نامور ادیب حمایت علی شاعر انتقال کرگئے

پاکستان کے معروف ادیب حمایت علی شاعر طویل عرصے کی علالت کے بعد دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔
حمایت علی شاعر کا انتقال 93 برس کی عمر میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہوا،  جبکہ ان کی تدفین بھی وہیں ہوگی۔
انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور وہیں سے اپنے لکھنے کے سفر کا آغاز کیا۔ حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیویژن، فلم اور تحقیق شامل ہیں۔ ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں جن میں ’خوشبو کا سفر‘ ، ’عقیدت کا سفر‘،’لب آزاد‘  کافی مقبول ہیں۔ حمایت علی شاعر نے ‘آگ میں پھول، ‘مٹی کا قرض اور ‘شکست آرزو نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جن کے لیے انہیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا بھی جاچکا ہے۔ حمایت علی شاعر نے ‘لوری نامی ایک فلم پروڈیوس بھی کی تھی جو اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ ان کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی ’تجھ کو معلوم نہیں‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔