انیل دتہ خوش اخلاق اور نفیس انسان تھے ۔ فرحان راجپوت کے قلم سے

انیل دتہ خوش اخلاق اور نفیس انسان تھے ۔ فرحان راجپوت کے قلم سے Farhan Rajput k qalam se  سنیئر صحافی 70 سالہ انیل دتہ خوش اخلاق نفیس انسان تھے میرا ان سے زیادہ تعلق نہیں رہا ہے لیکن کراچی پریس کلب میں ملاقات ہو جاتی تھی انہیں خاموش بیٹھے دیکھتا تھامنگل کے دن میچ دیکھنے کے لیے ہال میں جاکر بیٹھا ہی تھا کہ دتہ صاحب سامنے سے اٹھ کر ساتھ والے صوفے پر آکر لیٹ گے ابھی میں انہیں دیکھ ہی رہا تھا کہ کچھ ساتھی آئے اور دتہ صاحب سے خیریت دریافت کی تو دتہ صاحب نے فورا اپنی ای سی جی کی رپورٹ دیکھائی اور کہا کہ رپورٹ ٹھیک آئی ہے بس بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے یہ کہہ کر لیٹ گے پھر ان کے دفتر کے 2 ساتھی آئے ان کی خیریت دریافت کی اور کہا کہ آپ سے آفس میں ملاقات ہو گی دتہ صاحب نے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا لہذا دونوں ساتھی چلے گے پھر کچھ دیر بعد ایک دوست نے دتہ صاحب سے خیریت دریافت کی تو دتہ صاحب نے میڈیکل رپورٹ دکھائی کہا کہ ٹھیک ہوں تو دوست نے رپورٹ چیک کرنے کے بعد کہا کہ آپ میرے ساتھ ہسپتال چلیں میں آپکو چیک کراتا ہوں ۔70 سالہ سنیئر صحافی دتہ صاحب نے معصومیت اور آنکھیں نیچے کرکے جواب دیا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں ( I have no money)تو ساتھی نے جواب دیا کہ دتہ صاحب پیسوں کی بات نہیں ہے آپ چلیں تو دتہ صاحب اٹھ کر چلے گے جمعہ کی شام میں اچانک ہال میں چلا گیا تو دتہ صاحب اسی صوفے پر بیٹھے سانس لے رہے تھے کہ میں انہیں دیکھتا ہی رہ گیا ایک ساتھی نے اشارے سے پوچھا کہ طبیعت کیسی ہے ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ دتہ صاحب نے سر نیچے پھینک دیا تو میں جلدی سے دروازے کی طرف بھاگا دوست آئے انہیں اٹھایا اور گاڑی میں ڈالا ہسپتال لے گے پھر کچھ دیر بعد خبر آئی کہ دتہ صاحب دنیا سے چلے گے۔انیل دتہ صاحب سفید پوش انسان تھے جو عمر آرام کرنے کی تھی اس عمر میں وہ کام کررہے تھے انہوں نے امریکہ میں مقیم اہلخانہ کو بھی خبر نہ ہونے دی کہ I have no moneyجبکہ وہ بڑے انٹرنیشنل اخبار میں کام کرتے تھے دوستو جو دیکھا اور محسوس کیا وہی لکھا ہے ۔