وزیراعلیٰ سندھ کو گمراہ کن رپورٹس کس نے دی

تحریر نغمہ اقتدار

قصر ناز میں پراسرار موت کا شکار ہونے والی بلوچستان کی متاثرہ فیملی کے حوالے سے نئے حقائق سامنے آنے کے بعد یہ سوال اٹھے ہیں کی وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو گمراہ کن رپورٹس کون دیتا رہا۔۔۔۔۔جن کی بنیاد پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے فوری طور پر سندھ فوڈ اتھارٹی کو متحرک کیا اور سندھ فوڈ اتھارٹی میں فوری طور پر صدر میں واقعہ نو بہار ریسٹورینٹ اور اس کے ساتھ ساتھ سٹوڈنٹ بریانی کو سیل کر دیا اور کسرے ناز سے کھانوں کے نمونے لے کر لیبارٹری میں بھیجے گئے تو پتہ چلا کہ موت کی اصل وجہ تویہاں پر اسپرے کی جانے والی کیڑے مار دوا تھی۔

یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ وفاقی حکومت کے گیسٹ ہاؤس میں کچن انتہائی ناقص صورتحال میں ہے وہاں صفائی ستھرائی کا انتظام بالکل زیرو ہے اسی بنا پر سندھ فوڈ اتھارٹی نے قصر ناز کے کچن کو بھی سیل کر دیا اور پھر صدر میں واقعہ نوبہار ریسٹورنٹ کو اس لئے کیا گیا وہاں سے بریانی متاثرہ فیملی نے لی تھی اور وہ بریانی بابر سٹوڈنٹ بریانی والوں نےسپلائی کی تھی اس بنیاد پر سٹوڈنٹ بریانی کو بھی سیل کر دیا گیا اب رپورٹ بنائی جا رہی ہے کہ اسٹوڈنٹ بریانی کیا کہ چن پاکستان میں سب سے بہترین کچن اور اسٹیٹ آف آرٹ کا درجہ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابتدائی طور پر چیف سیکرٹری اور وزیراعلی کو جو رپورٹ پیش کی گئی تھی وہ غلط تھی بے بنیاد تھی اور گمراہ کون تھی میاں وزیر اعلی ہاؤس کو اپنی صفوں میں ان لوگوں کو تلاش کرنا چاہیے جو انہیں گمراہ کن رپورٹیں دے کر عجلت میں ایسے فیصلے کرواتے ہیں جن پر بعد میں جگ ہنسائی ہوتی ہے۔

مذکورہ واقعہ میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان کے بعد یہ حقیقت بھی عیاں ہو چکی ہے کہ گیسٹ ہاؤسز میں کیڑے مار دواؤں کے اسپرے کرنے کے حوالے سے کوئی باقاعدہ مکینیزم موجود نہیں ہے جو اس کی چیکنگ کرے نہ ہی اگلے کی کوئی خاص تربیت ہے عملے کو معلوم ہی نہیں ہے کہ گواہی کی مقدار کیا ہونی چاہیے کیسے ناز کے ایڈمنسٹریٹر اور صفائی ستھرائی کے انچارج سے باز پرس کی جا سکتی ہے لیکن ان کو ٹریننگ نہیں ہے۔کے ایسے معاملات کی نگرانی کیسے کی جا سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق فیملی نے رات 12 بجے کے قریب کھانا کھایا اور صبح پانچ بجے کا اموات ہو چکی تھی میاں بیوی اس لیے بچ گئے کہ بیوی کی طبیعت خراب ہونے پر اور اس کو آغا خان ہسپتال لے گیا تھا جہاں وہ زیر علاج رہی جب وہ واپس آئے تو بچے انتقال کر چکے تھے اور ان کی پھوپھی بھی ہوش تھی بعد میں اسپتال میں انتقال کر گئیں پوری فیملی نے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا تھا پورے کمرے میں کیڑے مار دوائی کے زرات پھیلے ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں