کون ہے سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا؟

اپوزیشن  جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جہاں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ ہوا وہاں دوسری طرف حکومت نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے اور سینیٹ اجلاس طلب کرنے کی کارروائی مکمل کرنے کی سمری وزارت پارلیمانی امور کو بھیج دی گئی ہے سیاسی حلقوں میں اس وقت چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف آنے والی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے زور آزمائی کا کھیل شروع ہوچکا ہے۔

صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بنانے میں سب سے اہم کردار سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کا تھا اس وقت عمران خان اور پی ٹی آئی بھی اس معاملے میں ان بورڈ تھی ۔ اب ملک میں سیاسی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے نواز شریف کے ساتھ ساتھ آصف زرداری بھی پابند سلاسل ہیں اس لیے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے اور اس سلسلے میں پہلا پتھر چیئرمین سینیٹ کے دفتر پر مارا جائے چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنا حکومت کے لیے پیغام قرار دیا جا رہا ہے مولانافضل الرحمٰن حکومت کو ہٹانے کے لیے سب سے زیادہ پرجوش اور سرگرم نظر آتے ہیں۔




سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی ہورہی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے موقع پر پتہ چلے گا کہ اس جماعت میں کتنے لوٹے ہیں کون اپنی قیادت کے ساتھ وفادار ہے اور کون غداری کرتا ہے ۔ سابق صدر آصف زرداری حامد میر کو دیے گئے انٹرویو میں پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ہماری طرف سے ایک شخص جائے گا جس کا تعلق خیبر پی کے سے ہے اور اس شخص کو وہ اپنا ہی تحفہ قرار دے چکے ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے اور قیادت سے ناراض ارکان کی تعداد بھی تحریک عدم اعتماد کے موقع پر واضح ہو جائے گی۔