بھارت کے خلاف اچھا نہ کھیلے : سرفراز احمد کی پریس کانفرنس

سرفراز احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ کے حوالے سے بات کرنے آیا ہوں، ویسٹ انڈیز کیخلاف اچھا پرفارم نہ کرسکے۔ انگلینڈ کیخلاف کم بیک کیا لیکن سری لنکا کا میچ بارش کی نظر ہوگئے۔ کچھ واقعات ایسے ہوئے جو ہونے نہیں چاہیے تھے۔ بھارت کیخلاف ہم اچھا نہیں کھیلے جس کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہماری کوشش یہی ہوتی تھی کہ ملکر ٹیم بنائیں۔ ہم رن ریٹ کی وجہ سے سیمی فائنل نہ کھیل سکے۔ وکٹ کی کنڈیشن افغانستان کیخلاف میچ میں کافی بدل گئی تھی۔ کپتانی میں خود نہیں چھوڑوں گا بورڈ پر معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ چھپ کر وطن واپسی کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا۔ عامر کبھی ٹیم سے آوٗٹ نہیں ہوا تھا۔ ہم نے انگلینڈ سے کم بیک کا موقع محمد عامر کو دیا۔ کنڈیشنز کو سمجھتے ہوئے وہاب ریاض کو اسکواڈ میں شامل کیا تھا۔ حسنین کیلئے بدقسمتی رہی کہ اسے موقع نہ مل سکا۔ آخری اوورز میں حسن علی اور وہاب ریاض کو بھیجنے میں ترجیح دی۔ معافی مانگنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اتنی بری کارکردگی نہیں رہی جو سمجھی جارہی ہے۔ فخر زمان پر پوری امید تھی کہ وہ پرفارم کرسکے گا لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ ہر کھلاڑی کی کارکردگی میں اچھا برا وقت آتا رہتا ہے۔ جس انداز سے ابتدائی پانچ میچوں میں کارکردگی خراب رہی۔ سوچا نہیں تھا کہ ٹاپ فائیو میں ختم کرینگے ورلڈکپ۔  آخری چار میچز میں کارکردگی اچھی رہی، رن ریٹ کی وجہ سے سیمی فائنل میں رسائی نہ پا سکے،  بھارت کے میچ کے بعد بہت سخت صورتحال تھی، ٹیم میں گروپ بندی کی۔بات درست نہیں، اپنے لڑکوں سے کارکردگی پر بات کی، پہلے میچ میں رن ریٹ گرا، بلا جواز تنقید درست نہیں، جب برا کھیلتے ہیں تو تنقید ہی ہوتی ہے، بھارت سے شکست پر افسوس ہوا، پہلے پانچ میچز میں کارکردگی اچھی نہ رہی، اپنے نمبر پر بیٹنگ کروں تو اچھی پرفارمنس دیتا ہوں، کپتانی کے حوالے سے میرے فیصلہ کی اہمیت نہیں، فیصلہ پی سی بی کرے گی، اپنی ٹیم پر اعتماد تھا، رن ریٹ کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے، کچھ باتیں رپورٹ میں سامنے آئیں گی، بطور ٹیم ہم نے فائٹ کی، شعیب ملک کو آخری میچ میں موقع دینے کی خواہش دی تھی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ مستقبل میں اہلیت کی بنیاد پر کھلاڑی ٹیم میں جگہ بنائیں گے۔  عابد علی،آ صف علی، احمدشہزاد اور عمر اکمل کی ٹیم میں جگہ بن سکتی ہے۔بھارت سےمیچ کے بعدٹیم کے کھلاڑیوں سے بہت بات چیت کی،ٹیم ایونٹ میں واپس آئی۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے بورڈفیصلےکر رہا ہے، چار روزہ کرکٹ کو تقویت دینا ہوگی۔ اچھے نتائج دینے کی خواہش تھی، غلطیوں کوبہتر کرنے کی کوشش کی۔  92 میں افغانستان اور بنگلا دیش نہیں تھے۔ صرف میرےساتھ ہی نہیں دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ نا زیبا رویہ کے واقعات پیش آئے۔ اس حوالے سے ٹیم منیجمنٹ کورپورٹ کی۔ پوری قوم کا شکر گزار ہوں کہ اس نے ساتھ دیا۔