38

پیارے خان صاحب آپ کے آسرے پر میں نے کمپنی کی اچھی خاصی آمدن والی ملازمت چھوڑ دی، اسد عمر کا عمران خان کو خط

پاکستان کے مشہور انگریزی جریدے ہیرالڈ نے اپنی طنزیہ تحریروں کے سلسلے میں سابق وزیر خزانہ اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط شائع کیا ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کافی پسند کیا گیا ہے اور سوشل میڈیا صارفین نے اس پر طرح طرح کے تبصرے بھی کیے ہیں ۔
خط یوں لکھا گیا ہے کہ
پیارے خان صاحب ،
آپ کے آسروں پر میں نے کمپنی کی اچھی خاصی آمدن والی ملازمت چھوڑ دی ،یہ الگ بات ہے کہ وہ خود بھی مجھے نکالنا چاہتے تھے ۔میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا سوائے اس کے کہ میرے والد سابق صدر جنرل یحییٰ خان کے قریبی ساتھی رہے چکے ہیں اور میرے بھائی زبیر عمر نوازشریف کی سیاسی جماعت کا حصہ ہیں ۔
دنیائے سیاست میں مجھے صرف اور صرف دوران ملازمت ماہانہ حاصل ہونے والی محض 70لاکھ کی تنخواہ میں سے کی گئی بچتوں اور میری کمپنی کی جانب سے اسٹاک آپشن کی صورت میں ملنے والے چند لاکھ روپوں پر ہی انحصار کرنا پڑا تھا ۔

میں نے اتنا بڑا رسک اس لیے لیا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ صرف میں ہی وہ شخص ہوں جو پاکستان کو بچا سکتا ہے ۔ایک غریب کے دکھ درد مجھ سے بہتر بھلا اور کون سمجھ سکتا ہے ۔
میں جانتا تھا کہ ایک دن مجھے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے اور پاکستان کو مزید عظمتوں کی راہ پر گامزن کرنے کا موقع حاصل ہوگا یہ موقع عنایت کرنے کے لئے عمران خان آپ کا بہت شکریہ ۔
میں آپ کو دیکھتے ہی جان گیا تھا کہ آپ کیا ہستی ہیں ۔جب میں بنی گالہ میں واقع آپ کے غریب خانے پر آپ سے ملنے آیا تھا تب میں نے غریبوں کے لیے آپ کے درد کو دیکھا ۔مغربی چیزوں میں ہماری پسند نہ پسند بھی کافی ملتی جلتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مغربی ثقافت کو حقیر سمجھنے کی عادت بھی یکساں ہے ۔
ہم اپنے اہل خانہ کو چھٹیوں میں انگلینڈ اور امریکہ کی سیر کرواتے ہیں اور پھر پاکستان لوٹ کر ووٹوں کی خاطر مغرب کو برا بھلا کہہ کر کیا خوب توازن کا مظاہرہ کیا ۔
عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف تو دشمن ہے لیکن میکڈونلڈ کے میک نگٹس بہت ہی مزے کے ہیں ۔کرنل سینڈرز جب چاہیں جس وقت چاہیں میرے پیٹ پر ڈرون حملہ کر سکتے ہیں ۔



مجھے لگا کہ جیسے ہمیں خان کی صورت میں وہ شخص مل گیا ہے جو مجھے نتائج کی ذرا پرواہ کیے بغیر اپنے تخت شادی تخیلات کے ساتھ تجربہ کرنے کی پوری اجازت دے گا ۔میں سن سٹی کھیل ویل کر اور اقتصادی ماڈلز بنا کر تھک چکا تھا ۔میں اپنی سیریز کو حقیقی دنیا میں آزمانا چاہتا تھا اور آپ نے میرے ان سپنوں کو حقیقت کا روپ دے دیا ، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان تجربات سے ہزاروں اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔
لیکن قسم اٹھوا لیجئے میرے تمام ماڈلز کمپیوٹر پروگرام پر بہترین نتائج دے رہے تھے، بس میں ان ماڈلز کے حساب کتاب میں عوام کو شامل کرنا بھول گیا تھا چلیں کم از کم ہم نے کوشش تو کی نا؟ پھر محبت جنگ اور معیشت میں تو سب کچھ جائز ہے ۔
جو بھی ہو قصور آپ کا ہی ہے آپ ہی نے ایک مارکیٹنگ گریجویٹ کو ملک کی مالیاتی پالیسیوں کے فیصلوں کا اختیار دیا تھا ۔
ہائے کتنا لطف آتا تھا جب میں روز رات کو ٹی وی پر اپنے اعداد و شمار کے ساتھ اسحاق ڈار اور پاکستان مسلم لیگ نون کی ناکام پالیسیوں پر شدید تنقید کیا کرتا تھا ۔میرے لئے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز پاکستانی عوام کو امید دینا اور یہ یقین دلانا تھا کہ میں انہیں کٹھن زندگی کی دلدل سے باہر نکالوں گا اور انہیں آزادی خوشحالی کی راہ پر گامزن کر دوں گا ۔میں نے اپنی ساکھ مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔اگر ان کی امیدیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں تو کیا واقعی یہ فکر کی بات ہے ؟



اب آپ نے میری جگہ پر کسی دوسرے شخص کو لا کر بٹھا دیا ہے اور اس قوم کی پہچان کے ساتھ مجھے خالی ہاتھ چھوڑ دیا تو مجھے توانائی کی وزارت کا قلمدان سنبھالنے کی پیشکش کی گئی ہے ۔مجھے اپنے والد سے کتنی دولت وراثت میں ملی ۔اتنی دولت خود میں نے کمائی، اس کے علاوہ مجھے اب اپنی سی وی پر سابق وزیر خزانہ درج ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور ہاں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مالیت کی سربراہی میرے پاس ہے۔
اب جبکہ میں پہاڑوں میں گھرے دریائے سوات کے کنارے کھڑا قوم کی ہمدردیاں جیتنے کی خاطر تصویر کھنچوانے کے لیے پوز دے رہا ہوں اس دوران میں عمران آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا میں آپ کو آپ کے پہلے نام سے تو پکار سکتا ہوں نا ؟کیونکہ جب ہم قوم سے تبدیلی کے وعدے کر رہے تھے اس دوران میں خود کافی تبدیل ہوگیا تھا سب سے عظیم ترین تبدیلی دراصل مجھ میں ہی آئی۔
ذرا سوچئے نا عمران جب آپ ڈی چوک پر کھڑے تھے اور لوگوں سے وعدہ کر رہے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خودکشی کر لیں گے تب ہم کیا تھے اور آج ہم کیا ہیں ؟ شاید ہمیں اس دن پارلیمنٹ کو نذر آتش کر دینا چاہیے تھا اور آگے چل کر حکومت سنبھالنے کے بجائے زندگی کے کسی نئے باب کا آغاز کر لینا تھا ۔حزب اختلاف کا وقت بھی کیا مزےدار وقت تھا۔
کمپنی چلانے اور پاکستان چلانے میں شاید فرق ہے ۔یہ کس نے جانا تھا ،ہے نا ؟ وزیرخزانہ بننے سے قبل اگر میں چھ سال پہلے پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنتا تو میرے پاس ہو مور کے لئے وقت حاصل ہوجاتا یوں پھر مجھے سارے کے سارے تجربے ایک ساتھ نہیں کرنے پڑتے۔



اب آئی ایم ایف سے میرا کیا لینا دینا ؟ کھانا خریدنے کی سکت سے بھی جانے والے عوام سے میرا کیا تعلق ؟اگر وہ سموسے اور پکوڑے نہیں کھا سکتے تو انہیں کیک پر ہی گزارہ کرنے دیجئے۔
میں تو چلتا ہوں ۔ہائے جدائی بھی کتنی کڑوی اور میٹھی ہے ۔آپ میڈیا اور اپنے دل سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے لوٹ آنے کا چانس ہے اور ہم دونوں ہی جانتے ہیں کہ میری واپسی  اس وقت تک نہیں جب تک ہم معیشت کے بڑے غرق کا الزام عبدالحفیظ پر دھرنے کی حالت میں نہیں آجاتے ۔ جن کی ہم تعظیم کرتے ہیں ۔بس مجھے کرنا اتنا ہوگا کہ چند ٹی وی شوز میں بیٹھ کر اقتصادی نظام پر زبردست تنقید کرنی ہوگی پھر لوگ ایک بار پھر میری محبت میں گرفتار ہوجائیں گے اور آپ کو بھی مجھ سے ایک بار پھر محبت ہو جائے گی۔
ہمارے دوبارہ ملنے تک ،میں باضابطہ طور پر استعفیٰ  پیش کر رہا ہوں، جس کا کوئی جواز نہیں کیونکہ آپ تو پہلے ہی مجھے عہدے سے ہٹا چکے ہیں ،لیکن کیونکہ مجھے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچنے نہیں دینا اسی لئے میں یہ دکھانے کی کوشش کروں گا کہ میں نے استعفیٰ دیا، ٹھیک ویسے ہی جیسے میں نے ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کہ میں نے کمپنی سے استعفیٰ دیا تھا۔

شکریہ 

آپ کا اپنا اسد عمر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں