قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران صحافیوں کا پریس گیلری سے واک آوٗٹ

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران صحافیوں نے پریس کلب کے صدر امتیاز فاران پر پی ٹی آئی رہنما کے تشدد کے خلاف کیا، سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے صحافیوں کے واک آوٗٹ کی نشاندہی کی گئی، ڈپٹی سپیکر نے وفاقی وزراء فواد چوہدری اور شہریار آفریدی سمیت حکومتی ارکان کوصحافیوں کو منانے کے لیے بھیجا، وفاقی وزراء کی پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بہزادسلیمی ، سیکرٹری ایم بی سومرو اور پارلیمانی صحافیوں سے بات چیت،  پی آر اےکے صدر بہزادسلیمی نے حکومتی شخصیات کی جانب سے صحافیوں پر تشدد پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

پی آر اے کے صدر نے فواد چوہدری سے اینکر سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے پر معذرت کا مطالبہ کیا۔بہزادسلیمی نے کہا کہ  فواد چوہدری نے اینکرز کو تھپڑ مار کر جو غلط روایت ڈالی اس کا آگے چل نکلنا تشویشناک ہے۔ پیمرا سمیت دیگر اداروں کی موجودگی میں وزیر کا قانون کو ہاتھ میں لینا غلط ہے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسی نوبت آئے کہ صحافی پارلیمنٹ ہائوس میں حکومتی شخصیات کو تھپڑ ماریں ۔  حکومت صحافیوں پر تشدد کے رویہ کی حوصلہ شکنی کرنے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے ۔  فواد چوہدری نے پی آر اے کے مطالبہ پر سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے پر معذرت کرلی۔



  فواد  چوہدری نے کہا کہ
سمیع ابراہیم نے میرے خلاف بلیک میلنگ کے لیے مہم چلائی ، مجھے کسی ادارہ سے کوئی ریلیف نہ ملا ۔  سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنا غلط تھا ، معذرت کرتا ہوں۔  امتیاز فاران پر تشدد کرنے والے پارٹئ رہنما کی رکنیت معطل کردی گئی ہے۔ وزیرمملکت شہریار آفریدی نے امتیاز فاران پر پی ٹی آئی کے رہنما کے تشدد پر معذرت کی ۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ تشدد میں ملوث پارٹئ رہنماوٗں کے رویہ کی حمایت نہیں کرتے۔  پارٹئ رہنمائوں کی جانب سے ان غیر اخلاقی حرکتوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ فواد چوہدری نے جس اخلاص کا مظاہرہ کیا ہے ان پر فخر ہے۔ صحافیوں کے ساتھ باہمی عزت و احترام کا رشتہ برقرار رہے گا۔ کوشش ہوگی کہ آئندہ ایسی حرکت نہ ہو جس سے صحافیوں کی دلاآزاری ہو۔