حکومت سندھ نے ہاکس بے اسکیم 42 میں صحافیوں کے 210 پلاٹس کی میوٹیشن سمیت دیگر معاملات کو قانونی طور پر حل کرنے اور معزز عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں فوری اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری

کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ نے ہاکس بے اسکیم 42 میں صحافیوں کے 210 پلاٹس کے حوالے سے سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔ مذکورہ اسکیم کی زمین کی میوٹیشن سمیت دیگر معاملات کو قانونی طور پر حل کرنے اور معزز عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں فوری اقدامات کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور وزیر رونیومخدوم محبوب الزماں کی زیر صدارت رونیو وزیر کے دفتر میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو شمس الدین سومرو، اسپیشل سیکرٹری بلدیات اسحاق مہر، ڈی جی ایل ڈی اے بدر جمیل میندرو، ایل ڈی اے کے ایگزیکیٹو انجنئیر آغا محمد علی، لاء آفیسر عرفان ابڑو، کنسلٹینٹ لینڈ قاضی خالد،اسسٹینٹ اکاؤنٹس آفیسر ایل ڈی اے مزمل احمد سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایل ڈی اے اسکیم 42 کی زمین کی میوٹیشن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ اسکیم 42 میں 1984 سے 2008 تک ہزاروں افراد کو مختلف ادوار میں قرعہ اندازی کے ذریعے پلاٹس فراہم کئے گئے ہیں لیکن زمین کی میوٹیشن اور دیگر قانونی معاملات کے باعث ان افراد کو اب تک پلاٹس کا قبضہ نہیں دیا جاسکا ہے، اس لئے اس معاملے کا جلد سے جلد قانونی حل نکال کر ان پلاٹس کے مالکان کو قبضہ دیا جائے تاکہ وہ وہاں اپنے گھر تعمیر کرسکیں۔ اس موقع پر سنیئر ممبر بورڈ آف رونیو نے کہا کہ زمین کی میوٹیشن میں تین مختلف مراحل ہیں، جن میں پہلے جو زمین ایل ڈی اے کو دی گئی تھی، اس کی اسکرونٹی کمیٹی نے نرخ فائنل کئے تھے اور اس کی کچھ ادائیگی بھی ایل ڈی اے نے کردی تھی تاہم اب بھی ادائیگی ہونا باقی ہے، اس لئے ایل ڈی اے کو ہم اس کا دوبارہ چالان جاری کردیں گے تاکہ وہ اس کی ادائیگی کردے جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں جو زمین جو تقریباً 6 ہزار ایکڑ کے لگ بھگ ہے اس کی اسکرونٹی کمیٹی نے قیمت کا تعین نہیں کیا ہے، اس لئے اس کے لئے اسکرونٹی کمیٹی کا اجلاس جلد طلب کرکے اس کی قیمت کا تعین کردیا جائے گا تاہم کچھ زمین ایسی تھی، جس پر کچھ اشیوز تھے یا زمین نہیں دی جاسکی اس کے متبادل زمین کی فراہمی کے لئے بھی محکمہ رونیو اقدامات کرے گا۔




اس موقع پر وزیر بلدیات اور وزیر رونیو نے صحافیوں کے 210 پلاٹس کے حوالے سے بریفنگ لی اور ہدایات دی کہ ایل ڈی اے کے ڈی جی اور دیگر افسران فوری طور پر صحافیوں کے پلاٹس کے معاملے پر نظرثانی کریں اور 210 پلاٹس کے لئے زمین مختص کی جائے اور انہیں فوری طور پر زمین الاٹ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز بھی صحافیوں کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر اس سلسلے میں احتجاج کیا گیا اور سندھ اسمبلی میں بھی اس پر ہم نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا معاملہ جلد سے جلد حل کرلیا جائے گا۔ اجلاس میں دونوں صوبائی وزراء نے کہا کہ ہماری اولین ترجیع ہے کہ صوبے بھر میں ہاؤسنگ اسکیموں کو جلد سے جلد زمین کی الاٹمینٹ کردی جائے تاکہ وہاں پلاٹس حاصل کرنے والے اپنے مکانات تعمیر کرسکیں۔