جب تک شیخ رشید ریلوے کا وزیر ہیں اس وزارت کا نام وزارت حادثات و اموات رکھ دیا جائے : عوامی ردعمل

ملک میں ریلوے کے بڑھتے ہوئے حادثات کی وجہ سے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اور ان کی وزارت ریلوے سخت تنقید کی زد میں آ گئی ہے صادق آباد میں اکبر بگٹی ایکسپریس اور مال گاڑی کی ٹکر کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان اور بڑی تعداد میں مسافروں کے زخمی ہونے کے واقعہ کے بعد سیاسی مخالفین اور عوام کی جانب سے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اور فول پروف اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اس واقعے کو غفلت اور نااہلی سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

صادق آباد میں ہونے والے ریلوے حادثے کے نتیجے میں جو جانی نقصان ہوا اور بڑی تعداد میں مسافر زخمی ہوئے اس پر حکومت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ شیخ رشید احمد نے وفاقی وزارت ریلوے سے مستعفی ہونے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ریلوے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے حادثات کے بارے میں یہ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے کہ ان حادثات کی اصل وجہ کیا ہے کیا یہ انسانی غلطی کا پہلو ہے یا اس میں تکنیکی خرابی اور ٹرینوں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے حادثہ پیش آ رہے ہیں۔


ریلوے میں ماضی کی حکومتوں میں بھی اس طرح کے بہت سنگین نوعیت کے حادثات ہو چکے ہیں لیکن ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں نے حادثات کی روک تھام کے لیے زیادہ بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ٹیکنالوجی کے جدید دور میں اب ایک ہی پٹری پر دو ٹرینوں کی موجودگی اور حادثات کی روک تھام کے حوالے سے دنیا کافی اہم اقدامات کر چکی ہے دیگر ملکوں میں کئے گئے کاموں سے ہماری حکومت اور وزارت ریلوے کو بھی استفادہ کرنا چاہیے ۔