ڈاکٹروں نے بچوں کی بہتر نشوونما کیلئے روزانہ پارک اور گراؤنڈ میں لے جانے کی ہدایت کردی

ڈاکٹروں نے بچوں کی بہتر نشوونما اور صحت مند زندگی کے حوالے سے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچوں کو کم ازکم روزانہ دو گھنٹے پارک اور گراؤنڈ میں لے کر جایا کریں جو بچے سارا دن گھر میں بیٹھے کتابیں پڑھنے ٹی وی دیکھنے اور موبائل گیمز کھیلنے میں مصروف ہوتے ہیں ان کے حوالے سے ڈاکٹر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے انہیں روزانہ کم از کم دو گھنٹے آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی ضرورت ہے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو روزانہ پارک اور گراؤنڈ میں لے کر جائیں جہاں وہ سبزہ اور کھلی فضا کا مزا لے سکیں اور گراؤنڈ میں کھیل کود کر سکیں جس سے ان کی جسمانی نشونما میں بہتری آئے گی کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں والدین تیز رفتار اور مصروف زندگی کی وجہ سے اپنے بچوں کو گراؤنڈ اور پارک تک نہیں لے جاتے اس طرح بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما متاثر ہوتی ہے۔




کراچی اور بڑے شہروں میں گراؤنڈز کی ویسے بھی کمی ہے ڈاکٹروں نے والدین اور بچوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزانہ کم از کم دو گھنٹے آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی کوشش کریں ۔جو بچے روزانہ آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور باہر جاکر کھیلتے ہیں ان کی نظر اور ذہنی نشوونما بہتر رہتی ہے ۔ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں کالجوں اور ان کے علاوہ گھر پر موجود بچوں کو کھیل کود کے زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہیے تاکہ وہ دوڑ بھاگ کر اپنی جسمانی نشونما کے تقاضوں کو پورا کرسکیں ۔