زری پالیسی کمیٹی 2019ء اجلاس

1۔ زری پالیسی کمیٹی نے اپنے 16 جولائی 2019ء کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 100 بی پی ایس بڑھا کر 13.25فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہےجو 17 جولائی 2019ء سے مؤثر ہوگا۔ اس فیصلے میں 20مئی 2019ء کے زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے شرح مبادلہ میں کمی کی بنا پر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور یوٹیلٹی کی قیمتوں میں حالیہ ردّوبدل کےا یک بارکے اثر اور مالی سال 20ء کے بجٹ کے دیگر اقدامات کے نتیجے میں مختصر مدت میں ہونے والی مہنگائی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔اس فیصلے میں طلب کے مدھم پڑتے ہوئے اظہاریوں کی بنا پر مہنگائی کے دباؤ میں کمی کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ ان عوامل کے پیش نظر زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 20ء میں اوسط مہنگائی 11-12 فیصد رہے گی جو پہلے کی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔ تاہم مالی سال 21ء میں جب حالیہ اضافے کے بعض اسباب کا ایک بار کا اثر گھٹے گا تو مہنگائی میں خاصی کمی آنے کی توقع ہے ۔
2۔ شرح سود کے بارے میں اس فیصلے کے حوالے سے زری پالیسی کمیٹی اس نقطہ نظر کی حامل ہے کہ ماضی کے عدم توازن کی وجہ سے شرح سود اور شرح مبادلہ میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ آگے چل کر زری پالیسی کمیٹی آئندہ کے معاشی حالات اور اعدادوشمار کے مطابق اقدامات کرنے کے لیے بھی تیار رہے گی۔ مہنگائی میں غیرمتوقع اضافے جو اس کے منظر نامے پر منفی اثر ڈالیں مزید معتدل سختی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ دوسری طرف ملکی طلب میں توقع سے زیادہ نرمی اور مہنگائی میں کمی زری حالات میں نرمی کی بنیاد فراہم کرے گی۔

3۔ اس فیصلے پر پہنچنے کے لیے زری پالیسی کمیٹی نے 20مئی 2019ء کو منعقدہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس سے لے کر اب تک معاشی حالات ، حقیقی بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کے منظرنامے پر غورو خوض کیا تھا۔
گذشتہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد اہم تبدیلیاں
4 ۔ گذشتہ زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد تین کلیدی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اوّل، حکومت پاکستان نے مالی سال 2020ء کا بجٹ منظور کیا ہے جس میں محاصل کو بڑھانے کے اقدامات کے ذریعے ٹیکس بیس کو وسیع کرتے ہوئے مالیاتی پائیداری کو معتبر انداز میں بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ یوٹیلٹی کی قیمتوں اور بجٹ کے دیگر اقدامات سے مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی میں قیمتوں میں ایک بار خاصا اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا عزم کیا ہے جس سے مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری آئے گی۔ دوم، آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پہلی قسط کی موصولی، تیل کی سعودی سہولت کے بروئے کار آنے اور کثیر طرفہ و دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے امداد کے دیگر وعدوں کے نتیجے میں بیرونی مالکاری کا منظر نامہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ مسلسل گھٹ رہاہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دباؤ میں کمی آتی جارہی ہے۔ دوسری جانب پچھلے زری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد سے شرح مبادلہ میں کمی سے مہنگائی کا دباؤ بڑھا ہے۔ آخراً، بین الاقوامی محاذ پر ابھرتی ہوئی منڈیوں کی جانب احساسات بہتر ہوئے ہیں اور امریکہ میں پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی زیادہ توقعات ہیں۔



حقیقی شعبہ
5۔ مالی سال 19ء میں ملکی طلب کے کم ہوکر تقریباً 3 فیصد اور جی ڈی پی نمو کے 3.3 فیصد ہوجانے کا امکان ہے۔ اگرچہ موجودہ بلند تعدّد اظہاریے (high frequency indicators)معاشی سرگرمی میں سست رفتاری کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام، شعبہ زراعت کی بحالی اور برآمدی صنعتوں کے لیے حکومتی ترغیبات کے بتدریج اثر سے پیدا ہونے والے مارکیٹ کے بہتر احساسات کے نتیجے میں سال کے دوران یہ صورت ِحال تبدیل ہونے کی توقع ہے۔اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 20ء میں حقیقی جی ڈی پی نمو لگ بھگ 3.5 فیصد رہے گی مگر یہ تازہ ترین دستیاب معلومات سے مشروط ہے۔
بیرونی شعبہ
6۔ بیرونی حالات میں مسلسل بہتری دکھائی دے رہی ہے اور جولائی تا مئی مالی سال 19ء میں جاری کھاتے کا خسارہ 29.3 فیصد کم ہوکر 12.7 ارب ڈالر ہوگیا ہےجبکہ یہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 17.9 ارب ڈالر تھا۔اس بہتری کی بنیادی وجہ درآمدی سکڑاؤ اور کارکنوں کی ترسیلات ِزر کی بھرپور نمو ہے۔ برآمدی حجم بڑھتا رہا ہے حالانکہ اکائی قیمتوں میں کمی کے باعث برآمدی قدریں پست رہی ہیں جیسا کہ حریف برآمدی ممالک کو بھی تجربہ ہوا ہے۔ برآمدی کارکردگی میں آئندہ تبدیلیوں کا انحصار بھی ہمارے تجارتی شراکت داروں کی شرح نمو اور ملکی ساختی رکاوٹیں دور کرنے میں پیش رفت پر ہوگا۔
7۔ آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کی پہلی قسط کی موصولی کے بعد 12 جولائی 2019ء کو اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کرتقریباً 8 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔ سعودی تیل کی سہولت سمیت دیگر عالمی قرض دہندگان کی جانب سے مزید رقوم کی آمد اور جاری کھاتے کے خسارے میں مسلسل بہتری کے نتیجے میں توقع ہے کہ ذخائر مالی سال 20ء کے دوران مزید بڑھیں گے۔ ماضی میں شرح مبادلہ کی زائد قدر سے نمٹنے کے لیے حقیقی موثر شرح مبادلہ میں جو ردّوبدل ضروری تھا، شرح مبادلہ میں حالیہ تبدیلی کے نتیجے میں اس کا بڑا حصہ مکمل ہوگیا ہے۔ اگر چہ شرح مبادلہ لچکدار ہے اور مارکیٹ کے مطابق اس کا تعین ہوتا ہے تاہم اسٹیٹ بینک بازار ِمبادلہ میں انتشار سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔



مالیاتی شعبہ
8۔ مالی سال 19ء میں مجموعی مالیاتی اور بنیادی خسارے دونوں بڑھے جس کا بڑا سبب محاصل کی وصولی میں نمایاں کمی ، بجٹ سے بڑھ کر سودی ادائیگیاں اور امن و امان سے متعلق اخراجات تھے۔مالی سال 20ء کے بجٹ میں ٹیکسیشن نظام میں طویل عرصے سے موجود کمزوریوں کو دور کرکے اور معاشی سرگرمیوں کی دستاویزیت بڑھا کر مالیاتی بگاڑ کے حالیہ رجحان کو معتبر انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ٹیکس وصولی کے ایک بلند ہدف اور اخراجات پر سخت کنٹرول کی مدد سے بجٹ میں بنیادی خسارے میں نمایاں کمی کرنے کا منصوبہ رکھا گیا ہے۔ اس مالیاتی یکجائی سے اسٹیٹ بینک کی استحکام کی پہلے سے جاری پالیسیوں کو تقویت ملے گی۔
9۔ زری پالیسی کے نقطہ نظر سے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ ختم کرنے کے مضبوط حکومتی عزم اور اسٹیٹ بینک کی تحویل میں واجب الادا قرضوں کی تشکیل نو کے لیے واجبات کے انتظام کے آپریشن پر عملدرآمد سے زری پالیسی کی ترسیل کو فائدہ پہنچے گا جبکہ آگے چل کر مارکیٹ کی مہنگائی کی توقعات بھی معتبر طور پر قابو میں رہیں گی۔



زری پالیسی اور مہنگائی کا منظرنامہ
10۔ استحکام کے اثرات کی عکاسی کرتے ہوئے نجی شعبے کے قرضے کی نمو بھی کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔ یکم جولائی سے 28 جون مالی سال 19ء کے دوران نجی شعبے کا قرضہ 11.4 فیصد بڑھا ہے جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں 14.8 فیصد بڑھا تھا۔ قرضے کی رفتار میں کمی حقیقی لحاظ سے زیادہ نمایاں تھی کیونکہ نجی شعبے کے قرضے میں زیادہ تر اضافہ خام مال کی بلند قیمتوں کی وجہ سے ہوا جس نے کاروباری اداروں کی جاری سرمائے (working capital) کی ضروریات کو بڑھا دیا۔اس کے ہمراہ بلند میزانیہ قرضوں کے نتیجے میں بینکاری نظام کے خالص ملکی اثاثوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر یکم جولائی سے 28 جون مالی سال 19ء کے دوران زر ِوسیع (ایم ٹو) 12.2 فیصد بڑھ گیا جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 10.0 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ آگے چل کر رسد ِزر کی ہیئت ترکیبی تبدیل ہونے کی توقع ہے کیونکہ بینکاری نظام کے خالص بیرونی اثاثوں میں بہتری کی پیشگوئی ہے جبکہ خالص ملکی اثاثوں کی نمو میں نمایاں کمی آئے گی۔



11۔ اسٹیٹ بینک سے بلند حکومتی قرض،شرح مبادلہ میں کمی کے مؤخر اثر،ایندھن کی ملکی قیمتوں میں اضافے اور غذائی اشیا کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث مالی سال 19ء میں مہنگائی نمایاں طور پر بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگئی۔جون 2019ء میں مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI) 8.9 فیصد تھی اور یوٹیلٹی کی قیمتوں میں ردّوبدل کے ایک بار کے اثر اور مالی سال 2020ء کے بجٹ کے دیگر اقدامات کے باعث مختصر مدت میں اس کے مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ مالی سال کی دوسری ششماہی میں یہ دباؤ کم ہونے کا امکان ہے اور زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 20ءمہنگائی اوسطاً 11-12 فیصد رہے گی۔زری پالیسی کمیٹی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مہنگائی کی ان پیش گوئیوں سے ظاہر ہونے والی حقیقی شرح سود اور آج کا پالیسی ریٹ کا فیصلہ مجموعی طلب کی دَوری کمزوری کے پیش نظر موزوں سطح پر ہیں۔