جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر سلمیٰ امبر کے خلاف سنگین الزامات

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی خاتون ٹیچر انچارج سلمہ امبر کے خلاف سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد پوری یونیورسٹی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔خاتون ٹیچر پر رزلٹ ٹمپرنگ، اختیارات کے ناجائز استعمال ‘ طلبہ کو بلیک میل کرنے‘ طالبات کو حراساں کرنے اور کرپشن میں ملوث، ہونے کے الزامات ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کے پورٹل پر شکایت میں صورتحال سامنے آنے پر یونیورسٹی حکام نے انکوائری کی تو سلمیٰ امبر پر لگنے والے تمام الزامات ثابت ہوگئے ۔ یونیورسٹی کی ڈینز کمیٹی کی میٹنگ میں بھی سلمیٰ امبر اپنے پر لگنے والے الزامات کی تردید میں ایک بھی ثبوت نہ دے سکی۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

جس پر ایکشن لیتے ہوئے وائس چانسلر نے سلمیٰ امبر کو ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر کے عہدے سے فارغ کردیا تاہم سلمیٰ امبر کی رٹ پٹیشن پر لاہور ہائیکورٹ نے سنڈیکیٹ کا اجلاس بلا کر اس بارے حتمی فیصلہ کرنے کا حکم دیا تو یونیورسٹی انتظامیہ نے سنڈیکیٹ کا اجلاس بلانے کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ تفصیل کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر سلمیٰ امبر کے حوالے سے الزامات سامنے آرہے تھے کہ وہ ہائر کلاسز کے رزلٹ میں ٹمپرنگ کرنے میں ملوث پائی جارہی ہیں۔ ان کے حوالے سے یہ بھی سامنے آیا کہ وہ طلباءو طالبات کو بلیک میل کرنے اور اس نام پر طلبہ سے مختلف ذاتی مفادات حاصل کرتی ہیں۔



سلمیٰ امبر کے حوالے سے یہ بھی سامنے آتا رہا ہے کہ وہ کلاس میں طالبات کے حوالے سے ایسی غیر اخلاقی گفتگو کرتی ہیں جو جنسی حراساں کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ اس بارے میں ایک طالبہ کی شکائت پر ان کیخلاف یونیورسٹی کی ضابطہ اخلاق کمیٹی میں انکوائری بھی ہوئی مگر انہوں نے طالبہ کو بلیک میل کرکے شکائت واپس لینے پر مجبور کردیا۔ سلمیٰ امبر کے یونیورسٹی فنڈز میں خورد برد کرنے کی شکایات بھی سامنے آچکی ہیں جبکہ ان کے حوالے سے متعدد غیر اخلاقی معاملات کی انکوائری بھی یونیورسٹی میں چل رہی ہے۔ سلمیٰ امبر کے حوالے سے یہ شکایات وزیر اعظم عمران خان کے پورٹل پر سامنے آئیں تو وزیر اعظم آفس نے یونیورسٹی کو اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا۔ ابتدائی انکوائری میں ہی تمام الزامات کے ثبوت سامنے آنے لگے تو یونیورسٹی نے اس معاملے کی انکوائری کیلئے چیئرمین داخلہ کمیٹی ‘ڈائریکٹر ایڈوانس سٹیڈیز‘ ڈین سوشل سائنسز اور ڈپٹی کنٹرولر امتحانات پر مشتمل چار رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔



اس کمیٹی میں بھی سلمیٰ امبر پر لگنے والے تمام الزامات ثبوتوں کے ساتھ ثابت ہوئے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے چار رکنی کمیٹی کے فیصلہ کیخلاف سلمیٰ امبر کی اپیل پر یونیورسٹی کی اعلیٰ اختیاراتی ڈینز کمیٹی کو معاملے کی انکوائری اور سلمیٰ امبر کی اپیل کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ۔ ذرائع کے مطابق 31مئی کو ہونیوالے اجلاس میں ڈینز کمیٹی نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور اتفاق رائے سے سلمیٰ امبر کی اپیل مسترد کردی اور تمام الزامات ثابت ہونے سلمیٰ امبر کیخلاف کارروائی کی سفارش کر دی۔ ڈینز کمیٹی کی سفارشات پر سلمیٰ امبر کو ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ٹیچر کے عہدے سے ہٹا دیا اور ماس کمیونیکشن ڈپارٹمنٹ کے چیئر مین و ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عاصم محمود نے ڈپارٹمنٹ میں نیا انچارج ٹیچر / کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر اشرف اقبال کو مقرر کردیا۔ وائس چانسلر کے اس حکم نامے کیخلاف سلمیٰ امبر نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو عدالت عالیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو سات دن کے اندر سنڈیکیٹ کا اجلاس بلا کر اس بارے فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔



ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے سنڈیکیٹ کا اجلاس بلانے کیلئے اقدامات شروع کردئیے ہیں ۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر امین کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کچھ بھی قانون کے خلاف نہیں کرے گی۔ انکوائری وزیراعظم پورٹل پر معاملہ سامنے آنے پر کی گئی ہے اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا گیا ہے اب بھی عدالت عالیہ کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے۔