افغان صدر کی امریکی ایجنڈے پر پاکستان آمد

افغانستان کے صدر اشرف غنی بظاہر وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں لیکن  لوگوں کا بتانا ہے کہ دراصل افغان صدر امریکی ایجنڈے پر پاکستان پہنچے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان طالبان سے افغان حکومت کے امن عمل مذاکرات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افواج کے افغانستان سے کامیاب انخلا کا راستہ ہموار کرے۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ عجیب بات ہے کہ افغان صدر اشرف غنی وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان پہنچے لیکن ایئرپورٹ پر وزیراعظم عمران خان  ان کا استقبال کرنے نہیں گئے وہاں رزاق داؤد کو بھیج دیا گیا افغان صدر سے پہلے جتنے بھی ملکوں کے سربراہ پاکستان آتے رہے ہیں عمران خان پرجوش انداز میں ایئرپورٹ جا کر ان کا استقبال کرتے رہے اور ان کی گاڑی بھی ڈرائیو کرتے رہے لیکن پڑوسی ملک افغانستان کے صدر اشرف غنی کی پاکستان آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ایسا نہیں کیا۔



جس پر سابق صدر آصف زرداری نے بھی برا منایا اور کہا کہ عمران خان کو افغان صدر کی آمد پر بھی ویسا ہی استقبال کرنا چاہیے تھا جیسا دیگر ملکوں کے سربراہان کی آمد پر کیا تھا ۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ کا پاکستان اور افغانستان پر دباؤ ہے کہ وہ افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان بامقصد اور کامیاب مذاکرات کرائیں پاکستان نے گزشتہ ہفتے افغانستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما وٗں کی میزبانی بھی کی تھی۔