ڈپلومیٹک ویمؤنز کمیٹی کویت کی جانب سے عہد ساز فوٹوگرافر جوزف شاگرہ کو الوداع

ڈپلومیٹک ویمؤنز  کمیٹی کویت کی جانب سے عہدساز فوٹوگرافر جوزف شاگرہ کو الوداع کہنے کے لئے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔جوزف بنیادی طور پر شام سے تعلق رکھنے والے ایک عہد ساز فوٹوگرافر ہیں جنہوں نے اس فیلڈ میں پچاس سال کیمرے کے پیچھے گزاردیے اور اپنے کیمرے کی آنکھ سے انتہائی اہمیت کے حامل لمحات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا۔ان کی تصاویر کھینچنے کی خاص بات ہمیشہ بہترین ٹائمنگ اور بہترین زاویہ ۔جوزف انیس برس تک کویت ٹائمز نیوز پیپر کے ساتھ منسلک رہے ۔

اظہار انہوں نے کئی بین الاقوامی علاقائی اور مقامی اہمیت کے حامل پروگراموں تقاریب اور ایونٹس کی کوریج کی اور اپنی بہترین تصاویر کی وجہ سے وہ مشہور اور مقبول ہوئے اور ہمیشہ لوگوں سے داد پاتے رہے ۔کویت کے میڈیا سرکل میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔جوزف شاگرہ نے کویت میں اپنی آمد اور یہاں اپنے قیام کے دوران ہونے والے تجربات اور مشاہدات کے حوالے سے ایک خصوصی نشست میں بتایا کہ بنیادی طور پر تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے ایک کزن کے ہمراہ کویت آ گئے تھے اور اس وقت انہوں نے امریکہ جانے کے لیے ویزے کی درخواست دی تھی جب تک  جواب آتا وہ کویت کی سیر کرتے رہے، بعد میں میرے کزن کا ویزا تو آگیا اور وہ امریکہ چلا گیا لیکن میرا ویزہ نہیں آیا اور میں کویت میں رک گیا اور پھر کویت کا ہی ہوگیا۔




یہاں کے لوگ بہت محبت کرنے والے احترام کرنے والے اور عزت دینے والے ہیں ان کا خلوص اور پیار میں کبھی نہیں بھول سکتا میرے کزن نے میرے لئے نیوز پیپر میں ملازمت کا انتظام کیا اور پھر میں اس شعبے سے وابستہ ہوگیا ۔جوزف کی ریٹائرمنٹ اور وطن واپسی کے حوالے سے اس موقع پر ڈپلومیٹک ویمنز کمیٹی کویت کی جانب سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں الوداع کہا گیا ۔ کویت سے طارق اقبال نے یہ رپورٹ بھیجتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے خود بھی جوزف شاگرہ کے ساتھ کئی سال تک کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا وہ انتہائی شاندار مخلص اور ذہین انسان ہیں اور بہترین فوٹوگرافر ہیں ۔