52

نومبر 2019 کے بعد پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا؟

پاکستان میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کا وقت جب بھی قریب آنے لگتا ہے تو اب یہ روایت بن گئی ہے کہ اس حوالے سے ایک بحث شروع ہو جاتی ہے جس میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے مستقبل میں اس کے ممکنہ اثرات ، نقصانات اور فوائد گنوائے جاتے ہیں ۔ایک بڑا حلقہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا حامی نظر آتا ہے اور ایسا کرنے کے اثرات اور فوائد گنواتا ہے جبکہ کچھ آوازیں اس کے برعکس اٹھتی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو عہدے کی مدت مکمل ہونے پر حکومت نے مزید ایک معیاد کی توسیع دے دی تھی جس کے بعد آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے وقت جب بھی قریب آتا ہے یہ بحث تیز ہو جاتی ہے ۔پاکستان میں جنرل ایوب خان جنرل یحییٰ خان جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے طویل عرصہ حکومت کی تین جرنیلوں نے اپنے عہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد اپنے آپ کو خود ہی توسیع دے دی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے آخری دور حکومت میں جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت مکمل ہونے پر یہ بحث چھڑی تھی لیکن وہ ریٹائر ہوگئے اب جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ قریب آنے پر یہ بحث ایک مرتبہ پھر جاری ہے کہ آیا وہ ریٹائرمنٹ لیں گے یا انہیں حکومت ایک اور مدت کے لیے اس عہدے پر برقرار رکھنے کے لئے توسیع دے دے گی۔
اس حوالے سے یہ بحث ہورہی ہے کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ نے توسیع لینے کا فیصلہ نہ کیا تو پھر مستقبل میں پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا؟
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک تجزیہ تو جہ کا مرکز بنا ہوا ہے آپ قارئین کی دلچسپی کے لئے اسے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا نیا آرمی چیف کون بنے گا (ایک تجزیہ)
اگر جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع نہ ہوئی تو کس نے پاکستان کی طاقتور ترین کرسی پر بیٹھنا ہے ۔
اس وقت فوج میں 3 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز ہیں
1. عاصم باجوہ
2. صادق علی
3. عامر ریاض
یہ تینوں 23 ستمبر 2019 کو ریٹائر ہو رہے ہیں. چونکہ نئے آرمی چیف نے 29 نومبر کو عہدہ سنبھالنا ہے لہذا ان تینوں میں سے کوئی بھی ترقی نہیں پا سکے گا۔
ان کے بعد اس اسامی کے لیے 8 جرنیل لائن میں ہوں گے جن میں سے ایک کو آرمی چیف اور ایک کو چئیرمین جوائنٹ سٹاف بنایا جائے گا کیونکہ جنرل باجوہ اور جنرل زبیر حیات دونوں کی ایک ہی دن ریٹائرمنٹ کی وجہ سے اس سال دو جرنیل ترقی پائیں گے۔
ان کی سینیارٹی لسٹ مندرجہ ذیل ہے
1. سرفراز ستار
2. ندیم رضا
3. ہمایوں عزیز
4. نعیم اشرف
5. محمد افضل
6. شیرافگن
7. قاضی اکرام
8. بلال اکبر
پیش گوئی یہ ہے کہ 29 نومبر کو سینئر موسٹ جنرل سرفراز ستار کو ان کے متعلقہ تجربے کے باعث چیئرمین جوائنٹ سٹاف بنایا جائے گا۔
محمد افضل اور قاضی اکرام نے چونکہ کوئی آپریشنل کور کمانڈ نہیں کی لہٰذا ان کے چیف بننے کا امکان نہیں ہے۔
آرمی چیف بننے کے لیے مقابلہ 5 جرنیلوں میں ہے مگر ندیم رضا، ہمایوں عزیز اور نعیم اشرف میں سے کسی ایک کے امکانات روشن ہیں۔
سب سے زیادہ امکان لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کا ہے جو اس وقت چیف آف جنرل سٹاف ہیں اور راولپنڈی کے کورکمانڈر رہ چکے ہیں۔
دوسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز ہیں جو اس وقت کورکمانڈر کراچی ہیں۔
تیسرے نمبر پر کور کمانڈر ملتان نعیم اشرف چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل شیرافگن ہیں جو بہاولپور کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں۔
پانچویں اور آخری نمبر پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر ہیں۔
چلتے چلتے ایک اور پیش گوئی یہ ہے کہ میجر آصف غفور کو جلد ہی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی جا رہی ہے اور چند دنوں میں اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
اس تجزیہ پر سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے بھی سامنے آرہے ہیں جنہیں اگلے حصے میں پیش کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں