سندھ سوشل سیکورٹی کا نئے مالی سال کا بجٹ منظور

سندھ سوشل سیکورٹی کا 6  ارب 98 کروڑ41لاکھ03ہزار روپے کا فاضل بجٹ منظورآئندہ مالی سال 77کروڑسے زائد خالص فاضل آمدنی متوقع ہے،طبی سہولتوں اور مالی فوائد کیلئے 4  ارب27کروڑ08لاکھ 06ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں،کمشنر سیسی کراچی(29 جون) سندھ ایمپلائزسوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کا بجٹ اجلاس صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل/چیئرمین گورننگ باڈی سیسی غلام مرتضیٰ بلوچ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 2019-20 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ بجٹ کمشنر سیسی کاشف گلزار شیخ نے پیش کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری لیبر عبدالرشید سولنگی،اراکین گورننگ باڈی شاہجہاں احمد شیخ، زاہد سعید، عبدالواحدشورو، ناصرعزیزمنصور، محمدخان ابڑو،چیف انویسٹمنٹ اسپیشلسٹ فنانس ڈیپارٹمٹ گورنمنٹ آف سندھ سید شاہنوازنادر شاہ،  ڈائریکٹرفنانس عامر عطا، ڈائریکٹرآڈٹ اور میڈیکل ایڈوائزرڈاکٹر ممتاز شیخ کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  چیئرمین گورننگ باڈی سیسی مرتضیٰ بلوچ نے کہا کہ سوشل سیکورٹی اسکیم کا بنیادی مقصد محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو بہتر سے بہتر سہولتوں کی فراہمی ہے اور اس کے لئے سیسی کے آئندہ مالی سال 2019-20کے بجٹ میں تمام پیرا میٹرز کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقی معنوں میں ”محنت کش دوست“ بجٹ بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیر محنت نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود کیلئے  4ارب 27کروڑ 08لاکھ  6ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے صرف طبی سہولتوں کی فراہمی پر 4ارب 14کروڑ 48لاکھ 35ہزار روپے خرچ کیے جائیں گے جو کہ کل اخراجات کا 67فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کراچی کیلئے 4 نئی ڈسپنسریاں بھٹائی آباد، گلشن معمار، میمن گوٹھ اور شیرشاہ میں قائم کرنے کیلئے 75 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ بجٹ میں کلثوم بائی ولیکا اور لانڈھی ہسپتال میں نرسنگ اسکول، لانڈھی ہسپتال میں شعبہ حادثات کی جاری ترقیاتی اسکیموں، آٹو میشن اور سوشل سیکورٹی کی یونیورسلائیزیشن کیلئے 378 ملین روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ اس موقع پر سیکریٹری لیبرعبدالرشید سولنگی نے بجٹ کو متوازن قرار دیا۔قبل ازیں بجٹ پیش کرتے ہوئے کمشنرسیسی کاشف گلزار نے کہاکہ چیئرمین گورننگ باڈی کی ہدایت پر بجٹ کو ”محنت کش دوست“ بنانے پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی گئی ہے تاکہ صوبے کے زیادہ سے زیادہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو سوشل سیکورٹی اسکیم کے فوائد حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صنعتی و تجارتی ادارے جہاں کم از کم پانچ ایسے افراد ملازم ہوں، سوشل سیکورٹی اسکیم میں رجسٹریشن کے اہل ہیں۔ انہوں نے بجٹ کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال میں سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں آمدنی کا تخمینہ 6 ارب 45کروڑ18لاکھ 62ہزار روپے لگایا گیا ہے جس میں خالص فاضل آمدنی 77کروڑ28لاکھ 28ہزار روپے متوقع ہے۔ بجٹ میں کل اخراجات کا تخمینہ  6ارب 21کروڑ 26لاکھ 41ہزار روپے لگایا گیا ہے۔واضح ہے کہ سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت محنت کشوں کو بیماری،معذوری، زچگی، دورانِ کار چوٹ، انتقال، خاتون محنت کشوں کو ان کے شوہر کے انتقال پر عدت الاؤنس جیسی مختلف صورتوں میں نقد مالی معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے اس مقصد کے لئے نئے مالی سال کے بجٹ میں 12کروڑ 59لاکھ 64ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔         (منصور معطر)        ڈائریکٹرتعلقات عامہ         0300-3918123