سزائے موت کے اعداد و شمار پر مبنی جسٹس پراجیکٹ پاکستان کا آن لائن ڈیٹا بیس لانچ کر دیا گیا، رپورٹ: وحید جنگ

کراچی: جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے سزائے موت کے اعدادوشمار پر مبنی آن لائن اوپن سورس ڈیٹا بیس لانچ کر دیا ہے۔ اس ڈیٹا بیس میں 2014 سے اب تک دی جانے والی تمام پھانسیوں سے متعلق کوائف اور پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں سے متعلق اعدادوشمار شامل کیے گئے ہیں۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

ڈیٹا بیس لانچ کرنے کی تقریب پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں منعقد کی گئی جس میں صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور سیاسی شخصیات شریک تھیں۔ تقریب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے خصوصی معاون برائے قانون، انسدادِ بدعنوانی اور انفارمیشن مرتضیٰ وہاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا “اعدادوشمار تک رسائی محض آغاز ہے، ان اعدادوشمار کا تجزیہ اور مسائل کے حل کے لیے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔ ”



تقریب کے دوران ایک پینل مذاکرے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، جس میں ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں نمائندے سروپ اعجاز، مشہور جریدے ہیرلڈ کے مدیر بدر عالم اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون برائے خصوصی افراد قاسم نوید قمر شریک تھے۔ مذاکرے کے دوران سزائے موت سے متعلق اعدادوشمار کی اہمیت اور ضرورت پر بات کی گئی۔ بدرعالم نے سزائے موت کے سیاسی استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا، ” ایسا آج سے نہیں بلکہ تقسیم سے پہلے بھی ایسا ہی تھا۔ نوسالہ بچے پپو کے قاتل کی سرعام پھانسی بھی سیاسی نوعیت کی تھی اور 2014 میں پشاور کے اندوہناک سانحے کے بعد پھانسیوں پر عملدرامد کی بحالی بھی سیاسی فیصلہ تھا۔ ” سروپ اعجاز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ “سزائے موت دینے کا نظام نوآبادیاتی میراث ہے اور اسے اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ پاکستان کی بیشتر آبادی کے حقوق کو نظرانداز کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ “



اس موقع پر جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اسفند یار قصوری کا کہنا تھا “اگرچہ جرائم اور دہشت گردی کی روک تھام اور سزائے موت کے اطلاق کے مابین تعلق سے متعلق کسی قسم کے شواہد موجود نہیں، گزشتہ دو دہائیوں کے اعدادوشمار کا مطالعہ معاشی عدم مساوات، سیاسی تشدد اور عدم استحکام ،اور قتل کی شرح کے درمیان گہرا تعلق ظاہر کرتا ہے۔ اس دوران جب بھی پاکستان کی فی کس جی ڈی پی کی شرح نمو دو فیصد سالانہ سے کم رہی ہے، قتل کے واقعات کی شرح 7.5 فی 100,000 یا اس سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ ڈیٹا بیس عام لوگوں اور حکمران طبقات میں پاکستان میں سزائے موت کے استعمال سے متعلق بہتر فہم اور سوجھ بوجھ کا باعث بنے گی۔ “



جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے سزائے موت کے قیدیوں کے لیے کام کے دوران پھانسیوں اور سزائے موت سے متعلق مواد اکٹھا کیا ہے۔ HURIDOCS کے تکنیکی تعاون سے جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے اپنی تحقیق کو ایک اوپن سورس ڈیٹا بیس کی شکل دی ہے۔ یہ منصوبہ سزائے موت سے متعلق اعدادوشمار تک عام رسائی فراہم کرنے کی پہلی کڑی ہے، جس کا مقصد محققین، صحافیوں، وکلاء ، طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنان اور عام لوگوں کو اس غیر انسانی اور غیر منصفانہ سزا سے متعلق مستند اعدادوشمار مہیا کرنا ہے۔ یہ ڈیٹا بیس نہ صرف جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے اعدادوشمار تک رسائی فراہم کرتا ہے، بلکہ عام افراد کو اس میں مزید مواد کی شمولیت کی دعوت بھی دیتا ہے۔
علاوہ ازیں ، اس مواد تک آن لائن رسائی کے ذریعے پاکستان میں موت کی سزا سے متعلق رائے سازی اور Advocacy کے بہتر مواقع میسر آ سکیں گے۔