پاک کویت روٹ پر پی آئی اے پروازیں بحال کرانے کی کوششیں تیز

حافظ محمد شبیر کی زیر قیادت کمیونٹی رہنماؤں کی عزت مآب سفیر پاکستان سے خصوصی ملاقات
چئیرمین پی آئی اے سے رابطہ میں ہوں، مسئلہ حل کرنے کی یقین دہائی کرادی گئی،عزت مآب سفیر پاکستان
کویت سے بیورو چیف جیوے پاکستان طارق اقبال کی خصوصی رپورٹ
کویت اور پاکستان روٹ پر پی آئی اے اے پروازیں بحال کرانے کیلئے کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے کوششیں تیز کردیں۔ کل حافظ محمد شبیر ڈائریکٹر جنرل پاکستان بزنس سنٹر کی زیر قیادت کمیونٹی کی ممتاز کاروباری وسماجی شخصیات نے عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر سے خصوصی ملاقات کی ،وفد نے کہا کہ انہیں چئیرمین پی ائی اے سے وقت لے کر دیں تاکہ وہ انہیں کمیونٹی کے ایک اہم مسئلہ سے آگاہ کر سکیں ،عزت مآب سفیر پاکستان نے کہا کہ ان کی چئیرمین پی آئی اے سے بات ہوئی ہے ،انہوں نے پاک کویت روٹ پر پی ائی اے پروازوں کی بحالی کے مسئلہ پر ہمدردانہ غور کی یقین دہائی کرائی ہے۔ حافظ محمد شبیر آور ان کے وفد نے کہا کہ کویت میں تقریباً ایک لاکھ پاکستانی مقیم ہیں ،ہر مہینہ تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی وطن جاتے ہیں جنہیں غیر ملکی پروازوں پر سفر کرنا پڑتا ہے اور پاکستان کثیر زرمبادلہ سے محروم ہو رہا ہے۔

embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

اس موقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر نے کہا کہ پی آئی اے پروازوں کی بحالی کا فیصلہ چئیرمین پی آئی اے نے کرنا ہے ،حکومت ایسے معاملات میں قطعاً مداخلت نہیں کرتی،ان کا کہنا ہے پی آئی اے کو کویت سیکٹر سے نقصان ہو رہا تھا،حافظ محمد شبیر نے وضاحت کی کہ قومی فضائی کمپنی کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا تھا تاہم کچھ افسران غیر ملکی فضائی کمپنیوں کے مفادات کیلئے کام کرتے ہیں اور وہ اعداد وشمار پیش کرنے کہ دوران دیگر روٹس کے نقصانات کویت سیکٹر میں ڈال دیتے ہیں۔ان کو پیش کی گئی دستاویزات میں کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی تعداد 50 ہزار ظاہر کی گئی جس کے جواب میں عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر نے کہا کہ انہوں نے جو رپورٹ پیش کی ان میں کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی تعداد تقریبا ایک لاکھ بیان کی گئی تھی ،سفارت خانہ سے زیادہ قابل اعتماد رپورٹ کوئی بھی پیش نہیں کر سکتا۔



حافظ محمد شبیر نے کہا کہ کویت کیلئے پی ائی اے پروازوں کا مسئلہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا جائے گا ،ہر مہینہ تقریباً 8 ہزار پاکستانی کویت پاکستان روٹ پر سفر کرتے ہیں،قیمتی زرمبادلہ غیر ملکی کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں جا رہا ہے ،ان کے علم میں آیا ہے کہ کویت میں پی آئی اے کا دفتر بند کرنے کا لیٹر آگیا ہے۔ عزت مآب سفیر پاکستان نے کہا کہ پی آئی اے کے تمام فیصلے ان کا بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے ،حکومت پروفیشنل معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ حافظ محمد شبیر نے کہا کہ انہوں نے کمیونٹfی کی طرف سے ایک لیٹر چئیرمین پی ائی کے نام تحریر کیا ہے ،وہ چاہتے ہیں کہ وہ لیٹر سرکاری چینل سے چئیرمین کے پاس جائے،انہوں نے لیٹر عزت مآب سفیر پاکستان کےحوالہ کیا۔



اس موقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر نے کہا کہ پی آئی اے پروازوں کی بحالی کا فیصلہ چئیرمین پی آئی اے نے کرنا ہے ،حکومت ایسے معاملات میں قطعاً مداخلت نہیں کرتی،ان کا کہنا ہے پی آئی اے کو کویت سیکٹر سے نقصان ہو رہا تھا،حافظ محمد شبیر نے وضاحت کی کہ قومی فضائی کمپنی کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا تھا تاہم کچھ افسران غیر ملکی فضائی کمپنیوں کے مفادات کیلئے کام کرتے ہیں اور وہ اعداد وشمار پیش کرنے کہ دوران دیگر روٹس کے نقصانات کویت سیکٹر میں ڈال دیتے ہیں۔ان کو پیش کی گئی دستاویزات میں کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی تعداد 50 ہزار ظاہر کی گئی جس کے جواب میں عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر نے کہا کہ انہوں نے جو رپورٹ پیش کی ان میں کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی تعداد تقریبا ایک لاکھ بیان کی گئی تھی ،سفارت خانہ سے زیادہ قابل اعتماد رپورٹ کوئی بھی پیش نہیں کر سکتا۔



حافظ محمد شبیر نے کہا کہ کویت کیلئے پی ائی اے پروازوں کا مسئلہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا جائے گا ،ہر مہینہ تقریباً 8 ہزار پاکستانی کویت پاکستان روٹ پر سفر کرتے ہیں،قیمتی زرمبادلہ غیر ملکی کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں جا رہا ہے ،ان کے علم میں آیا ہے کہ کویت میں پی آئی اے کا دفتر بند کرنے کا لیٹر آگیا ہے۔ عزت مآب سفیر پاکستان نے کہا کہ پی آئی اے کے تمام فیصلے ان کا بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے ،حکومت پروفیشنل معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ حافظ محمد شبیر نے کہا کہ انہوں نے کمیونٹی کی طرف سے ایک لیٹر چئیرمین پی ائی کے نام تحریر کیا ہے ،وہ چاہتے ہیں کہ وہ لیٹر سرکاری چینل سے چئیرمین کے پاس جائے،انہوں نے لیٹر عزت مآب سفیر پاکستان کے حوالہ کیا۔