نکالا جائے گا جس سے بجلی پیدا ہوگی نیسپاک کو تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کیلئے یہ اسٹڈی دینے کی منظوری بھی دی گئی ہے اجلا س میں سکھرمیں اروڑ یونیورسٹی کی منظوری دی گئی یہ یو نیورسٹی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت قائم کی جائے گی۔