پیر کی صبح جعفر طیار سوسائٹی میں عمارت گرنے کی اطلاع ملتے ہی میئر کراچی وسیم اختر موقع پر پہنچ گئے

کراچی .. پیر کی صبح ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں عمارت گرنے کی اطلاع ملتے ہی میئر کراچی وسیم اختر موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی، میئر کراچی کئی گھنٹوں تک وہاں موجود رہے اور جمع ہونے والی عوام سے اسپیکر پر اپیل کی کہ وہ اطراف کی چھتوں سے نیچے آجائیں انہوں نے تنگ گلی میں کام کے دوران مشینری کے استعمال سے دشواری کے پیش نظر غیر متعلقہ افراد کو دور ہٹانے میں بھی پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں کی مدد کی، اس موقع پر کمشنر کراچی افتخار علی شلوانی کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب آپریشن اطمینان بخش طریقے سے چل رہا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کے لئے چھوٹی مشینر ی کا استعمال کیا جائے ایک بچے کو زندہ نکالا گیا ہے ممکن ہے کہ مزید لوگ زندہ ہوں اس لئے بھاری مشینری استعمال نہیں کی جارہی اس وجہ سے ریسکیو آپریشن میں 8 سے 9 گھنٹے کا وقت بھی لگ سکتا ہے تاہم جب تک ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا ریسکیو ٹیمیں یہاں موجود رہیں گی، انہوں نے موقع پر موجود چیف فائر آفیسر کو ہدایت کی کہ رات میں کام کرنے کے لئے روشنی کا انتظام ابھی سے کیا جائے، سرچ لائٹیں منگوائی جائیں اور دیگر تمام ضروری سازو سامان اور آلات موقع پر پہنچائے جائیں، میئر کراچی نے کہا کہ ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ ، یوایس آر اور میونسپل سروسز سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار وں نے بھاری مشینری کے ساتھ ریسکیو آپریشن بروقت شروع کیا، ایک بچے کو زندہ اور متعدد لاشیں نکالی گئی ہیں اور آپریشن کے مکمل ہونے تک متعلقہ عملہ اور افسران موجود رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں 8بجے فون پر اطلاع دی گئی کہ ساڑھے سات بجے یہ حادثہ ہوا، اطلاع ملتے ہی تمام محکموں کے ذمہ دار افسران کو بھاری مشینری کے ہمراہ روانہ کردیا گیا تھا تاہم جگہ دور ہونے اور تنگ گلیوں کے باعث ٹیموں کو پہنچنے میں وقت بھی لگا اور دشواری بھی ہوئی اور یہ دیکھنے کے لئے کہ ریسکیو میں کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی فوری طور پر میں خود بھی یہاں پہنچ گیا تھا، کمشنر کراچی سمیت دیگر اداروں کے افسران بھی موجود ہیں اور اب ریسکیو آپریشن پر ہم مطمئن ہیں انہوں نے کہا کہ فائربریگیڈ، یو ایس آر سمیت دیگر محکموں کے 100 سے زائد تجربہ کار اہلکار ریسکیو آپریشن کررہے ہیں اور کام مکمل ہونے تک آپریشن جاری رہے گا، حادثے میں جو بھی نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا ہم کوشش کررہے ہیں کہ آپریشن کو تیزی سے مکمل کیا جائے تاہم عمارت کے ملبے کے نیچے دبے افراد کی وجہ سے بھاری مشینری کو استعمال نہیں کیا جاسکتا، میئر کراچی نے کہا کہ ابھی تک کی اطلاع کے مطابق 93 اسکوائر گز کی عمارت تھی اس حادثے کی وجوہات اور اطراف کی عمارتوں کے خطرناک ہونے کے بارے میں آپریشن ختم ہونے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا، جب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اس پر رپورٹ مرتب کرے گی اس کے افسران بھی یہاں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں