جامعہ این ای ڈی کا ستائیسواں سینٹ اجلاس

تھر میں این ای ڈی کا سب کیمپس شروع کرنے جارہے ہیں،دنیا بھر کی یونیورسٹیز میں این ای ڈی کی رینکنگ پورے ملک کے لیے باعثِ فخر ہیں،مہنگائی کے مقابلے میں سندھ حکومت چاہتی تھی کہ تنخواہوں اور پینشن میں پچیس فی صد اضافہ کیا جائے مگروسائل کی کمی کی وجہ سے صرف پندرہ فی صد ہی بڑھا سکے،

سندھ حکومت این ای ڈی کو پہلے بھی سپورٹ کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی، ان خیالات کا اظہار سینئر صوبائی وزیر/پرو چانسلر انجینئرنگ یونی ورسٹیز ناصر حسین شاہ نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت ستائیسویں سینٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ تھر میں این ای ڈی کا سب کیمپس شروع کرنے جارہے ہیں،این ای ڈی کا بڑھتا ہوا معیار اور اس کے فارغ التحصیل انجینئرز تمام جامعات کے لیے مثال ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے شیخ الجامعہ سمیت تمام اساتذہ اور اسٹاف کو مبارک باد پیش کی۔



ان کا کہنا تھاکہ وفاقی حکومت غربت مٹاؤ نہیں غریب مٹاؤپالیسی پر گامزن ہے، مہنگائی کے مقابلے میں سندھ حکومت چاہتی تھی کہ تنخواہوں اور پینشن میں پچیس فی صد اضافہ کیا جائے مگروسائل کی کمی کی وجہ سے صرف پندرہ فی صد ہی بڑھا سکے۔ان کا کہنا تھاکہ کارکردگی کے لحاظ سے صوبہ سندھ سب سے بہتر ہے جس کی ایک وجہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ ہیں۔ جامعہ میں ٹرانسپورٹ کی سہولت میں بہتری کے سوال پر ان کا کہنا تھاکہ سندھ حکومت این ای ڈی کو پہلے بھی سپورٹ کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔اجلاس میں 2017تا 2018کے سالانہ اکاوٗنٹ کی رپورٹ کی منظوری، 2018تا 2019 کی رپورٹ جب کہ 2019تا2020 کا بجٹ بھی پیش کیا گیا۔



اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے بجٹ کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ2018-19کے بجٹ کا آغاز (184.225) ملین خسارے سے ہواتھالیکن یونیورسٹی نے اسے 1.287 ملین کے سرپلس سے تبدیل کیا۔ وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے بجٹ کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ2018-19کے بجٹ کا آغاز (184.225) ملین خسارے سے ہوالیکن یونی ورسٹی نے اسے 1.287 ملین کے سرپلس سے تبدیل کیا، 2019-20 کا بجٹ2,970.225 ملین کا ہے، اس بجٹ کی ابتدا بھی 188.660))ملین کے خسارے سے ہورہی ہے جسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔