35

حکومت ظلم ڈھائے گی تو جلد گر بھی جائے گی…!!

 مدار… عرفان مصطفیٰ صحرائی

اگر پاکستان کو دنیا کی عجیب و غریب ریاست کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔یہاں ہر اقتدار میں آنے والے چاہے وہ فوجی یا سولین ہو،دلچسپ کردار کے مالک رہے ہیں۔ہر کسی نے اپنے آپ کو عقل کل سمجھا،ان کا ریاستی نظام کے ساتھ نت نئے تجربات کرنا شغل رہا ہے۔سب نے ایک ہی نعرہ لگایا کہ غربت کا خاتمہ کرنا ان کا مقصد اوّلین ہے،مگر ایسا کبھی نہ ہو سکا بلکہ غربت کئی گُنا بڑھ گئی۔عوام میں بے چینی،افراتفری،نفرت اور افلاس نے تمام حدود پار کر لیں۔

عمران خان کا دعویٰ ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غربت کے خاتمے کا پروگرام لا رہے ہیں۔لیکن حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔انہوں نے پہلی بار غریب کے خاتمے کا پورا بندوبست کیا ہے۔عمران خان پہلا پاکستانی وزیر اعظم ہے،جو ملک کے نظام اور عوام کو پوری دنیا کے سامنے ”گندا“کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ”میں برطانیہ نہ جاتا تو فلاحی ریاست کے تصور کو پہچان نہیں سکتا تھا۔انہیں پاکستان میں انسانیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی“۔انہیں 72برسوں کی تاریخ میں صرف پچھلے دس سال نظر آتے ہیں،لیکن اس سے پچھلی تاریخ کو ہاتھ لگاتے ڈراور خوف آتا ہے۔دوسیاسی پارٹیوں کے قائدین دنیا کے سب سے بڑے چور،ڈاکو ہیں،ملک کی وفاداری اور عوام کا احساس نہیں ہے،کیونکہ انہوں نے مدینہ ماڈل اسٹیٹ کی تاریخ سے اسفادہ نہیں کیا تھا۔دونوں سابقہ حکمرانوں نے نچلے طبقے سے ظلم کی انتہا کر دی تھی،ہر جگہ نا انصافی کی گئی وغیرہ۔وزیر اعظم کا ایک اور انداز بھی خوب رہا ہے۔اپنے مخالفین کا جواب دیتے ہوئے وہ وزیر اعظم کبھی بھی نہیں لگے۔جیسے اگر میاں شہباز شریف نے کہا کہ”عمران خان نیازی اتنا ظلم کرنا جو خود برداشت کر سکو“۔جواب آتا ہے کہ”میں موت بھی برداشت کر سکتا ہوں“۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان ایک جھٹکا بھی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔اقتدار میں رہتے ہوئے بڑھکیں مارنا آسان ہوتا ہے،مگر تکبر میں بڑے بڑے برج برے وقت میں خون کے آنسو روتے ہیں،اس وقت سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔




42برس پہلے جنرل ضیاء الحق نے 1973کا آئین معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔وہ بھی نظام مصطفٰی نامزد کرنے کے نام پر کیا۔17اگست 1988ء کو ضیاء الحق کی موت تک ایسا کوئی نظام لایا نہیں گیا۔1999ء میں جنرل مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ کر اور آئین معطل کر کے مژدہ سنایا کہ وہ ایک روشن ریاست کی تشکیل کریں گے۔پاکستان کی تاریخ میں مشرف واحد صدر رہے ہیں جنہوں نے دو مرتبہ آئین معطل کیا،لیکن کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکا۔اب منتخب دو حکومتیں آئیں،انہیں عمران خان نے چور،ڈاکو اور بدمعاش کا لیبل لگا کر ختم کر دیا۔اب عمران خان نے اقتدار سنبھال کر ریاست مدینہ قیام کا اعلان کر دیا۔یہ اعلان اسی طرز کا ہے جیسے دونوں ڈکٹیٹروں نے عوام کے سامنے کیا تھا۔




عمران خان کا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا اعلان فراڈ کیوں ہے؟ریاست مدینہ میں کوئی پارلیمنٹ،دستور،آج کی طرح ادارے نہیں تھے۔اگر ایسا نہیں تھا تو عمران خان مدینہ والا نظام کیسے نافذ کریں گے۔اس دور میں امرا سے زکوٰۃ،زمینداروں سے عشر اور غیر مسلموں سے ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔موجودہ انکم ٹیکس کا تصور نہیں تھا۔جس طرح ضیاء الحق نے عوام کو بہلانے کے لئے نظام مصطفیٰ کا نعرہ لگایا، عمران خان بھی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے مدینہ کی ریاست قائم کرنے کا بار بار نعرہ لگا رہے ہیں۔
ایک طرف عمران خان ماضی کے دونوں حکمرانوں پر اس لئے غضب ڈھا رہے ہیں کہ انہوں نے ملک سے زیادتی کرتے ہوئے 24ارب ڈالر قرضوں کا بوجھ ڈال دیا ہے۔دوسری جانب ان کے لاڈلے مشیر خزانہ نے نوید دی ہے کہ ان کی حکومت 38ارب ڈالر قرض لینے جا رہی ہے۔
عمران خان نے اپنی ہر کمزوری اور مجرمانہ رویے کو احتساب کا نعرہ بلند کر کے دبا دیا ہے۔عوام کا دل بہلانے کے لئے نعرہ کامیاب رہا ہے۔اس احتساب کے نعرے نے آصف علی زرداری،فریال تالپور اور میاں نواز شریف کو اندر کر دیاجبکہ حمزہ نیب کی حراست میں ہیں،میاں شہباز شریف کو بھی سلاخوں کے پیچھے لے جانے کی تیاریاں مکمل ہیں۔رانا ثناء اللہ جو ایک بھر پور سیاسی ورکر تھے۔انہیں کیمپ جیل میں 47 ڈگری گرمی میں ایک کال کوٹھری کی اذیت دی جا رہی ہے۔ابھی ان سے اور بھی حساب لئے جائیں گے۔کیونکہ اقتدار سے پہلے ہی رانا ثناء اللہ عمران خان کی ہٹ لیسٹ پر تھے۔انہیں مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالنا مقصود تھا۔عمران خان کا وقت ہے،انہوں نے کر دکھایا۔ویسے یہ دلچسپ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو احتساب کی زد میں لانا فرض سمجھا جا رہا ہے،مگر پی ٹی آئی کی حکومت میں ایسے وزراء،ارکانِ اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کی اکثریت ایسی ہے جو جنرل ضیاء الحق اور بعد ازاں پرویز مشرف کے بھی وزیر رہے۔پرویز مشرف کی سیاست ختم ہو گئی،مگر ان کے اقتدار میں شریک اور خوب مزے لوٹنے والے تحریک انصاف کے وزرا کی اکثریت کا تعلق ماضی کی جماعتوں سے ہے۔جو اقتدار میں رہی ہیں۔کیاکبھی ان پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا،ان کا بھی احتساب ہو گا..؟ہر گز نہیں۔کیونکہ وہ پی ٹی آئی میں شامل ہی اس بنیاد پر ہوئے ہیں کہ ان کا احتساب نہیں کیا جائے گا۔کہیں عمران خان میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو این آر او نہ دینے کی بڑھکیں لگاتے ہیں اورکہیں ان کے سامنے پیشکش رکھتے ہیں کہ لوٹی ہوئی رقم واپس کرو اور بیرونِ ملک چلے جاؤ۔اگر عمران خان کا احتساب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ عدالتوں کو فیصلے کرنے ہیں،پھر کیسے عمران خان کسی کو چھوڑنے یا پکڑنے کی باتیں کر سکتے ہیں…!!




سیاسی انتقامی کارروائیاں جاری ہیں اداروں کو خوب استعمال کیا جا رہا ہے۔پہلے صرف نیب تھا،پھر ایف آئی اے کا ساتھ ملا اور اب اس میں اینٹی نارکوٹکس کا ادارہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ حکمرانوں کو اندازہ نہیں انہوں نے ملک کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کر دیا ہے۔وہ لوگ جو گھروں سے باہر نکل کر اپنا احتجاج پُر امن طور پر درج کروانا چاہتے تھے۔انہیں پکڑ کر جیلوں میں ڈالنا انہیں اپنے حق احتجاج سے روکنا اور سمجھ جانا کہ ہم نے سب کچھ ٹھیک کر دیا ہے۔بہت بڑی غلط فہمی ہے۔لوگوں کے ذہن اتنے پُرسکون نہیں جتنے دکھائی دے رہے ہیں بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ ان کے ذہنوں میں شور اور دلوں میں طوفان ہے۔اس وقت عوام مہنگائی،بے روزگاری،افلاس،خراب صحت،تعلیم کی بحرانی صورت حال سے نالاں ہیں۔عمران خان ڈر اور خوف کا نفسیاتی حربہ استعمال کرکے عوام کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔




تاجروں نے ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ان کا سب سے بڑا مسئلہ بھی ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کرنے کا ہے۔مہنگائی،بے روزگاری کے خلاف احتجاج کی کال ہوتی ہے تو وہاں پکڑ دکڑ شروع ہو جاتی ہے۔سیاسی پارٹی کا جلسہ ہو تو پولیس کے ذریعے جلسے کی انتظامیہ کو پکڑ لیا جاتا ہے۔سیکورٹی رسک کے نام پر جلسہ کرنے نہیں دیا جاتا۔رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے اندازہ ہو گیا ہے کہ حکومت کی ذہنیت کیا ہے۔یہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ خوف کی لہر پیدا کرنے میں حکومت کامیاب ہوتی لگ رہی ہے۔لیکن پُر امن شہری اس بات کا بھی عندیہ دے رہے ہیں کہ اگر حکومت کا رویہ ایسا ہی رہا اور خوف کا سلسلہ رکا نہیں۔تو وہ جوابی کارروائی پر مجبور ہو جائیں گے۔اس بات کا علم تو سب کو ہے کہ اگر آگے سمندر ہو اور پیچھے دشمن تو ایسے میں مجبور اور مظلوم شخص کے پاس مڑ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا،کیونکہ زندگی کی یہی ایک صورت ہوتی ہے۔عوام کے آگے موت اور پیچھے دشمن ہے۔ایسے میں عوام پیچھے مڑ کر دشمن سے پنجہ آزمائی کا عندیہ دے چکی ہے۔حکومت اس دبی چنگاری کو جتنی جلدی ہو پہچان جائے،اگر ایسا نہ ہوا تو ملک میں انارکی پھیلے گی اور جو حالات آج ہیں،اس سے کہیں زیادہ برے حالات ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں