راہ چمن …… تحریر : چوہدری عبدالغفور خان

وزیر اعظم نے فرمایا کہ آج تک ٹورازم میں اتنا کام نہیں ہوا جس کا پاکستان مستحق ہے

آج وزیر اعظم پاکستان کا پیغام وصول ہوا کہ آپ کی کل دس بجے وزیر اعظم صاحب سے ون ٹو ون میٹنگ ہے ملاقات شروع ہوئی اور بعد میں پرنسپل سیکرٹری بھی ملاقات کا حصہّ بن گئے اور فیصلہ ہوا کہ مجھے پاکستان ٹورازم کو دیکھنا ہے۔ وزیر اعظم نے فرمایا کہ آج تک ٹورازم میں اتنا کام نہیں ہوا جس کا پاکستان مستحق ہے میں پنجاب گورنمنٹ میں بطور وزیر جیل خانہ جات سے لیکر انڈسٹری ،خوراک ،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور دوسری اہم وزارتوں کا وسیع تجربہ رکھتا ہوں اور بحیثیت وزیرِ مہمان داری اپنا رول بخوبی نبھا چکا ہوں جیل اصلاحات سے لیکر فوڈ اتھارٹی تک مختلف اصلاحات کی ہیں۔ ٹورازم میرا Passion تھا میں نے بخوشی یہ ذمہ داری سنبھالنے کیلئے آمادگی ظاہر کر دی اور کہا کہ میں یہ ذمہ دار ی بغیر کسی تنخواہ اور TA/DAکے قبول کرتا ہوں اور جتنے وزٹ ٹورازم کی پرموشن کیلئے اندرون اور بیرون ملک کرونگاپاکستان کی محبت میں ڈیپارٹمنٹ سے کچھ نہیں لونگااور ایسا ہی ہوا۔ ٹورازم دنیا میں فیڈرل سبجیکٹ ہے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں Devolve کردیا گیا اور شاید کسی کو نوازنے کیلئے کیا گیا جس کے خلاف آج بھی میری پیٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پینڈنگ ہے ۔
ہم نے مختلف یونیورسٹیوں سے رابطہ کر کے تعاون مانگا جن میں پنجاب یونیورسٹی لاہور اور دوسری قابل ذکر یونیورسٹیوں کے نام ہیں ۔ ٹورازم کی پرموشن کیلئے مختلف ایئرلائنز سے رابطے کیے جن میں ٹرکش ایئر لائنز سے لیکر دنیا کی دوسری بڑی ایئر لائنز شامل ہیں ۔ دنیا کے مختلف سفارت کاروں سے ٹورازم کی پرموشن کیلئے میٹنگز کیں ۔ ٹورازم کی پولیس بنانے کیلئے خصوصی طور پر تھائی لینڈ کے ٹورازم چیف اورتھائی ٹورازم پولیس کے سینیئرز سے بنکاک میں تھائی گورنمنٹ اور خاص طور پراسلام آباد میں تھائی سفیر کے تعاون سے مختلف میٹنگز کیں۔ میڈرڈ (سپین ) میں سیکرٹری جنرل UNWTOکی دعوت پر ورلڈ کانفرنس میں بحیثیت MD ٹورازم شرکت کی اور اگلی ورلڈ ٹورازم کانفرنس پاکستان منعقد کرنے کی درخواست کی میری درخواست پر سیکرٹری جنرل UNWTO نے ریجنل ہیڈز UNWTO’s کو پاکستان بھیجا اورمیرے دفتر میں تین دن کی مسلسل میٹنگز کے بعد اس سال اپریل میں UNWTO کی کانفرنس پاکستان میں فائنل ہوگئی تھی۔ پاکستان ٹورازم کو مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا جن میں 1۔مذہبی ٹورازم -2ہیلتھ ٹورازم3 ۔ایجوکیش ٹورازم 4۔ سپورٹس ٹورازم 5۔ایوی ایشن ٹورازم 6۔کلچرل ٹورازم7۔ایگری ٹورازم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔



دنیا میں مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں کی پاکستان میں کانفرنس کروائی گئی اور انھیں شمالی علاقہ جات اور دوسری اہم جگہوں کے وزٹ بھی کروائے گئے اور وہ لوگ پاکستان میں بخوشی بڑی سرمایہ کیلئے تیار ہوگئے تھے۔سعودی عرب کے ایک شہزادہ کی ٹورازم کمپنی پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کیلئے تیار تھی۔ پاکستان کے تمام چیمبرز آف کامرس کی کٹاس راج (کلر کہار چکوال) میں انویسٹمنٹ کانفرنس کی ۔ تمام بزنس مین ٹورازم میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہوگئے تھے ۔ اس طرح بہت سے اقدامات کیے گئے جن کواس وقت ضبط تحریر میں لانا مشکل ہے۔جنا ب وزیر اعظم آپ نے ہمیشہ سیاحت کی بات کی ہے جو اس سے پہلے شاید کسی اور نے نہیں کی ۔ Pakistan is a Truly Paradise میں نے ٹورازم کی پرموشن کیلئے Mick Dawson جس کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے اور یہ ریور رافٹنگ کا چیمپئن ہے اسے اپنا Brand Ambassadorبنا یا ۔جناب وزیر اعظم اگر ٹورازم پر کام کیا جائے تو ہماری چند سالوں میں IMF سے جان چھوٹ سکتی ہے ۔دنیا کے بہت سے ممالک کی معیشت کا دارومدار ٹورازم پر ہے ۔ یقین کریں وزیر اعظم صاحب ٹورازم پاکستان کا ٹوٹل بجٹ دے سکتی ہے۔ میری جناب نعیم الحق سے وزیر اعظم آفس میں طویل ملاقات ہوئی عرض کی کہ بقول وزیر اعظم آپ ایک سال میں ٹورازم سیکٹر میں چار نئی سائیڈزمتعارف کروانا چاہتے ہیں۔ جو کہ پانچ سال میں 20 بنتی ہیں۔ ہم ایک سال میں 40نئی سائیڈزمتعارف کروا سکتے ہیںاور حکومت پاکستان کا ایک پیسہ بھی نہیں لگے گا میں آپ سے کچھ مانگنے نہیں آیا۔ میں نے بطور MD پاکستان ٹورازم اپنا ہوم ورک مکمل کیا ہوا ہے آپ صرف مجھ سے بریفنگ لے لیں۔ جناب وزیر اعظم! آپ رات دن پاکستان اور عالم اسلام کیلئے انتھک کام کر رہے ہیں آپ نے اپنے اوپر آرام کو بھی حرام سمجھا ہوا ہے ۔جناب وزیر اعظم انڈر ٹریننگ لوگ اس طرح کام نہیں کر سکیں گے جو آپ کا وژن ہے۔ اگرآپ ٹورازم اور زراعت کواپنی ترجیحات میں رکھ لیں تو پاکستان پر لگے گہرے زخموں پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔ہر غریب آدمی جو مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اُسے ریلیف مل سکتا ہے۔



وزیر اعظم صاحب Domestic ٹورازم اور انٹرنیشنل ٹورازم کو علیحدہ علیحدہ دیکھئے! جس ملک میں 22کروڑ لوگ رہتے ہوں اور اکثریتی آبادی کا Passion سیاحت ہو ۔لوگوں کے پاس تمام ترمشکلات کے باوجود وسائل بھی ہوں اُس ملک میں ڈالر اور روٹی مسئلہ ہوں کبھی کبھی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی اور عمران خان صاحب جیسے سٹیٹس مین کے ہوتے ہوئے بھی یہ نہ ہوسکا تو شاید کبھی نہ ہوسکے ۔میں PTDC جو کہ ایک Devolved ڈیپارٹمنٹ ہے اورٹورازم کی پرموشن کیلئے کوئی فنڈز بھی نہیں ہیں اسکے باوجود دُنیا کو منوا دیا تھا کہ پاکستان Switzerland سے بھی زیادہ خوبصورت ملک ہے۔ UNWTO جس میں ورلڈ کے تقریباََ 157 ممالک ہیں اُنکی کانفرنس پاکستان منعقد کروانے جارہا تھا۔OIC کے تمام ممالک کے سیاحت کے ذمہ داران کو پاکستان میں مدعو کرنے کا پروگرام زیر غور تھا ۔اسلام آباد سٹی ٹورز کا افتتاح گورنر پنجاب سے کروا کے امریکن ایمبیسی کے ذمہ داران اسلام آباد سٹی کا ہماری کوچزپر وزٹ کرنے جارہے تھے۔PTDC کی ڈاکومینٹری کیلئے معاونت کیلئے ISPR سے درخواست کر چکا تھا ۔ ایئر چیف سے مل کر ٹورازم کی پرموشن کیلئے C130 اور 40سیٹرز ایئر کرافٹ ٹیرف فائنل کر رہے تھے۔ آرمی ایوی ایشن کے چیف سے مل کر تعاون کی درخواست کرچکے تھے ۔قطر سے لیکر تھائی لینڈ ، کویت ، سپین ، کوریا، ایران ، ترکی، انگلینڈ اور دوسرے ممالک کا اپنے خرچے پر ٹورازم کی پرموشن کیلئے وزٹ کے ساتھ ساتھ جرمنی ، سعودی عرب، کوریا، کینیڈا، بیلا روس اور تمام سنٹرل ایشین اسٹیٹس اور دوسرے ممالک کے سفیروں اور دیگر سفارت کاروں کو ٹورازم کیلئے Onboard پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے شہر میں فوکل پرسن اور دنیا کے دوسرے ممالک میں کوآرڈینیٹرزبرائے ٹورازم کیلئے درخواست کرچکا تھا۔ جنھوں نے پاکستان ٹورازم کی پرموشن کیلئے کانفرنسزکا انتظام کیا ہوا تھا ۔



دنیا کے کئی مذہب کے مقدس مقامات پاکستان میں ہیں جن میں سکھ، ہندو، بُدھ مت قابل ذکر ہیں مگر بد قسمتی سے ہم نے اس پر پہلے توجہ ہی نہیں دی۔ میں بطور MDپاکستان ٹورازم مختلف اداروں سے مل کر اس پر کام کررہا تھا اورایک سپیشل لگثری مذہبی ٹرین لاہور سے نظام الدین دہلی اور اجمیر شریف سے لے کر ہندو اور سکھ مذاہب کیلئے بھی چلانا چاہتا تھا۔اُس کیلئے اُس وقت کے وزیر ریلوے کو بھی اعتماد میں لے لیا تھا ۔پہلی دفعہ پاکستان میں ٹورازم TV لا رہا تھا جس پر حکو مت پاکستان کا کوئی فنڈ درکار نہیں تھا ۔پاکستان ٹورازم میں مختلف جگہ سے ہیلی کاپٹرز لینے کیلئے رابطہ میں تھا جو آج بھی ممکن ہے۔ جناب وزیر اعظم ہم آپ کی قابل ٹیم کی جگہ نہیں لے سکتے کم از کم آپ کے قابل ترین لوگوں کو ٹورازم پر بریفنگ دے سکتے ہیں کوئی انسان عقل کل نہیں ہوتا۔جناب وزیر اعظم تقریباََ ایک سال ہونے والا ہے شاید میرے لیے ہوئے اقدامات پر آپکو بریفنگ دی گئی ہیں جن میں ٹورازم پالیسی بھی ہے۔



آپ جس دن ٹورازم پالیسی Announce کر رہے تھے میں بحیثیت پاکستانی اور سابقہ ایم ڈی پاکستان ٹورازم انتہائی خوش تھا یہی ٹورازم پالیسی میں وزیرا عظم سے ہی Announce کرواناچاہتا تھا اور 2019 کو ٹورازم ایئر ڈکلیئر کروانا چاہتا تھا۔PM صاحب کی موجودگی میں دنیا کے مختلف سفیروں کو سٹیج پر بلاکر کہلواناچاہتا تھا کہ بلا شک و شبہ Pakistan is a Truly Paradise جناب وزیر اعظم PTDCمیں قابل لوگ موجود ہیں انکے کام لیں۔ ٹورازم کو اچھے گائیڈز اور دوسرے شعبوں میں پڑے لکھے ، خوش شکل لڑکے اور لڑکیوں کی ضرورت ہیں جو ٹورازم کوایسا انٹرنیشنل ادارہ بنا دیں جوپاکستان کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے Explore کر سکے تاکہ دنیا کے لوگ پاکستان کا رخ کریں اور یہ ڈالر والر پاکستان میںرل جائے اورچھوٹے ، چھوٹے دکان دار بھی دنیا کی ہر کرنسی لے رہیں ہوں۔انشاء اللہ ایک دن ایسا ہو کر رہے گا جناب عالی یہ بحیثیت مسلمان میرا ایمان اور بحیثیت پاکستانی میرا وژن ہے۔ کہ ایک دن دنیا کو پاکستان کا رخ کرنا ہے اور دنیا یہ مانے گی کہ ہم خوشبو کے سوداگر ہیں اور سودا سُچا کرتے ہیں جو گاہک پھولوں جیسا ہو ہم بن داموں بک جاتے ہیں۔ ہم شہر وفا کے لوگوں کا تم حال بھلا کیا جان سکوں ہم دل کی چوٹ بھی سہتے ہیں اور آنسو تک پی جاتے ہیں۔



جناب وزیر اعظم، آج ایک سازش کے تحت پاکستان کے معتبر اداروں مثلاََ نیب، عدلیہ اور فوج کو نشانہ بنایا جارہا ہے پاکستانی قوم کو جواں مردی کے ساتھ دال روٹی کے چکر سے نکالیں تاکہ پاکستانی قوم ان نام نہاد لیڈروں اور ففتھ جنریشن وار کاحصہ بننے والے لوگوں کا راستہ روکنے میں آپ کے شانہ بشانہ ہوں ۔ جناب وزیر اعظم میں آپ کے اور پاکستانی اداروں کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔
 
ساتھیوں صحنِ گلستان کی رونق تم سے ہے
جہدِ مسلسل سے اسے سجائے رکھنا
راستہ میں بھیڑ بھی پڑی ہے
ابھی سے بتا دیں تمھیں
اب ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے
تو پھر ملائے رکھنا