پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے فی لیٹر کمی کے بعد مالکان نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہیں کی، ماہ فروری میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں من مانا 200 روپے تک ازخود اضافہ کر دیا تھا،

میرپورخاص== تحسین احمد خان === پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے فی لیٹر کمی کے بعد مالکان نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہیں کی، ماہ فروری میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں من مانا 200 روپے تک ازخود اضافہ کر دیا تھا، آر ٹی او کے مطابق سکریٹری ٹرانسپورٹ کو لیٹر ارسال کرنے کے باوجود 2016 کے بعد سے نئے کرایہ نامہ کی فہرست جاری نہیں کی ہے، مسافر ٹرانسپورٹروں کے ہاتھوں لوٹنے لگے تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے فی لیٹر کمی کے بعد بھی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی نہیں کی گئی ہے 15 فروری کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے لیٹر اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان نے مختلف شہروں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں

میں از خود اضافہ کر دیا گیا تھا میرپورخاص سے کراچی جانے والی اے سی کوچ کا کرایہ 500 سو روپے سے بڑھا کر 700 روپے، نان اے سی کوچ کا کرایہ 380 روپے سے بڑھا کر ساڑھے چار سو روپے، میرپورخاص سے حیدرآباد جانے والی اے سی کوچ کا کرایہ 150 سے بڑھا کر دو سو روپے، نان اے سی کوچ کا کرایہ 140 سے بڑھا کر 180 روپے، حیدرآباد جانے والی وین کا کرایہ 160 روپے سے بڑھا کر 220 روپے، میرپورخاص سے عمرکوٹ جانے والی اے سی کوچ کا کرایہ 250 روپے سے بڑھا کر 300 سو روپے، نان اے سی کوچ کا کرایہ 150 سے بڑھا کر 200 روپے، سانگھڑ جانے والی کوسٹر کا کرایہ 180 سے بڑھا کر 220 روپے، وین کا کرایہ 200 سو روپے بڑھا کر 240 روپے اس طرح میرپورخاص سے دیگر چھوٹے بڑے شہروں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مالکان نے از خود اضافہ کر دیا تھا لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے لیٹر کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان نے کرایوں میں کمی نہیں کی ہے اور مختلف شہروں کا سفر کرنے والے مسافروں سے ذائد کرایہ وصول کیا جا رہا ہے رابطہ کرنے پر ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر محمد خالد نے بتایا کہ 2016 کے بعد سے سکریٹری ٹرانسپورٹ نے کرایوں میں ردوبدل کی فہرست جاری نہیں کی ہے سندھ کے تمام اضلاع کے آر ٹی او کی

جانب سے سکریٹری ٹرانسپورٹ کو کئی مرتبہ کرایوں کی نئی فہرست جاری کرنے کیلئے تحریری طور پر لیٹر ارسال کئے لیکن سکریٹری ٹرانسپورٹ کی جانب سے نئے کرائے نامے فہرست جاری نہیں کی جا رہی ہے جبکہ آر ٹی او کو کرایہ نامہ مرتب کرنے کا اختیار نہیں ہے اس حوالے سے مسافروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کی مجرمانہ غفلت، لاپرواہی اور خاموشی کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کرایوں میں من مانا اضافہ کر کے مسافروں کو لوٹنے میں مصروف ہیں مسافروں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، سکریٹری ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نیا کرایہ نامہ جاری کر کے ٹرانسپورٹروں کو پابند کیا جائے اور مسافروں کو لوٹنے سے بچایا جائے٭٭