صوبائی وزیر کا کرونا کے لئے چینی دوا کے کامیاب ٹرائیل کا اعلان ٹرائل کی کامیابی کا اعلان تقریب کے دوران ہوا، ڈاکٹر عزرا فضل پیچو و دیگر کا جامعہ کراچی میں خطاب

صوبائی وزیر کا کرونا کے لئے چینی دوا کے کامیاب ٹرائیل کا اعلان

ٹرائل کی کامیابی کا اعلان تقریب کے دوران ہوا، ڈاکٹر عزرا فضل پیچو و دیگر کا جامعہ کراچی میں خطاب
اس کلینکل ٹرائل پاکستان میں کلینکل ریسرچ میں اعلیٰ درجے کی مہارت کی موجودگی کی دلیل ہے

کراچی: صوبائی وزیرِصحت و بہبودِآبادی سندھ ڈاکٹر عزرا فضل پیچو نے پیر کو سینٹر فار بائیوایکویلینس اسٹڈیز اینڈ کلینکل ریسرچ (سی بی ایس سی آر)، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے تحت کویڈ19 کے مریضوں کے علاج کے لئے ٹریڈیشنل چائینیز میڈیسن ’جن ہُوا قنجن گرینولس‘ کے کیلنکل ٹرائیل کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہایہ کلینکل ٹرائل پاکستان میں کلینکل ریسرچ میں اعلیٰ درجے کی مہارت کی موجودگی کی دلیل ہے۔
یہ بات انہوں نے کرونا کی دوا کے کلینکل ٹرائل کی عوامی اعلان کی تقریب کے دوران بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں کہی۔ تقریب کا انعقاد وزارتِ صحت و بہبودِآبادی سندھ، کامسٹیک، بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی اور متعد چینی کمپنیوں کے اشتراک سے ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے سائینس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین پروفیسرڈاکٹر عطا الرحمن، شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، پاکستان میں چین کے سفیر نانگ رونگ، چین میں پاکستان کے سفیرمعین الحق، سینٹر فار بائیوایکویلینس کے انچارج اور اس تحقیق کے پرنسپل محقق پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ، بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کی قائم مقام ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ شاہین، چینی اسکالر ڈاکٹر یو ویمنگ، امریکی ماہر ٹیری لائرمین اوردیگر چینی ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ واضح رہے کہ ٹریڈیشنل چائینیز میڈیسن کے ٹرائیل کا آغاز انڈس اسپتال کراچی کے تعاون سے کیا گیا تھا، جس میں کل300مریضوں پر یہ ٹرائل کیے گئے تھے۔
ڈاکٹر عزرا فضل پیچو نے اس کلینکل ریسرچ میں متحرک ماہرین اور متعلقہ ادروں کو مبارکباد دی، اور کہا کہ صحت اور امراض سے متعلق ملکی مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے یہ ٹرائل یقیناًایک اہم پیش رفت ہے، یہ خوشی کی بات کے کہ محکمہ صحت سندھ پہلے ہی136ملین روپے کی لاگت سے بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی میں سائنو پاکستان ٹریڈینشل میڈیسن سینٹر قائم کرچکا ہے تاکہ سندھ کی عوام کو اس روائتی ادویات سے فائدہ پہنچ سکے۔
پروفیسرعطا الرحمن اس کلینکل ٹرائل کو تاریخی موقع قرار دیا اور کہا کہ چینی دوا پر یہ ملک میں پہلا ٹرائل ہے جبکہ اس کی حیثیت بین الاقوامی بھی ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان اور چین کی قریبی دوستی کو اعلیٰ تعلیم، سائینس اور ٹیکنالوجی، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جسیے محاذ وں پر مزید فروغ مل رہا ہے، انہوں نے کہا اس قوم کا مستقبل مضبوط علم پر مبنی معیشت پر مضمر ہے۔
پروفیسر خالد عراقی نے وبائی امراض کے زمانے نے میں احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا اور کہاگزشتہ70سال میں چین نے روائتی ادویات کے میدان میں خاطر خواہ ترقی کی ہے، انہوں نے اساتذہ کی لیاقت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ بین الاقوامی مرکز نے فیکلٹی ڈیویلپمنٹ میں خواب کام کیا۔ پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا انہوں نے کہا جن ہُوا قنجن گرینولس میڈیسن دراصل جوشیچنگ فارماسیوٹیکل کمپنی نے بنائی ہے۔ سینٹر فار بائیوایکویلینس اسٹڈیز اینڈ کلینکل ریسرچ جامعہ کراچی کو سرکاری طور پر محکمہئ صحت سندھ کا تحقیقی ادارہ قرار دیا گیا ہے جہاں پر صحت سے متعلق تحقیق کام سرانجام دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ملک میں پی ایچ ڈی کرنے والوں میں 20 بین الاقومی مرکز سے سند یافتہ ہیں، جو ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ چینی سفیر نانگ رونگ نے پاکستانی ماہرین کو کامیاب ٹرائل کرنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک میں کے درمیان مزید تعاون بڑھے گا۔ چین میں پاکستان کے سفیرمعین الحق نے موجودہ وبائی مرض کے زمانے میں کرونا سے نبرد آزما ہونے کے لئے پاکستانی ماہرین کی مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا، اور پاک چین دوستی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔پروفیسر رضا شاہ نے کہا کہ چینی ادویات پر کلینکل ریسرچ کرنا سینٹر فار بائیوایکویلینس کا مینڈیٹ ہے، اس ٹریٹمنٹ سے مریضوں کو متعدد علامات جیسے کھانسی، بلغم، گلے سوزش، سر درد، ناک کی بندش وغیرہ سے فوراً نجات مل گئی تھی جبکہ اس دوران بلڈ ٹیسٹ، پیشاب کا تجزیہ، گردے اور جگر کی کارکردگی کا ٹیسٹ وغیرہ بھی ہوتا رہا۔

میڈیا ایڈوائرز