دیکھا جو آنکھوں نے ….. دیر کر دی مہرباں آتے آتے …. گوروں کو منزل پر پہنچنے میں 44 سال لگ گئے

تحریر : طارق اقبال  (بیورو چیف کویت)
ورلڈکپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2019 کئی خوشگوار اور حیرت انگیز یادیں لیے اختتام کو پہنچ گیا ،کرکٹ کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں جو سوچا جاتا ہے ،یعنی Predict کیا جاتا ہے ،اس کے برعکس نتائج سامنے آجاتے ہیں، کرکٹ خالصتاً انگریزوں کا کھیل ہے ،تقریباً اڑھائی سو سال پہلے اس کھیل کے کچھ اصول بنائے گئے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز ہو گیا،یہ کالونیل ازم کا دور تھا ،انگریزوں کو دنیا فتح کرنے کا جنون تھا،وہ جس ملک پر قبضہ کرتے وہاں اس کھیل کو بھی لے جاتے،انیسویں صدی کے آخر تک کرکٹ دنیا کے ایسے کئی ممالک کا مقبول ترین کھیل بن چکا تھا جہاں برطانوی حکومت کا راج تھا،1879 میں پہلی مرتبہ آسٹریلیا اور انگلینڈ نے ملکی سطح پر مقابلہ کا آغاز کیا اور تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ میلبورن،آسٹریلیا کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلا گیا،وقت گذرتا گیا ،ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ ، انڈیااور جنوبی افریقہ بھی اس قافلہ میں شامل ہو گئے، پاکستان انڈیا کی تقسیم کے بعد وجود میں آیا ،

اس لئے آزادی کے پانچ سال بعد اسے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا، تقریباً ایک صدی تک صرف ٹیسٹ کو ہی کرکٹ سمجھا جاتا تھا،ااس لئے عام الناس میں یہ کھیل زیادہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا ،ساٹھ کی دہائی میں آسٹریلیا اور انگلینڈ نے ہی محدود اوورز کی کرکٹ شروع کی ،جن میں نتیجہ ایک ہی دن میں نکلتا تھا، خاص بات یہ تھی کہ نتیجہ ضرور آتا تھا جبکہ ان دنوں 80 فیصد ٹیسٹ میچز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوتے تھے، ون ڈے میچوں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 1975 میں پہلے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا گیا جو انگلینڈ میں کھیلا گیا ،انگلینڈ نے اتنے بڑے ٹورنامنٹ کی میزبانی کی مگر فائنل تک نہ پہنچ سکی،فائنل آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا گیا، ویسٹ انڈیز ٹیم پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بن گئی،دوسرا ورلڈکپ 1979 میں انگلینڈ میں ہی کھیلا گیا ،انگلینڈ پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچ گئی، ویوین رچرڈز کی سنچری اور کالس کنگ کی دھواں دھار بیٹنگ نے ویسٹ انڈیز کو پھر چیمپئن بنوا دیا۔




انگلینڈ دوسری مرتبہ 1987 میں فائنل تک پہنچی ،وہ جیت کے بہت قریب پہنچ کر ہار گئے ،7 رنز کی شکست نے گوروں پر بڑے گہرے نقوش چھوڑے، اگلا ورلڈ کپ 1992 میں آسٹریلیا میں کھیلا گیا،میدان میلبورن کا ہی تھا جہاں 113 سال پہلے انگلینڈ نے پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا لیکن شکست ایک مرتبہ پھر گوروں کا مقدر ٹھہری،وہ پاکستان کا دن تھا،وسیم اکرم اپنے کیرئر کے عروج پر تھے ،انہوں نے دو مسلسل گیندوں پر ایلن لیمب اور لوئس کو آوٹ کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا،اس کے بعد گوروں کو 27 سال بعد 2019 میں فائنل تک رسائی ملی،مقابلہ نیوزی لینڈ سے تھا جو مسلسل دوسری مرتبہ فائنل میں پینچی تھی، یہ بارہواں ورلڈکپ فائنل تھا لیکن اس سے زیادہ اعصاب شکن اور سنسنی خیز فائنل پہلے کبھی نہیں کھیلا گیا تھا ،مقررہ اوورز میں دونوں ٹیموں کا اسکور برابر ،میچ ٹائی، سپر اوور میں بھی دونوں ٹیموں کا اسکور برابر ،اعداد و شمار کے گورکھ دھندے نے انگلینڈ کو فاتح بنا دیا, گوروں کے بنائے ہوئے اعدادوشمار نے ان کو چیمپئن بنا دیا، حالانکہ ایسی صورتحال میں دونوں ٹیموں کو مشترکہ طور پر بھی چیمپئن قرار دیا جا سکتا تھا، گوروں نے 44 سال پہلے اپنے ملک میں عالمی کپ مقابلوں کا آغاز کیا تھا تاہم اسے کپ تک پینچنے میں 44 سال لگ گئے۔




بارہویں ورلڈ کپ کیلئے جو قوانین بنائے گئے ان کا براہ راست فائدہ یورپی ٹیموں کو ہوا، گروپ میچوں میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے پوائنٹس برابر تھے ،گروپ میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو واضح فرق سے ہرایا تھا ،مگر اعدادوشمار کا چکر دے کر نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل تک رسائی مل گئی ،فائنل میں سپر اوور کے برابر ہونے پر دونوں ٹیموں کو مشترکہ چیمپئن قرار دے دیا جاتا یا ایک ایک سپر پاور اور دے دیا جاتا ، نیوزی لینڈ کے شائقین کو بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہوگی کہ ٹرافی ہاتھ میں آکر نکل گئی ،جب دو گیندوں پر تین رنز درکار تھے تو نیوزی لینڈ کے ڈریسنگ روم میں جشن کا سماں تھا لیکن پہلی چار گیندوں پر تیرہ رنز بنانے والے کھلاڑی دو گیندوں پر تین رنز نہ بنا سکے،نیوزی کو فائنل تک پہنچنے اور چیمپئن بننے میں مزید کتنے سال لگیں گے ،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔