عافیہ کی واپسی کا وعدہ کب ایفا ہوگا…….   تحریر: قادر خان یوسف زئی

پیامبر

پی ٹی آئی حکومت سے جہاں عوامی توقعات رکھی جارہی ہیں کہ عمران خان اپنے انتخابی منشور کے دوران کئے گئے وعدے پورا کریں گے۔وہیں انتخابی وعدوں میں اسیر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکا کی قید سے رہائی سے گھر واپسی کا عہدبھی پاکستانی عوام سے کیا تھا۔ فی الوقت اس حوالے سے حکومتی اقدامات میں کوئی پیش رفت تو سامنے نہیں آئی ہے تاہم ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے اہل خانہ سمیت ان کے سپورٹر وزیر اعظم عمران خان سے امید لگائے ہوئے ہیں کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی سمیت قوم سے کئے گئے تمام وعدے”پورے“ کریں گے۔اسلام میں بڑی تاکید کے ساتھ عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور عہد شکنی کی مذمت کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔عہد کو پورا کرو، کیوں کہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہو گا۔(بنی اسرائیل، 17: 34)۔قرآن نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے وعد ہ کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں (مومنون، 23: 8)۔خود اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا بارہا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارشادات کے ذریعہ بھی ایفائے عہد کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی برائی کو بیان فرمایا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی وعدہ خلافی بتائی ہے۔ ارشاد مبارکہ ﷺ ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔(صحیح مسلم، 1، رقم الحدیث: 210)۔ لازم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان عافیہ کی رہائی کے لئے کئے جانے والے عہد کو پورا کریں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اہل قلم و اہل وطن سے اظہار کرتے ہوئے اپنی ا میدوں کو کچھ اس طرح بیان کیا کہ ”ان شا ء اللہ وزیراعظم عمران خان امریکہ کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔ یقینا آپ کے علم میں یہ بات ہوگی کہ عافیہ کیلئے اٹھنے والی پہلی مضبوط اور موثر آواز عمران خان کی ہی تھی اور 2018 ء کے عام انتخابات کے دوران انہوں نے قوم سے ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کا نہ صرف وعدہ کیا تھابلکہ عافیہ کا نام بھی اپنے انتخابی منشور میں شامل بھی کیا تھا جس کا متن We make best efforts to bring prisoners like Dr. Afia Siddiqui and others back to Pakistanہے۔ مگر وزیراعظم کے دورہ امریکہ شروع ہونے سے قبل ہی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق امریکہ عالمی مالیاتی ادارے پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ شکیل آفریدی کی رہائی تک پاکستان کو قرضہ نہ دے جبکہ اسی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کی تیرہ کروڑ ڈالر کی امداد پہلے ہی روکی ہوئی ہے اور شکیل آفریدی کے وکلا ء نے پشاور ہائی کورٹ میں اس کی سزا کے خلاف اپیل دائرکی ہوئی ہے اور وہ رہائی کیلئے پرامید بھی ہیں“۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی بلا شبہ”دختر پاکستان“ ہے۔ حالات و واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مخصوص مفادات کی وجہ سے امریکا رہا نہیں کرنا چاہتا۔ ریمنڈ ڈیوس، کرنل جوزف جیسے قاتلوں کو تو امریکا اپنا سفارت کار بتا کر پاکستانی حکومتوں پر دباؤ ڈال کر رہا کروالیتا ہے۔ لیکن امریکا نے اتنا بھی نہیں کیا کہ پاکستان میں قتل جیسے سفاک جرم کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے، کیا امریکی اقدار میں یہ روا ہے کہ اگر کوئی امریکی کسی بھی بے گناہ کو قتل کرے تو وہ جائز ہے۔ اُن امریکی قاتلوں کے خلاف اگر پاکستان میں مقدمات نہیں چلائے گئے تو جمہوریت اور انسانیت کا چمپئن بننے کے دعویداروں نے اپنی مملکت میں مقدمات چلا کر ان قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دی؟۔




امریکا کے فروعی مفادات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہیں۔تاہم ہماری ماضی کی حکومتوں کی کوتاہی اور لاپرواہی بھی افسوس ناک رہی ہے کہ نہ جانے کیوں انہوں نے عافیہ کو گھر واپسی کے ملنے والے کئی مواقع ضایع کئے۔ ماضی کی حکومتوں کی مجبوری ہو یا کوئی بھی وجوہات رہی ہوں۔ اس بات سے صَرف نظر کرتے ہوئے موجودہ وزیر اعظم اس وقت مسند اقتدار پر ہیں۔ غیر ملکی ذرایع ابلاغ میں شکیل آفریدی کی ڈیل کے حوالے سے قیاس آرائیاں سامنے آچکی ہیں کہ غالباََ شکیل آفریدی کو کسی مبینہ ”ڈیل“ کے تحت امریکا بھیج دیا جائے گا۔ ان حالات میں کہ امریکا ہر معاملے میں اپنی من مانی کرتا ہے۔ اپنے حلیف ممالک سے بھی اپنے مفادات کے لئے ہرصورت مطالبے کو دباؤ و ناجائز طاقت کے استعمال سے منواتا ہے۔تاہم اس وقت پاکستان، افغان امن مذاکرات کے حوالے سے ڈائیلاگ کی بہترین پوزیشن میں ہے۔ نیز ریاست اور امریکی صدر و انتظامیہ کے درمیان سرد مہری کی برف بھی پگھل رہی ہے تو ان حالات میں عافیہ کی رہائی کے جائز مطالبے پر ریاست کو عملی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔




17برس کا ایک ایسا طویل عرصہ جس میں عافیہ صدیقی اپنے وطن، بچوں اور اہل خانہ سے سات سمندر پار بے گناہ اسیر ہیں، انسانیت کے ناطے حکومت کو مزید سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ موصولہ اطلاعات و عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کی مطابق عافیہ صدیقی کی صحت تشویش ناک حد تک خراب ہوچکی ہے۔ خرابی صحت کے حوالے سے آنے والی خبروں نے ہر محب الوطن پاکستانی کے دل میں تشویش کو جنم لیا ہوا ہے کہ آخر ہماری خود مختاری کب تک غیروں کی غلامی میں رہے گی۔ وزیراعظم پاکستا ن، امریکا کے دورے میں امریکی حکام اور امریکا میں رہائش پزیر پاکستانیوں سے بھی عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کریں۔ امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر کی ترجیحات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوششوں کی حوصلہ افزا عملی اقدامات نہ ہونے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وزیر اعظم عمران خان اپنے انتخابی جلسوں میں کئے جانے والے کئی عوامی وعدوں کے ساتھ عافیہ کو گھر لانے کا وعدہ بھی بھول چکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عافیہ کے اہل خانہ و ان سے والہانہ عقیدت رکھنے والے ہر صاحب اقتدار کو اپنا وعدہ یاد دلانے کے لئے اہل علم و کالم نگاروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ قلم کا حق ادا کرنے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔




عافیہ صدیقی وفوزیہ صدیقی ہماری بہنیں ہیں، ان کی والدہ بھی ہماری ماں ہیں، جس طرح یہ خاندا ن اپنی بیٹی کی رہائی کے لئے پر امن و برداشت کے ساتھ جہد مسلسل میں نہایت صبر الزما مرحلے سے گذر رہے ہیں اور تکلیف درد و اپنے دکھوں کو دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے اپیلیں کرتے ہیں تو ہم بھائیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں کہ جہاں پاکستان کو غلط پالیسیوں کی وجہ سے مصائب کا سامنا ہے وہاں ہم بہنوں و بیٹیوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ میں بھی دکھی دل کے ساتھ عافیہ کے اہل خانہ کے ساتھ ہم آواز ہو کر گذارش کرسکتا ہوں کہ حکومت اور سرکاری حکام کو عافیہ کو وطن واپس لانے کا دینی، قومی اور آئینی فریضہ پورا کریں اور عافیہ کی گھر واپسی کے لئے کئے جانے والے وعدوں و دعوؤں قابل عمل بنائیں۔
یہی     ہے    عبادت     یہی     دین     و    ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں