گیس کے ماہانہ بلوں میں ڈبل سے بھی زیادہ اضافے کی اجازت کس نے دی؟

بلی کو تھیلے سے باہر آنے سے کون روک رہا ہے؟

وزارت توانائی کے ارسطو اور بقراط کون ہیں؟

گیس کے بلوں نے عوام کو ہاٹ اٹیک کی طرح جھٹکا دیا ہے

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گھریلو بل ایسے بڑھا کر بھیجے گئے ہیں جیسے وہاں فیکٹریاں چل رہی ہوں۔ شہریوں کی شکایت۔ حکومت نے گیس بلوں کی تحقیقات کے لئے جو چار رکنی کمیٹی قائم کی ہے وہ کیا کرے گی اور اس کے ارکان کی شہرت کیسی ہے؟ عوام اس کمیٹی کے نتائج کے منتظر ہیں کہ اس کی کارکردگی کیسی رہی ہے یہ وہ ان کو کتنا ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔۔۔۔پورے ملک میں گیس کے بلو میں اضافے نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہ پریشان ہے کہ کے بلوں کی ادائیگی کیسے ممکن ہوگی ہر طرف مہنگائی کا سیلاب ہوتا نظر آ رہا ہے حکومتی دعوؤں کے برعکس لوگوں کے لئے زندگی آسان بننے کی بجائے مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے. لوگ نوکریوں سے نکالا بھی جا رہا ہے اور مجھے تنہا ہو کی ادائیگی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ پورے ملک میں لوگوں کے لیے مشکل وقت ہے جس سے ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی چلی جارہی ہے اسی طریقے سے عوام بھی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی چلے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے اقتصادی اور معاشی ٹیم کو فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ عوام نے چیئرمین نے تو گزار لی ہے لیکن اگر اس مہنگائی کا طوفان اسی طرح جاری رہا تو عوامی سطح پر بے چینی بڑھتی جائے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں