سابق صدر کی بیٹی سے ایک ارب ڈالر واپس لے لئے گئے

پاکستان میں موجودہ حکومت سابقہ حکمرانوں اور ان کی اولادوں سے کرپشن کے الزامات کے تحت اربوں روپے واپس لینے کے لیے کوشاں ہے لیکن ازبکستان کی حکومت نے سابق صدر کی زیر حراست بیٹی سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے ہیں، ازبکستان کے سابق رہنما کی بیٹی گلنارہ کریمووانے مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر (ایک کھرب 57 ارب 35 کروڑ روپے) کی ادائیگی کے بعد موجودہ حکمران سے اپنی رہائی کی درخواست کی ہے۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

ازبکستان کے مرحوم صدر اسلام کریموف کی 64 سالہ بیٹی گلنارہ کریمووا کو ازبک عدالت نے 2017 میں دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے الزام میں 10 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ اتوار کے روز انسٹاگرام پر ایک بیان میں انہوں نے اپنے جرم سے انکار کیا لیکن اپنے ملک کی عوام سے ممکنہ طور پر مایوسی کی وجہ بننے پر معافی مانگی۔ سابق سفارتکار اور پیسے کے لحاظ سے پاپ گلوکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے عوامی بجٹ کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر (ایک ارب یورو) سے بھی زیادہ رقم ذاتی اثاثوں  سے ریاست کو دیے ہیں۔ انسٹاگرام پران کی بیٹی کے اکاؤنٹ پر روسی زبان میں لکھی گئی کہانی میں کہا گیا کہ گلنارہ کریمووا  اور ان کی قانونی ٹیم نے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ ان کے غیر ملکی اکاؤنٹس میں 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر موجود ہیں۔



دوسری جانب گلنارہ کریمووا کے سوئس وکیل گریجوئیر مینگیٹ نے خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ’یہ مصدقہ بات ہے‘۔ گلنارہ کریمووا کی جانب سے یہ اپیل سوئس اٹارنی جنرل کے اس اعلان کے بعد کی گئی کہ سوئٹزر لینڈ نے ایک یورپی ملک کے بینک اکاؤنٹ میں رکھے گئے 13 کروڑ 30 لاکھ ڈالر باضابطہ طور پر ازبکستان بھجوادیے ہیں۔ یہ اقدام سوئٹزرلینڈ میں انسدادِ بدعنوانی کے تحقیقات میں دی جانے والی پہلی سزا ہے جس میں ممکنہ طور پر گلنارہ کریمووا  اس کا مرکزی کردار ہے۔ اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق ان کے رشتہ داروں کے خلاف فنڈز کی خرچ کردہ جگہیں پوشیدہ رکھنے کی غرض سے ایک اکاؤنٹ سے دوسرے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کا الزام ہے۔