شیخ رشید سے رانا ثناء اللہ تک ….. 1995ء سے 2019ء تک

تحریر: عبدالجبارناصر

  موجودہ وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد روز اول سے پیپلزپارٹی کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے ، کیونکہ جہاں شیخ رشید احمد شہید بھٹو کے خلاف تحریک میں پیش پیش تھے وہیں یہ الزام بھی ہے کہ موصوف 1988ء کی ’’تصوری مہم ‘‘ میں بھی مبینہ طور ایک اہم کردار تھے،1988ء میں چاہتے ہوئے بھی پیپلزپارٹی شیخ شید احمد کے خلاف کارروائی نہ کرسکی ، اس کے دوہی اسباب نظر آتے ہیں ، شیخ رشید احمد اور ان کی جماعت مقتدر قوتوں کی خاص اور پنجاب میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی ۔ کہتے ہیں کہ 1993ء میں دوسری بار مرکز اور پہلی بار پنجاب میں حکومت بنانے کے بعد پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو 1993ء نے وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو کو شیخ رشید احمد کو سبق سکھانے کا ٹاسک دیا ، بعض کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کو سبق سکھانے کا فیصلہ محترمہ بے نظیر بھٹوکا نہیں بلکہ ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین (وفاقی وزیرفواد چودھری کے چچا)‘‘کا تھا۔

پیپلز پارٹی کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہوا جب قومی اسمبلی میں وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے ’’پیلے لباس ‘‘ کودیکھتے ہو شیخ رشید احمد نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے انتہائی نازیبا جملہ استعمال کیا ، کہتے ہیں کہ اس کی شکایت قائد حزب اختلاف اور شیخ رشید احمد کے قائد میاں نوازشریف سے بھی کی گئی اورپھر 1995ء ایک دن شیخ رشید احمد کے پبلک سیکٹریٹ لال حویلی پر چھاپہ پڑاور شیخ رشید احمد کے پلنگ کے نیچےرکھی غیر قانونی کلاشنکوف برآمد کرلی گئی اور شیخ رشید احمد کو اس جرم میں گرفتار ، پھر عدالت سے 7 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوئی ۔ کہتے ہیں کہ شیخ رشید احمد کے خلاف سب کچھ جعلی تھا اور سزا کا حتمی فیصلہ بھی جج نے گورنر پنجاب کے حکم کے مطابق کیا۔ شیخ رشید احمد کئی ماہ تک جیل میں رہے اور پھر رہا ہوئے ۔ 1997ء ، 2002ء، 2008ء اور 2018ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور آج وفاقی وزیر ریلوے اور وزیر اعظم عمران خان کے خاص ہیں۔



رانا ثناء اللہ بھی کافی عرصے سے تحریک انصاف اور اس کے قائد وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے، کیونکہ مخالف کو سخت سے سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جواب دیتے تھے اور بعض اوقات انتہائی نازیبا زبان استعمال بھی کرتے ہیں ،حکومت سازی کے بعد ہزار کوشش کے باوجود تحریک انصاف کو گرفت کا جواز نہ ملا یا صبر سے کام لیا گیا مگر کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مشیر شہباز گل کی جانب سے ن لیگ کی قیادت کے خلاف سخت زبان کے استعمال کے جواب میں جب رانا ثناء اللہ نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’شہباز گل غلط زبان کے استعمال سے بعض آئے ورنہ ہم ۔۔۔خاندان سے ۔۔۔کی چیخوں تک جائیں گے‘‘۔
اس کے بعد ہر صورت رانا ثناء اللہ کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا اور پھر یکم جولائی 2019ء کو ’’رانا ثناء اللہ کو گاڑی میں بھاری مقدار میں منشیات اسلام آباد سے لاہور اسمگل ‘‘ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ۔یقینا اب عدالت میں پیشی ہوگی ۔ کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ جلد سامنے آئے گا!



رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم آج بھی90کی دہائی میں ہی کھڑے ہیں ،کل اقتدار پربے نظیر بھٹو اور نواز شریف تھے اور نشانہ اپوزیشن تھی تو آج اقتدار پر عمران خان ہے اور نشانہ آج بھی اپوزیشن ہے ۔ کل بھی سب سیاسی انتقام تھا اور آج بھی یہی لگتا ہے۔ کل شیخ رشید احمد پرغیر قانونی کلاشنکوف کا الزام سیاسی انتقام اور زبان بندی کا ہتھیار تھا اور آج رانا ثناء اللہ بھی اسی طرح کی کیفیت سے گزر رہے ہیں اور کب حالات بدلتے ہیں اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ،کیونکہ ’’سب ایک پیج پر ہیں‘‘۔جیل سے باہر آنے کے بعد شیخ رشید احمد نے کہا تھاکہ میں نے جیل میں بد زبانی سے بعض آنے کا سبق سیکھا ہے مگر یہ سبق شاید ایک محدود وقت تک یاد رہا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ بھی کچھ سبق سیکھتے ہیں یا حسب سابق اپنی بے قابو زبان کا استعمال اور جارحانہ رویہ برقرار کھتے ہیں۔