جالب کی سیاسی نظموں کا پس منظر۔ مجاہد بریلوی کی کتاب جالب جالب سے اقتباس

حبیب جالب کا بنیادی طور پر ایک عوامی شاعر کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز ان کی نظم دستور ہی سے ہوا ۔یہ نظم ان کے دوسرے مجموعہ کلام سرمقتل میں شامل تھی جس کے چار ایڈیشن ایک ماہ میں شائع ہوئے اور ضبط ہوئے ۔جالب صاحب کی اس زندہ جاوید نظم کی شان نزول یہ بتائی جاتی ہے کہ مری میں ہر سال ایک کل پاکستان مشاعرہ بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ۔ایک غزل گو شاعر کی حیثیت سے وہ مشاعروں میں بلائے جانے لگے تھے ۔اس زمانے میں جگر مراد آبادی اور زہرہ نگاہ کے ترنم کی بڑی دھوم تھی ۔جالب صاحب کی مقبولیت کا بھی ایک بڑا سبب ان کا ترنم تھا جالب صاحب بتاتے ہیں کہ مری کے مال روڈ پر جسٹس سردار اقبال ٹہلتے ہوئے مل گئے جو اس مشاعرے کے صدر تھے تھے ۔جسٹس صاحب نے حبیب جالب سے پوچھا بھائی کونسی غزل سنا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جالب  صاحب نے کہا ۔جسٹس صاحب آج تو میں ایک نظم دستور سنا رہا ہوں یہ جو ایوب خان کا دستور آیا ہے نا  اس پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسٹس صاحب جالب صاحب سے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ایسا نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔ورنہ پھر تمہارا مریم ہی داخلہ بند نہیں ہوگا بلکہ جیل بھی جاؤ گے ۔ اس وقت تک ایوب خان مخالف فضا بن چکی تھی مشہور مزاح نگار ظریف جبلپوری جب  اپنے مزاحیہ شاعروں سے خوب داد سمیٹ چکے تو حبیب جالب کو مشاعرے کے ناظم کرم حیدری نے دعوت دی ۔جالب صاحب نے مشاعرے کے صدر جسٹس سردار اقبال اور مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔آج میں ایک سیاسی نظم دستور پڑھوں گا اور پھر یہ کہہ کر ۔۔۔۔۔۔ ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا  کا بند پڑھا ہی تھا کہ ہزاروں کا مجمع بےقابو ہو گیا ۔نظم کے اختتام پر جالب صاحب جب اسٹیج سے اترتے ہیں تو ایک جلوس انہیں لے کر باہر نکلتا ہے ۔دستور آگ کی طرح سارے ملک میں پھیل جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ہی ان کی پہلی گرفتاری ہوتی ہے لیکن گرفتاری اس نظم پر نہیں ہوتی بلکہ لاہور کے ایک مشہور بدمعاش وارث کو چاقو مارنے کا الزام ان پر لگتا ہے ۔پولیس کے مطابق حبیب جالب نے جوا کھیلنے اور گانا سننے کے لیے وارث سے ادھار پیسے لیے تھے ۔اور جب وارث نے پیسے مانگے تو حبیب جالب نے جو شراب پئے ہوئے تھے اس بدمعاش پر چاقو سے حملہ کردیا ۔لاہور کی ایک عدالت میں جب مقدمہ چلا تو ممتاز قانون دان میاں محمود علی قصوری جالب  صاحب کے دفاع میں پیش ہوئے ۔قصوری صاحب نے عدالت کے سامنے جسٹس اسلم ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب میں جالب اور اس کے خاندان کو جانتا ہوں اس نے چاقو تو کیا کبھی کسی کو آنکھ بھی نہیں ماری ہو گئی ۔ گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ کا حکم تھا کہ جالب جیل سے باہر نہ آئے مگر اس مقدمے کی اخبارات میں ایسی بھد اڑی  کہ حکومت کو شرمندہ ہو کر حبیب جالب کو رہا کرنا پڑا  مگر کچھ دن بعد ہی نقص امن میں پھر پکڑ لئے گئے تو آئیے اس تاریخی نظم سے لطف اندوز ہوں ۔۔ کہ پانچ دہائی بعد بھی اردو کی مقبول ترین نظم ہے  دستور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے  .  وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے  ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا ،میں نہیں مانتا  میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے  ظلم کی بات کو ،جہل کی رات کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول  شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو  جان رندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو  اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا 
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں  چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں  تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا 
(جاری ہے )