وال چاکنگ : کرکٹ + پاکستان + ہندوستان = جنون

از طرف : شفیق اللہ اسماعیل

چلیں یہ ایک طرح سے بہت اچھا ہوگیا کہ آج ہندوستان نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیمی فائنل میں ہار گیا… ورنہ تو جب پچھلے ہفتے پاکستان، افغانستان اور بعد میں بنگلہ دیش سے کھیل رہا تھا تو پاکستان میں لوگ جس طرح کے تبصرے کر رہے تھے وہ بڑے پریشان کن تھے… عام لوگوں کی زبان جس تنزلی کا شکار تھی،  افغان  اور بنگال کی ٹیم کو جن الفاظ سے پکارا جارہا تھا وہ تمام تر اخلاقی پہلووٗں سے تجاوز تھا… اس سے پہلے جب پاکستان اپنا اہم میچ ہندوستان سے ہارا تو گویا کہ اک طوفان سا آگیا تھا ہندوستانی میڈیا نے ایک آسمان سر پہ اٹھا لیا تھا اور کیا کیا نام نہیں دئیے تھے پاکستان کو… اور تو اور ہندوستانی کرکٹ بورڈ بھی اس جنگ میں شامل ہوگیا تھا… کیا خبروں کے چینلز، کیا ان کے اسٹیج پروگرام…

سب ہی نے اپنا کردار جس طرح سے منفی انداز میں ادا کیا… کہ سر شرم سے جھک گئے… اور ادھر پاکستانی میڈیا نے بھی کوئی کثر نہ چھوڑی… اور جس طرح اپنی ٹیم کے لتے لئے وہ تو غیروں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے…… جس طرح ہندوستانی حکومت نے برطانوی حکومت کو دباوُ ڈال کر میچ کے دوران ایک ہوائی جہاز کے ذریعہ بلوچستان کے معاملات میں دخل اندازی کی کوشش کی اور اس کوشش کے جواب میں ایک اہم میچ کی جیت برطانیہ کی نظر کردی… گو کہ بعد میں برطانیہ میں مقیم کشمیریوں نے بھی اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے اسی طرح جہاز کے ذریعہ اپنا حق بھی دنیا کے سامنے اجاگر کیا… اور بھارتی رویہ کے جواب میں سکھ بھی اپنا مطالبہ لیکر میدان میں کود پڑے… یہاں میں کیوں بھارتی شکست پر شکر ادا کر رہا ہوں کہ پاکستانی ٹیم تو اپنی شکست کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہو کر ملک واپس آگئی۔




مگر دراصل پاکستانی اس ورلڈ کپ کرکٹ سے باہر نہیں نکلے تھے اور بھارتی ٹیم کے ساتھ ساتھ وہ بھی آگے کی طرف بڑھتے رہتے اور ڈر یہ تھا کہ فائنل تک کا یہ سفر کسی بڑی بات کا پیش خیمہ ثابت نہ ہوجاتا… جو کہ حالات دیکھ کر لگتا تھا کہ جس طرح افغانستان کے ساتھ میچ میں کئی مرتبہ ہنگامہ آرائی ہوئی… اور میچ کے بعد مار کٹائی بھی ہوئی جس کا نتیجہ ایک پاکستانی نوجوان کی ہلاکت پر ہوا… ان ہنگاموں کی ابتدائی تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا ہے…… تاکہ کویت میں ہونے والے افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات پر اثر انداز ہوا جاسکے… مگر پاکستانی ہائی کمیشن نے جس اچھی طرح سے اس معاملہ کو سمیٹا ہے اس سے یہ ہنگامہ زیادہ آگے نہ جاسکا… گو کہ بھارتی سفارت کاری بہت زیادہ جاندار اور مضبوطی سے کام کر رہی ہے اور اس پورے کرکٹ ورلڈ کپ کو بھی بھارتی حکومت نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے…… بھارتی حکومتی رویہ… ان کے میڈیا کا بے ہودہ پن اور سخت عوامی ردعمل سے کون واقف نہیں…… 1996 کا ورلڈ کپ کسے یاد نہیں………  بھارتی حکومتی دباوُ میں بنگلہ دیش چوں نہیں مار سکتا…… مگر بہر حال وہ بھی کیا کرسکتے تھے جتنا کھیل سکتے تھے وہ انھوں نے کھیلا اور پاکستانی کرکٹ ٹیم جتنا اچھا کھیل سکتی تھی وہ انھوں نے کھیلا…… اس سے اچھے کی توقع تو کرنی بھی نہیں چاہئے تھی۔۔۔کیونکہ پچھلے چار سال سے اس ٹیم کے ساتھ مسلسل تجربات ہی کئے جارہے تھے کوئی مستقل پالیسی تھی ہی نہیں… مستقل اٹھا پٹخ تھی… اب اس ماحول میں کھلاڑیوں نے جتنا اور جیسا کھیل کھیلا وہ بہت کافی ہے……




بس میں جو شکر ادا کر رہا ہوں کہ اگر پاکستان آگے جاتا تو بھارتی حکومت اور میڈیا کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور کرتے…کیونکہ بھارت نے کھیل کو کھیل نہیں رہنے دیا اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا بالکل مظاہرہ نہیں کیا  اور اب تو کئی غیر ملکی کھلاڑیوں اور تبصرہ نگاروں نے جس طرح بھارتی ٹیم کو برطانیہ والے میچ کے بعد جو کچھ کہا ہے… اس کے بعدمیں نہیں کہہ سکتا کہ کھیلوں میں کھیل کے علاوہ دوسرے عناصر کی آمد کس طرح سے روکی جا سکے گی……  موجودہ حالات میں پاکستان کی جیت بھارت سے برداشت نہ ہوسکتی تھی اور اسی طرح بھارت کی جیت سے جہاں بھارتی عوام بے قابو ہو جاتی اسی طرح پاکستان کی عوام کے لئے ناقابل برداشت ہو جانی تھی…… بہر حال ایک فرق پاکستانی میڈیا کی طرف مثبت دیکھنے میں آیا کہ سوائے چند ایک کے تقریباً تمام پاکستانی چینلز نے محتاط انداز اپنائے رکھا…… بلکہ میٹرو ون پر ایک پروگرام میں اینکر نے ایک لائیو کال لی اس کالر نے آج کے میچ میں بھارتی ٹیم کی شکست پر مبارک باد د ینی چاہی تو اس اینکر نے اس کی بات کو رد کردیا اور کہا کہ بھارت کی شکست پاکستان کے لئے مبارک کیوں کر ہو سکتی ہے بس میچ کی بات کیجئے……




یوں میں یہاں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا سیمی فائنل سے پہلے اور آج بھارت کا سیمی فائنل کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر نکلنا دونوں ممالک کے مستقبل کے لئے اچھا ثابت ہوا ہے کہ دونوں کے عوام اور میڈیا آپے سے باہر نہیں ہوئے  اور ان نازک حالات میں کسی نئے ایڈونچر کا شکار نہیں ہوئے اور بالآخر اب یہ کشیدگی جوش جنون دونوں غیر متعلقہ ٹیموں کے فائنل میں پہنچنے کے بعد تھوڑا ٹھنڈا کردے گی………