انٹر بورڈ کراچی ۔۔۔۔۔ اندھیر نگری چوپٹ راج

انٹر بورڈ کراچی میں ایک ایسا مافیا ہے جو طالبعلموں کے کیریئر سے کھیل رہا ہے شہریوں کی شکایات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ذہین قابل اور لائق بچے ہیں ان کو جان بوجھ کر یا تو فیل کردیا جاتا ہے یا ان کے مارکس کم کر دیے جاتے ہیں یا ان کے نمبروں میں ہیر پھیر کر دیا جاتا ہے۔ یہ شکایات نئی نہیں ہے لیکن ان کا سد باب بھی نہیں ہو رہا۔ موجودہ چیئرمین کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کہ وہ ایک ذہین قابل اور ریسرچ کرنے والے پروفیسر ہیں اور سسٹم کو بہتر انداز سے چلا پائیں گے لیکن ان کی ذہانت قابلیت اور صلاحیت انٹربورڈ کی کالی بھیڑوں کے سامنے مار کھا گئی۔ اینٹی کرپشن کے تازہ چھاپے نے حقیقت عیاں کردی کہ صورتحال کتنی خراب ہوچکی ہے اور سسٹم کی مکمل تباہی کے ذمہ دار خود موجودہ چیئرمین بھی ہیں کیونکہ وہ انتظامی طور پر بورڈ کی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سرنڈر کر دیا ہے یا ان پر کوئی خوف طاری ہے اور وہ خوفزدہ ہوچکے ہیں لیکن اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان شہر کے قابل ذہین بچوں کو پہنچ رہا ہے نالائق بچوں کے نمبرز بڑھا دیے جاتے ہیں اور ذہین بچوں کے نمبر کم کر دیے جاتے ہیں اس گھناؤنے عمل میں مختلف درس گاہوں اور پرائیویٹ اکیڈمیوں کے کرتا دھرتا لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس کو سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار بلکہ انڈسٹری کا روپ دے رکھا ہے ایسے لوگوں نے بولے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے اور نوجوان نسل کو صحیح طریقے سے آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں اور غلط راستے پر ڈال رہے گلے میں جو اس مافیا سے ملی بھگت کرنے والے والدین بھی قصوروار ہیں۔ موجودہ چیئرمین اپنے مخصوص بیک گراونڈ اور مخصوص ذہنیت کی وجہ سے کئی ایسے نکات پر بھی اسٹینڈ لیتے ہیں جن پر باقی تمام شخصیات دلائل بر خطبات کرتی ہیں لیکن چیئرمین صاحب دلیل نہیں مانتے بلکہ اپنی منطق پیش کرتے ہیں جس کا نقصان طالبعلموں کو ہوتا ہے خاص طور پر جنہیں اپنا کوئی مضمون Repeat کرنا پڑتا ہے ان سے ایک کی بجائے تمام پرچے دوبارہ دلائے جاتے ہیں۔ انٹر بورڈ کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ معاملہ نتائج مرتب کرتے وقت گڑبڑ کا شکار ہو جاتا ہے اور سب سے زیادہ گڑبڑ آئی ٹی کے شعبے میں موجود ہے جب نتائج مرتب کیے جاتے ہیں تو کمپیوٹر سیکشن میں ہی ساری گڑبڑ کی جاتی ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ٹی اور کمپیوٹر سیکشن پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور یہاں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں