وزیر بلدیات اور ایم ڈی واٹر بورڈ کے ملازمین کے مطالبات

پہلے اسٹاف …. پھر باہر کے لوگ

جیوے پاکستان رپورٹ

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی مزدور یونین نے واضح کر دیا ہے کہ واٹر بورڈ میں ملازمین کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ سن کوٹہ پر ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاج کا حق رکھتے ہیں. پہلے اسٹاف پھر باہر کے افراد یہی ون پوائنٹ ایجنڈا ہے اور یہی مطالبہ۔

مزدور یونین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مرکزی دفتر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے صدر سید منور رضا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم ون پوائنٹ ایجنڈا پر قائم ہے جس میں ریٹائرڈ ملازمین انتقال کرجانے والے ملازمین اور پچاس سال عمر سے زائد ملازمین کے۔ بچوں کی بھرتی ہمارا سب سے بڑا مطالبہ ہے لہذا وزیربلدیات سیکرٹری بلدیات اور ایم ڈی واٹر بورڈ ہمارے اس مطالبے پر توجہ دیں

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملازمین کو بھرتی میں ترجیح نہ دی گئی تو واٹر بورڈ کی تمام یونین اور مزدور اور بالخصوص مزدور یونین کے خلاف بھر پور احتجاج کرے گی اور باہر سے ایک شخص کی بھی بھرتی نہیں ہونے دیں گے ہم حق دار کو اس کا حق دلوانے کے لئے کوئی بھی سمجھوتا کریں گے نہ ہی پیچھے ہٹیں گے اس موقع پر یونین کے عہدے داروں میں رحیم اعوان محترم شاہ مسعود الہی وزیر بنبرو رحمت مہنگا یوسف رضا اصغر تو نیو مرزا فاروق بیگ اعجاز نقشبندی ذوالفقار جوکیو امداد مغل محمد طفیل شیخ اور دیگر لوگوں نے شرکت کی مزدور یونین کے صدر نے یہ بھی کہا کہ آئندہ بہت جلد تمام یونینز کی میٹنگ بلا کر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

دوسری جانب یونائیٹڈ ورکرز یونین کے چیئرمین جوزف صنم صدر پنہل خان مگسی اور جنرل سیکرٹری اکرام خان کی طرف سے مطالبہ سامنے آیا ہے واٹربورڈ میں سروس بک اور دیگر ضروری ریکارڈ کی فوٹو سٹیٹ کی فراہمی کے لئے افسران اور عملے کی جانب سے پانچ سے دس ہزار روپے رشوت طلب کیے جانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں لہذا ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں الزام جھوٹا ثابت ہونے پر الزام لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور الزامات ثابت ہونے پر متعلقہ عملے اور افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ان کا کہنا ہے کہ واٹر کمیشن کے احکامات کی آڑ میں واٹر بورڈ کے تمام ملازمین سے ان کے تقرر نامے جوائننگ لیٹر پرموشن لیٹر زورہ اور تعلیمی اسناد طلب کی گئی ہیں جبکہ سرویس ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے جس پر بعض عناصر ریکارڈ کی فراہمی کے لئے رشوت طلب کر رہے ہیں اس سلسلے میں سی بھی یہ یونین کی مبینہ خاموشی بھی معنی خیز قرار دی جارہی ہیں انہوں نے مٹی واٹربورڈ سے اس سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں