50

جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے : وزیر قانون فروغ نسیم

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سعودی عدالت کے جج ارشد ملک کو کام سے روک دیا گیا ہے اور انہیں وزارت قانون کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف آج منی ٹریل دے دیں وہ آج ہی آزاد ہو جائیں گے ۔

حکومت قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑی ہے نا یہ کیس کیس کو مت نے بنایا اور نہ ہی انکوائری یا تفتیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اس چیز کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ عدالتوں کو دباؤ میں لایا جائے ۔دیکھنا یہ ہے کہ فیصلہ کسی دباؤ پر دیا گیا ۔اگر جج صاحب کی بات مانی جائے تو کوئی دباؤ نہیں ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر بیان حلفی درست ہے تو فیصلہ میرٹ پر ہوا بیان حلفی ایک ہی بات کی نشاندہی کرتا ہے وہی نشاندہی پانامہ فیصلے میں بھی کی گئی ۔ روح نسیم نے کہا کہ جج کو رشوت یا دھمکی دینے کی سزا الگ ہے ہم قانون کے ساتھ کھڑے ہیں نہ کسی کی حمایت اور نہ ہی کسی کی مخالفت کریں گے ۔




جب تک اس شخص آنے کا کوئی فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ نہیں کرتی اس میں مزید سزا جزا کی کاروائی نہیں ہوسکتی ۔ نوازشریف کو ایک کیس میں سزا ہوئی ایک میں بری کیا گیا منطق تو یہ ہے کہ دباؤ میں فیصلہ ہوتا تو دونوں کے اسے سزا ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے جو سزا ہوتی ہے وہ آٹومیٹک ختم نہیں ہوجاتی فیصلے سے متعلق معاملات میں اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ملک کو اسلام آباد کی عدالت نمبر 2 سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اس ادارے لاہورہائیکورٹ کو رپورٹ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں