دیکھا جو آنکھوں نے‘‘ : ورلڈ کپ 2019 کا ناقابل یقین میچ’’

کرکٹ 70 کی دہائی تک ایک شفاف کھیل تھا ،لوگ بڑی دلچسپی سے میچ دیکھتے تھے، کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے پانچ پانچ دن ٹیسٹ میچ دیکھ کر محظوظ ہوتے تھے ، محدود اووروں کی کرکٹ آگئی ،ٹی وی چینلز نے اسے مقبول ترین کھیل بنا دیا ،پیسہ کاعمل دخل ہوا، کھلاڑی لکھ پتی سے کروڑ پتی اور پھر ارب پتی ہونے لگے، بڑے بڑے میچوں کے توقع کے برعکس نتائج نے دنیا کو چونکا کے رکھ دیا ، آئی سی سی نے کرپشن روکنے کیلئے اینٹی کرپشن یونٹ قائم کیا،پھر وہی ہوا جو دنیا میں ہوتا رہا ہے ،کمزور کیلئے وہی قانون سخت اور طاقت ور کیلئے نرم اور نرم ترین ، حیران کن نتائج حالیہ ورلڈ کپ میں بھی سامنے آ رہے ہیں لیکن میڈیا بھی خاموش اور آئی سی سی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

دنیا کہہ رہی ہے انڈیا انگلینڈ میچ فکسڈ تھا،انڈین ٹیم پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کیلئے ایک منصوبہ کے تحت ہار گئی ،انڈین ٹیم کے سابق کپتانوں نے ٹی وی چینلز پر تبصروں میں یہ الزام لگایا ،نہ الزام لگانے والوں کو کچھ کہا گیا اور نہ جن پر الزام لگا انہیں کچھ کہا گیا، ٹورنامنٹ کی آخری چار ٹیموں کا فیصلہ ہو گیا ،انڈیا پہلےاور نیوزی لینڈ چوتھے نمبر پر تھی، دونوں ٹیموں کے درمیان سیمی فائنل سے پہلے عام تاثر تھا کہ یہ ایک یکطرفہ میچ ہوگا، انڈین ٹیم آسانی سے میچ جیت جائے گی بکیز نے جو ریٹ جاری کئے وہ 4-1 تھے یعنی نیوزی لینڈ کی جیت پر شرط لگانے والوں کو چار گنا ملنا تھا،میچ کے دوران جب نیوزی لینڈ 239 تک محدود ہوگئی تو ریٹ بڑھتا گیا اور 6-1 پر پہنچ گیا۔ انڈیا کے ابتدائی بلے باز میدان میں ایسے داخل ہو رہے تھے جیسے ’’وننگ شارٹ‘‘ مارنے جا رہے ہوں، 92 پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے  بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ اس میچ کو ہار بھی سکتے ہیں ،سینئر کھلاڑی میندر سنگھ دھونی ، نے میچ کو سنبھالنے کی کوشش کی،انہوں نے رویندرا جادیجہ کو ہدایت کی کہ کھل کر شارٹس کھیلیں مگر وہ اپنی وکٹ بچانے کیلئے کھیلتے رہے ،رفاقت 116 کی ہو گئی، انڈین ٹیم کو جیت نظر آنا شروع ہو گئی ،اس موقع پر جو کچھ ہوا وہ شکوک وشبہات سے خالی نہ تھا  4 ،اووروں میں 32 رنز کوئی ہدف نہ تھا، کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہ تھی ،رویندرا جادیجہ مزید چھکا نہ بھی لگاتے تو میچ ان کے ہاتھ میں تھا ،انہوں نے باوٗنڈری پر کیچ دیا تو ساری ذمہ داری دھونی پر آگئی کہ وہ سیمی فائنل کے ہیرو بن جائیں مگر انہوں نے اپنی وکٹ تحفتاً پیش کر دی،اس موقع پر انتہائی غیر ضروری اسکور لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے، ان کے آؤٹ ہونے کے نتیجہ میں انڈین ٹیم ورلڈ کپ سے آوٗٹ ہو گئی 340کے ہدف کو ہدف نہ سمجھنے والی ٹیم 240 کا ہدف بھی حاصل نہ کر سکی،کرکٹ شائقین حیران رہ گئے لیکن ہمارے جیسے عمر رسیدہ شائقین کو اس سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی، ورلڈکپ مقابلوں میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے، 36 سال پہلے 1983 کے ورلڈ کپ فائنل میں ویسٹ انڈیز ٹیم 180 رنز کا ہدف حاصل نہیں کر سکی ، تھی حالانکہ اس ٹیم میں ویوین رچرڈز،کلائیو لائیڈ، ڈیسمنڈ ہینز،گورڈن گرینچ جیسے عالمی شہرت یافتہ بلے باز شامل تھے،



1987 کے ورلڈ کپ فائنل میں انگلینڈ کے کپتان مائیک گیٹنگ وکٹ پر تھے ،آخری دو اوور میں جیت کیلئے صرف گیارہ رنز درکار تھے ،مائیک گیٹنگ نے انتہائی غیر ضروری طور پر ریورس سوئپ کھیلنے کی کوشش میں وکٹ گنوادی اور ٹیم 7 رنز سے ورلڈ کپ ہار گئی 1996 کے ورلڈ کپ فائنل میں آسٹریلیا  کی ٹیم سری لنکا سے ہار گئی تھی۔ 2019 کا ورلڈ کپ بڑے حیران کن نتائج دے چکا ہے ،اس ٹورنامنٹ میں ایک اور حیران کن نتیجہ سامنے آ سکتا ہے وہ ہوگا ،’’نیوزی لینڈ کی جیت‘‘ اگر ایسا ہو گیا تو ان سٹے بازوں کی چاندی ہو جائے گی جو نیوزی لینڈ کے حق میں شرطیں لگا رہے ہیں۔ انڈیا نیوزی لینڈ سیمی فائنل کو اسی ٹیم کے سابق کپتانوں کی ایک پوری ٹیم متنازعہ قرار دے رہی ہے، انڈین کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی نے انڈین کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی نہیں کرنی، نہ کریں ان کپتانوں کے خلاف ہی کارروائی کریں جومیچ کو مشکوک قرار دے رہے ہیں،تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
کسی کو راقم کے موٗقف سے اعتراض ہے تو وہ دھونی کے رن آؤٹ کی ویڈیو دوبارہ دیکھیں،ایک اسکور مکمل کرنے کے بعد دھونی رک گئے تھے جب دیکھا کہ گیند فیلڈر کے ہاتھ میں ہے تو پھر دوسرے اسکور کیلئے دوڑ پڑے، کھلاڑی ایسا خطرہ اس وقت مول لیتے ہیں جب پیچھے کوئی اچھا بلے باز موجود ہو ،جس وقت دھونی رن آؤٹ ہوئے پیچھے کوئی بلے باز نہ تھا۔