پاکستانی کھلاڑیوں اور تماشائیوں سے بدسلوکی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے افغان تماشائیوں کی گرفتاریا ں شروع

پاکستانی کھلاڑیوں اور تماشائیوں سے بدسلوکی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے افغان تماشائیوں کی گرفتاریا ں شروع ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان اور افغانستان کہ تماشائیوں کے درمیان ہونے والی ہنگامہ آرائی کا آئی سی سی  اور برطانوی پولیس نے سخت نوٹس لیا ہے  افغان تماشائیوں کی طرف سے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ بدسلوکی اور پاکستانی تماشائیوں پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے بعد ان کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے کچھ تماشائیوں کو سکیورٹی اہلکاروں نے اسٹیڈیم نہیں دبوچ لیا جبکہ کچھ کو بعد میں گرفتار کیا گیا آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ہم اس طرح کے رویے کو برداشت نہیں کرتے جن لوگوں کی جانب سے کیے گئے ہنگامی کے خلاف ایکشن لینا ضروری ہے جس سے کثیر تعداد میں موجود مداحوں کی تفریح متاثر ہوئی ۔میچ کے دوران سٹیڈیم کے اندر اور اسٹیڈیم کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی مارپیٹ بدسلوکی اور ایک دوسرے پر خوشیاں پھینکنے بوتلیں مارنے اور گھونسے لاتیں مارنے کی ویڈیوز دنیا بھر میں وائرل ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے برطانوی پولیس کو حرکت میں آنا پڑا 2 افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے مزید کی نشاندہی کے بعد ان کی گرفتاریوں کا امکان ہے ۔شکست خوردہ افغان شائقین اپنی ٹیم کی شکست برداشت نہیں کر سکے اور جشن منانے والے پاکستانیوں پر ہلہ بول دیا ۔پاکستانی کرکٹر وہاب ریاض پر حملے کی کوشش کی گئی جسے سیکیورٹی گارڈ نے ناکام بنادیا اور حملہ آور کو دبوچ لیا افغانستان کی شکست کے بعد افغان تماشائیوں نے گراؤنڈ میں گھس کر حملے کی کوشش کی اور پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے صورتحال خطرناک ہوگئی تھی لیکن سیکورٹی گارڈ نے مداخلت کر کے حملہ آوروں کو روک لیا سیکورٹی اہلکار انہیں دبوچ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے بعض شرپسند افغان تماشائیوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے مزید پولیس طلب کی گئی ۔پاکستان کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی سے مزید سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست بھی کر دی ہے ۔ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ وں کے موقع پر تماشائیوں کے درمیان تلخ جملوں اور علامہ رہی کا خدشہ رہتا تھا لیکن اب افغانستان اور پاکستان کے میچوں میں بھی صورتحال کشیدہ نظر آنے لگی ہے آنے والے میچوں میں اس حوالے سے سیکورٹی کے مزید انتظامات کی ضرورت نظر آرہی ہے ۔ورلڈ کپ کے میچوں میں پاکستان اور دیگر ٹیموں کے درمیان مقابلوں کے موقع پر سکھ تماشائیوں کی جانب سے پاکستان کا پرچم لہرانے اور خالصتان زندہ باد کے نعرے لگانے کے واقعات کی ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہیں ۔ورلڈ کپ کے میچوں میں بھی سیاست حاوی نظر آنے لگی ہے سیاست کی کشیدگی کی وجہ سے کھلاڑیوں اور کھیل دیکھ کر لطف اندوز ہونے والے تماشائیوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔اگر سکیورٹی کے انتظامات بہتر نہ بنائے گئے تو آنے والے میچوں میں تماشائی اسٹیڈیم آتے ہوئے گھبرائیں گے ۔