میر حاصل خان بزنجو ہمیشہ جمہوریت اور مظلوم طبقے کے حقوق کی آواز بنے رہے ہیں

میر حاصل خان بزنجو، بلوچستان کے نامور سیاستدان بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کے بیٹے ہیں ان کی پیدائش 1958 میں ان کے آبائی گاوٗں نال،خضدار بلوچستان میں ہوئی۔ میر حاصل بزنجو نے زمانہِ طالب علمی میں ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔ انہوں نے بطور صدر پاکستان پروگریسیو اسٹوڈنٹس الائنس کراچی یونیورسٹی اپنی ذمہ داری ادا کی اورایک طلبا حقوق کے لئے ایک احتجاج کے دوران ٹانگ میں گولی لگنے کا شکار بھی ہوئے۔ میر حاصل بزنجو 1992 اور 1996 قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ نیشنل پارٹی کے سابق صدر میر حاصل خان بزنجو ہمیشہ جمہوریت اور مظلوم طبقے کے حقوق کی آواز بنے رہے ہیں۔ مشرف کے سیاہ دور میں حاصل بزنجو کو مختلف مواقعوں پر جمہوری قوتوں کا ساتھ دینے کی پاداش میں متعدد بار جیل بھی جانا پڑا۔ 2009 میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے انہوں نے خاقان عباسی کی کابینہ میں اگست 2017 سے مئی 2018 تک بطور سمندری معاملات کے وزیر اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔