وزیر ٹرانسپورٹ فوٹو سیشن اور اپنے دفتر سے باہر نکلیں، ٹرانسپورٹرز عوام کو لوٹ رہے ہیں: پاسبان

کیا گورنرز سندھ نے ٹرانسپورٹرز کو ازخود کرایوں میں اضافہ کا کھلا لائسنس دیدیا ہے:طارق چاندی والا
12سالہ اقتدار میں سندھ حکومت نے بلند و بانگ دعوے کئے مگر سفری سہولیات کی فراہمی میں کارکردگی صفر ہے
ٹرانسپورٹرز اس سے قبل بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے رہے،جعلی لسٹیں بناکر آویزاں کی گئی ہیں
شہر سے غائب ہونے والی یوٹی ایس وگرین بسوں کی تحقیقات کرکے رپورٹ منظر عام پر لائی جائے
منصوبے جلد از جلد مکمل، لگائے گئے بجٹ کی شفاف تحقیقات کی جائے، جیب کتروں سے محفوظ سروس چلائی جائے
10سال تک کے بچوں،معذوروں اور بزرگوں کو کرائے سے مستثنیٰ،طلبہ و طالبات کے لئے آدھا کرایہ کی سہولت بحال کی جائے
کراچی  : پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر طارق چاندی والانے وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس شاہ کی جانب سے اضافی کرایہ لینے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کاروائی کی خبر کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دفاتر میں بیٹھ کر اخبارات میں خبریں شائع کرنے سے کاروائیاں نہیں ہوتیں،وزیر ٹرانسپورٹ اپنے دفتر اورفوٹوسیشن و اخبارات کی زینت بننے سے باہر نکلیں، ٹرانسپورٹرزنے حکومتی رٹ کو ایک بار پھر چیلنج کرتے ہوئے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھرجعلی کرایہ نامہ آویزاں کرکے مسافروں کو لوٹناشروع کردیا ہے،

ٹریفک پولیس مسلسل ہیلمٹ مہم میں مصروف ہے،جعلی کرایہ ناموں پر کوئی کاروائی نہیں کی جارہی۔،وزیر ٹرانسپورٹ بتائیں کہ حکومت کا مقرر کردہ کرایہ نامہ منظر عام پر کیوں نہیں لایا جارہا اور عوام میں تقسیم کیوں نہیں کیا جارہا؟ پی پی پی کی سندھ میں 12سالہ دور اقتدار میں صرف بلند و بانگ دعوے کئے گئے مگر سفری سہولیات کی فراہمی کے اقدامات صفر فیصد ہی رہی۔ سابقہ سٹی ناظمین کے دور میں بڑی تعداد میں گرین اور یوٹی ایس بسیں چلائی گئیں، یہ بسیں کہاں گئیں؟، شہر میں چنگ چی رکشاؤں کی بھرمار کی منصوبہ بندی کس کی تھی؟، چنگ چی رکشاؤں سے ملنے والا لاکھوں روپے بھتہ کس کی جیب میں جارہا ہے؟ وزیر ٹرانسپورٹ بسوں،منی بسوں،کوچز،شہر میں چلنے والے 6سیٹر رکشاء اڈا مالکان کی جانب سے بھی کرایوں میں اضافے کے خلاف عملی کاروائی کریں،،اوور لوڈنگ پر مکمل پابندی عائد کی جائے،رکشہ اور ٹیکسیوں میں میٹر لگائے جائیں،پبلک ٹرانسپورٹ میں 10سال تک کے بچوں،معذوروں اور بزرگوں کو کرائے سے مستثنیٰ اوراسکول کالجز کے طلبہ و طالبات کے لئے آدھا کرایہ کی سہولت بحال کی جائے اورخواتین کے لئے مقرر کردہ سیٹوں پر مردوں کے بیٹھے پر بھی پابندی عائد کی جائے۔




پاسبان گورنرسندھ سے بھی سوال کرتی ہے کہ کیا ہڑتال کی کال واپسی کے لئے ٹرانسپورٹرز کو کرایوں میں اضافے کا کھلا لائسنس دیدیاگیا ہے؟ پاسبان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ گرین اور اورنج لائن بسوں کے منصوبے جلد از جلد مکمل کریں اور خرچ شدہ بجٹ کی شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی پریس انفارمیشن سے جاری کردہ بیان میں طارق چاندی والا نے مزید کہاکہ بسوں،کوچز اور منی بسوں میں اوورلوڈنگ کے دوران جیب کترے شہریوں کی جیبیں صاف کرتے ہیں،حکومتی کرایہ نامہ پر عمل درآمد اور جیب کتروں سے محفوظ رکھنے کے لئے شہر بھر میں مجسٹریٹ کو پکٹ لگانے اور زائد کرایہ لینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کے لئے تعینات کیا جائے۔غیر فعال روٹس پرمٹ منسوخ کئے جائیں اورصرف ان ٹرانسپورٹرز کو روٹ پر مٹ جاری کیا جائے جو عوام کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرسکتے ہوں اور شہر کے تمام روٹس پر گاڑیاں چلا سکتے ہوں ۔