کراچی کے شہریوں نے ایم کیو ایم کے روایتی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر ان کی کال کو مسترد کردیا، عوام وفاقی حکومت اور اس کی معاشی دہشتگردی سے تنگ ہیں : سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اپنی روایتی سیاست کے تحت آج بھی شہریوں کو پہلے بحرانوں میں مبتلا کرتی ہے اور بعد میں انہیں کو لے کر مظاہرے کرتی ہے لیکن گذشتہ روز کراچی کے شہریوں نے ان کی روایتی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر ان کی کال کو مسترد کردیا۔ عوام وفاقی حکومت اور اس کی معاشی دہشتگردی سے تنگ ہیں۔ کے ایم سی کی بجلی کے ریگولر بلز بھی ادا نہیں کررہی ہے جبکہ ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر 58 کروڑ میں سے کے الیکٹرک سے کئے گئے معاہدے کے تحت 34 کروڑ کی ادائیگی بھی کردی ہے۔ گورنر سندھ کے پاس ایسا جادو ضرور ہے کہ سب رات 10 بجے کے بعد مدہوش ہوجاتے ہیں۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک کی خبریں ماضی میں بھی پھیلائی جاتی رہی ہیں لیکن اس کی خواہش رکھنے والوں کو ہمیشہ ناکامی ہی ہوئی ہے۔ سید ناصر حسین شاہ الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے گھوٹکی الیکشن کی مہم میں جانے کی وجہ سے وزارتوں سے مستعفیٰ ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز ایم کیو ایم نے ناکام مظاہرہ کیا اور اس کی وجہ شہریوں کی جانب سے ان کی کال کو مسترد کرنا تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم آج بھی اپنی روایتی سیاست جس میں پہلے خود بندہ مارو، پھر اس کا جنازہ اٹھاتے، اس کی تدفین، سوئم، چہلم اور برسی مناتے ہیں اور اب یہ کام انہوں نے واٹر بورڈ کے معاملے پر بھی شروع کیا ہے کہ پہلے خود پانی اور سیوریج کے نظام کو تباہ کرتے ہیں اس کے بعد وہ انہی شہریوں کو لے کر احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو روز قبل بھی ملیر نیشنل ہائی وے پر سیوریج کا سنگین مسئلہ ہوا اور وہاں بنائی گئی نئی سڑک کو بھی اس سے نقصان پہنچا اور جب وہاں واٹر بورڈ نے کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ لائن میں بہت بڑا پتھر پھنسایا کر سیوریج کے نظام کو تباہ کیا گیا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم شہر میں پانی کے ترسیلی نظام کو مصنوعی بحران میں مبتلا کررہی ہے اور گذشتہ روز ان کے مظاہرے میں ان کے وہی کارکنان جو واٹر بورڈ کے ملازم بھی ہیں وہی موجود تھے اور انہوں نے ہی شہر بھر میں بینرز بھی لگائے۔



سعید غنی نے کہا کہ آج بھی ایم کیو ایم کے عہدیداران اور کارکنان واٹر بورڈ کے ملازم ہیں اور وہ تنخواہ سرکار کی کرتے ہیں اور ڈیوٹیاں بہادرآباد پر دیتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی اعتراض نہیں کہ کون کس سیاسی جماعت کا کارکن ہے لیکن ادارے کی ملازمت اور ڈیوٹیاں بہادرآباد پر اور شہریوں کو پانی کی ترسیل کو بہتر بنانے کی بجائے ترسیلی نظام کو تہس نہس کرنا یہ منظور نہیں ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی واٹر بورڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی کروں گا اور جو جو اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں ان کے شواہد ملنے پر ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی بھی کروں گا۔ سعید غنی نے کہا کہ پانی کا مسئلے پر ایم کیو ایم احتجاج کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اس وقت عوام کا اس سے بڑا مسئلہ روزمرہ کی اشیاء، گیس، بجلی، پیٹرول، کھانے پینے کی اشیاء پر جس طرح وفاقی حکومت کے آئی ایم ایف بجٹ نے حملہ کیا ہے اس پر ان کی خاموشی اور آدھی وزارت کے لئے عوام دشمن معاشی دہشتگرد بجٹ کو ووٹ دینے پر ضرور اعتراض ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ حکومت کے خلاف جو کچھ کرنا چاہے کرے لیکن اللہ کے واسطے وفاقی حکومت کی سپورٹ میں وہ کم از کم کراچی کے شہریوں کے پانی اور سیوریج کے نظام کو تباہ نہ کرے۔کے الیکٹرک کی جانب سے کے ایم سی کی بجلی کو منقطع کردینے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ کے ایم سی اس کے حقائق کو بھی سامنے لانا نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے سپریم کورٹ میں کے ایم سی کی جانب سے اربوں روپے کے بلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ایک کیس دائر کیا، اس کے فیصلے کے طور پر عدلیہ نے کے ایم سی کو کے الیکٹرک کو 58 کروڑ روپے کے واجبات کی ادائیگی اور ریگولر بلز کی ادائیگی کے احکامات دئیے لیکن مئیر کراچی نے عدلیہ سے استدعا کی کہ وہ واجبات کی ادائیگی اس وقت نہیں کرسکتے اس لئے صوبائی حکومت سے کہا جائے کہ وہ ادا کردے ہم انہیں اقساط کی صورت میں ادا کردیں گے،



جس کے بعد سندھ حکومت نے معزز عدلیہ کی استدعا پر 58 کروڑ روپے کی ادائیگی کے الیکٹرک کو اقساط میں کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا اور اب تک اس میں سے وعدے کے مطابق سندھ حکومت 34 کروڑ روپے کی ادائیگی کرچکی ہے اور مزید باقی مانندہ 24 کروڑ روپے کی اقساط میں ادائیگی شیڈول کے تحت کی جائے گی لیکن کے ایم سی نے ریگولر بلز کی ادائیگی بھی نہیں کی اور وہ اب چاہتی ہے کہ وہ بھی ہم ہی ادا کریں جبکہ ہم سالہا سال سے کے ایم سی کو تنخواہوں کی مد میں 50 کروڑ روپے ادا کرتے رہیں ہیں اور اس وقت بھی ماہانہ 43 کروڑ روپے کے ڈی اے سے کے ایم سی کی علیحدگی کی مد میں 30 کروڑ اور 13 کروڑ روپے سالانہ گرانٹ کی مد میں ادا کررہی ہے اب کے ایم سی چاہتی ہے ہم 7 کروڑ روپے ماہانہ بھی ہم کے الیکٹرک کو ان کے بلز کی مد میں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے اپنے آمدن کے ذرائع ہیں جو وہ مختلف مد میں وصول کرتی ہے لیکن گذشتہ 3 سے 4 سال سے اپنا حدف بھی پورا نہیں کرتی، میں ان کو آفر دیتا ہوں کہ وہ ہم سے جو رونیو کا ہدف ہے وہ لے لیں اور ہمیں تمام ریکوریز سپرد کردیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سے قبل ہمیں وفاق سے 15 ارب روپے جی ایس ٹی کی مد میں ملتے تھے اور جب یہ وفاق سے صوبے کے سپرد ہوئے تو ہم نے پہلے سال ہی اس کو بڑھا کر 25 ارب اور چار سال میں اسے 100 ارب تک پہنچا دیا لیکن کے ایم سی آج بھی 4 سال میں اپنے خود کے ہدف کو بھی مکمل نہیں کررہی اور وہ صرف گرانٹ پر ہی ادارہ چلانا چاہتی ہے۔



انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمیں اپنا شئیر نہیں دے گی تو ہم نیچے بھی شئیر دے سکیں گے اور ہم سے توقع رکھنے والے خود وفاقی حکومت کے ساتھ ہیں تو وہ کیوں ان کو نہیں کہتے کہ وہ سندھ کے حصے کی رقم سندھ کو ادا کریں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کے تحت کام کرتی ہے، ہم وزیر اعظم، وفاقی وزراء اور گورنر سندھ کی طرح ان قواعد و ضوابط کو پامال نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ سید ناصر حسین شاہ نے وزارتوں سے استعفیٰ اس لئے دیا کہ الیکشن کمیشن کے قواعد کے تحت کوئی وزیر الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکتا اور سید ناصر حسین شاہ گھوٹکی کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کی مہم کے لئے گئے ہیں اس لئے انہوں نے وزراتوں سے استعفیٰ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس بات کی خواہش کرنے والوں کو ناکامی ہوئی۔ فواد چوہدری بھی جب وزیر بنے تو اس خواہش کو لے کر سندھ آئے لیکن پیر پگارا نے بھی ان سے ملنے سے انکار کردیا۔ گورنر سندھ کی جانب سے 48 گھنٹے بہت ہیں کہ سوال پر انہوں نے کہا کہ بنی گالا اور وزیر اعظم ہاؤس میں بھی جادو چلتا ہے اور گورنر سندھ کے پاس تو ایسا جادو ہے کہ وہ جب جادو کرتے ہیں تو رات 10 بجے بعد سب مدہوش ہوجاتے ہیں۔