تحریک بہار عرب ،پاکستان پہنچ گئی …. یا اللہ خیر

محرم راز 
شاہد جتوئی

یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ ہم اسے بھلانے کے جرم کے مرتکب ہوں ۔ایک عشرہ پہلے ایک تحریک طوفان بن کر اٹھی تھی ۔ہر طرف یہ نعرے تھے کہ ہمیں بادشاہت قبول نہیں ۔ہم آمریت کو مسترد کرتے ہیں ہمیں کرپشن برداشت نہیں ہے ۔ہم سیاست پر کچھ خاندانوں کے تسلط کے باغی ہیں ۔ہم سب کا احتساب کریں گے ۔ہمیں اپنی غربت سے نجات حاصل کرنی ہے ۔ہمیں اپنی بیروزگاری کو ختم کرنا ہے۔
دنیا نے دیکھا کہ یہ نعرے لگاتے ہوئے مشرق وسطیٰ سے شمالی افریقہ تک لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے ۔اس کے بعد کئی حکومتوں کے تختے الٹے گئے ۔کہیں فوجی بغاوتیں ہوئیں ۔کہیں محلات پر عوام کی یلغلا ر ہوئی اور انقلابات رونما ہوئے ۔ کہیں خانہ جنگی میں لوگ ایک دوسرے کو کاٹتے رہے اور کہیں لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی ہوئی ۔تاریخ انسانی میں ریاض کے اتنے بڑے رقبے اور ایک ساتھ درجنوں ممالک اور قوموں
کو مختصر عرصے میں اپنی لپیٹ میں لینے والی تحریک پہلے کبھی برپا نہیں ہوتی تھی ۔اس تحریک کو تاریخ میں بہار عرب کی تحریک (عرب اسپرنگ موومنٹ )کا نام دیا جاتا ہے۔

تحریک بہار عرب کے نتیجے میں تیونس میں صدر زین العابدین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ۔مصر کے حسنی مبارک کو صدارتی محل سے اٹھا کر ایک فولادی پنجرے میں بند کردیا گیا ۔یمن کے علی عبداللہ صالح ہے اپنی جان بچا کر بھاگ گئے ۔
لیبیا کے کرنل قذافی کو ایک غار میں پناہ کے دوران خوفناک موت سے دوچار کیا گیا ۔عراق کے حکمران صدام حسین کو پھانسی دینے کی ویڈیو پوری دنیا کو دکھا کر روئے زمین کو دہشت زدہ کیا گیا ۔بحرین اور شام آج تک لہو لہو ہیں ۔کویت ،لبنان اور عمان کے حکمرانوں نے مظاہرین کے مطالبات کے آگے سر تسلیم خم کیا ۔مراکش ،اردن اور فلسطین کے حکمرانوں نے عالمی سیاست میں طاقتور حلقوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہے ۔موریطانیہ اور سوڈان سے لے کر دنیا اسلام کے مضبوط قلعہ سعودی عرب کی حکومتیں مظاہروں سے لرز نے لگیں اور انہوں نے اپنی پالیسیاں تبدیل کرکے اس طوفان کے آگے بند باندھا ۔




احتساب ،خوشحالی ،کرپشن کے خاتمے اور حقیقی جمہوریت کے نام پر چلنے والی تاریخ انسانی کی اس انوکھی تحریک کا نتیجہ کیا نکلا ؟2010 کے آخر میں شروع ہونے والی بار عرب کی یہ تحریک 2012 کے آخر میں دم توڑ گئی اور مشرق وسطیٰ سے لے کر شمالی افریقہ تک ایک نہ ختم ہونے والی خزاں دے گئی ۔احتساب کے نام پر وہ حکمران خاندان برباد و تباہ ہوئے ،جن کے بارے میں آج یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ وہ دنیا عرب اور افریقہ کے حقیقی قوم پرست اور سامراج دشمن رہنما تھے ۔اب عرب میں قوم پرستی اور سا مراج دشمنی کی تحریک کمزور ہوگئی ہے اور نہ صرف عرب ممالک شمالی افریقہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ڈکٹیشن پر چل رہا ہے ۔کسی بھی جگہ خوشحالی نہیں آسکی ۔مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی ابھرتی ہوئی معیشتیں تباہ ہو چکی ہیں ۔یہاں بجلی مفت ملتی تھیں تھی ،وہاں اب نہیں گئیں بجلی بھی دستیاب نہیں ہے ۔جہاں تیل پانی سے سستا تھا ،وہاں خون سستا ہوگیا ہے ۔جہاں بے روزگاری الاؤنس ملتا تھا ،آج بیروزگاروں کو معمولی احتجاج پر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے ۔جہاں لوگوں کو مفت مکانات ملتے تھے ،وہاں کے باشندے اب کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی خیرات پر زندہ ہیں ۔تیل اور دیگر قدرتی ذخائر پر کثیر القومی اداروں نے قبضہ کر لیا ہے ۔جن دہشتگردوں نے قیامت صغریٰ والی کاروائیوں سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں سیاسی ہیجان پیدا کیا تھا ،وہاب کثیرالقومی کمپنیوں کے سرمائے سے نئی تنظیم بنا رہے ہیں ۔جمہوریت اور سیاسی استحکام کا خواب بھی شرمندہ کا بھی نہیں ہوا ۔بادشاہوں ،آ مروں اور سیاست پر حاوی خاندانوں کو منظر سے ہٹانے کے بعد اقتدار پر فوجیوں ،سماجی اور سیاسی جڑے نہ رکھنے والے سیاستدانوں نے قبضہ کرلیا اور وہ پہلے والے حکمرانوں سے زیادہ بے رحم اور معاملات سے لاتعلق ہیں ۔غربت ،بے روزگاری کے خاتمے اور خوشحالی کا خواب بھی ٹوٹ گیا ۔لوگ پہلے سے زیادہ بے روزگار ،فاقہ کش اور بے گھر ہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ آئندہ کتنی نسلوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔لوٹ مار کو روکنے کا نعرہ بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کیونکہ مشرق وسطیٰ کے ان ممالک پر کثیرالقومی کمپنیوں نے سارے وسائل پر قبضہ کرلیا ہے ،جن کے سامنے مقامی لوٹ مار کرنے والے معصوم نظر آتے ہیں ۔




لوگوں کو اب احساس ہو رہا ہے کہ احتساب کرپشن کے خاتمے ،آمریت سے نجات اور میرٹ والی بہار عرب کی تحریک عالمی سامراجی طاقتوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی ۔
میں اس بات پر حیران ہوں کہ یہ تحریک پاکستان تک کیوں نہیں پہنچی ۔کیونکہ پاکستان مسلم دنیا کے رہنما ملک کے طور پر انیس سو ستر کے عشرے سے کام کر رہا ہے اور ذوالفقار علی بھٹو نے عرب اور افریقہ کے قوم پرستوں کے ساتھ مل کر جسے سامراج دشمنی کی تحریک میں ہراول بنا دیا تھا اور اس عا مل فیکٹر کو پاکستان کے طاقتور حلقوں نے ہمیشہ بارگیننگ ” پوزیشن کے طور پر استعمال کیا ۔حالانکہ یہ حلقے خود سامراج دشمن نہیں تھے۔
25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتائج میں میری اس حیرت کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔احتساب ،پکڑ دھکڑ ،سیاسی خانوادوں کے خلاف نیب کی کارروائیاں ،سیاسی تصادم کی پیدا ہوتی فضا ،عام لوگوں میں خوف اور بے یقینی ،سیاسی قوتوں کی رسوائی اور کمزوری اور معیشت کی غیر فعالیت ۔
بہار عرب تحریک پاکستان پہنچ چکی ہے ۔یہ اور بات ہے کہ تاخیر سے پہنچی ہے ۔اللہ خیر کرے ۔