مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری احتجاج کی کال دیتے رہ جائیں گے اور نواز شریف لندن پہنچ جائیں گے

آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کی کال دیتے رہ جائیں گے اور نواز شریف اس دوران لندن پہنچ چکے ہوں گے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امیر قطر تین ارب ڈالر پاکستان کو ایسے ہی نہیں دے کر گئے ان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا 2017 میں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی امیر قطر کی ہمشیرہ سے ملاقات کرنے گئی تھی تاکہ سفارتی مدد حاصل کر سکیں۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

اب امیر قطر کا اہم موقع پر پاکستان کا دورہ اور وزیراعظم عمران خان کا ان کو مکمل پروٹوکول دینا ان کی گاڑی چلانا اور ان کے جانے کے بعد مشرق زانہ کی جانب سے یہ بتانا کہ تین ارب ڈالر قدر کی حکومت دے گی واضح اشارے ہیں کہ قدر نواز شریف اور حکومت کے درمیان ڈیل کرانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے عمران خان کے بعد تمام ساتھی وفاقی وزیر شیخ رشید بھی ایک موقع پر اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ اگر یہ لوگ لندن جانا چاہتے ہیں تو جانے دو دفعہ کرو ۔سیاسی مبصرین کے مطابق شیخ رشید سے لے کر امیر قطر کے دورہ تک واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ڈیل ہو رہی ہے اور ماضی کی طرح سعودی عرب سے آنے والا طیارہ اس مرتبہ قطر سے آسکتا ہے جس میں بیٹھ کر نواشریف لندن جا سکتے ہیں۔



آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن اس دوران حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کی تیاریاں ہی کرتے رہ جائیں گے اور کسی دن یہ خبر آئے گی کہ نواز شریف طبیعت خراب ہونے پر علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہوگئے ماضی میں بھی ان کے مقدمات عدالتوں میں تھے لیکن جب ڈ یل ہوئی تو مقدمات عدالتوں میں ہی رہ گئے تھے اور وہ سعودی عرب پہنچ گئے تھے تھے ۔سیاسی موسمیات کے مطابق پاکستان کی سیاست اور پاکستان کے معاملات میں غیر ملکی شخصیات کا عمل دخل ہمیشہ رہا ہے پاکستان کی معیشت کو درپیش مشکلات اور مالی بحران کی وجہ سے حکومت آنے والے دنوں میں غیر ملکی دوستوں اور دوست ممالک کی درخواست آسانی سے رد نہیں کر سکے گی خاص طور پر ایسے دوست ملک جہاں سے پاکستان کو مالی بحران کے دوران اربوں ڈالر کی امداد مل رہی ہو ۔



 جنرل مشرف اور نواز شریف دونوں ہی کسی بھی ڈیل کا انکار ہی کرتے رہے تھے لیکن نواز شریف سعودی عرب اور پھر وہاں سے لندن چلے گئے تھے آج بھی موجودہ حکومت اور شریف خاندان کی طرف سے کسی بھی ڈیل کا اعتراف نہیں کیا جا رہا لیکن عالمی شخصیات جس طرح متحرک ہیں اور پاکستان کے دورے اور پاکستان کے لیے امداد کا اعلان ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی سیاست میں آنے والے دنوں میں کسی بڑی تبدیلی اور بڑی خبر کے اشارے ثابت ہو سکتے ہیں ۔