65

کیا وزیراعظم عمران خان امریکہ میں کسی جرم میں ملوث ہیں، انہیں کیا خوف ہے جو سفارتخانے میں قیام کریں گے؟ مولانا فضل الرحمان کے سوالات

مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے بعض سوالات اٹھا دیے ہیں انہوں نے پوچھا ہے کہ  وزیراعظم عمران خان امریکہ میں سفارت خانے میں کام کرنے پر کیوں بضد ہیں، یہ کیسا معمہ ہے، کیا وہ کسی جرم میں ملوث ہیں،  یا خوف کا شکار ہے؟ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو دورہ امریکا کے دوران پاکستانی سفارتخانے میں قیام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان 21 جولائی کو تین روزہ دورے پر امریکہ جائیں گے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی اہم ملاقات ہونی ہے۔  وزیراعظم عمران خان اپنے دورے کو سادگی کے پیش نظر ہوٹل کی بجائے پاکستانی سفارت خانے تک محدود رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جس پر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر بھی تبصرے ہو رہے ہیں، عام طور پر کسی بھی ملک میں سفارتخانے کو ملک کی ٹیریٹوری Territoryمانا جاتا ہے اور وہاں سفارتی استثنیٰٰ اور تحفظ حاصل رہتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے تفصیل میں جائے بغیر صرف یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر وزیراعظم سفارتخانے میں کیوں قیام کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ میں مقیم پاکستانیوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ ماضی میں عمران خان کے خلاف ایک امریکی عدالت میں ایک مقدمہ چل چکا ہے کیا وزیراعظم عمران خان اس مقدمے سے خود کو دور رکھنے کے لئے اپنا قیام صرف پاکستانی سفارتخانے تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔




پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن امریکہ میں اس بحث میں وزیراعظم اور حکومت پاکستان کے فیصلے کا بھرپور دفاع کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کا کام پروپیگنڈا کرنا ہوتا ہے،  وزیراعظم عمران خان انتہائی اہم دورے پر امریکہ آ رہے ہیں۔ ایسے موقع پر سیاسی مخالفین کو صرف ملک اور قوم کے بارے میں سوچنا چاہیے اور سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔ امریکہ میں عمران خان پورے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے آرہے ہیں، لہذا ان کے دورے کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر رہنماؤں اور سیاسی مخالفین کو چاہیے کہ امریکی دورے میں وزیراعظم عمران خان کی مخالفت کرنے کی بجائے اسے پاکستانی وزیراعظم کے دورے کی حیثیت سے کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم خاموش رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں