امیر قطر کے دورہ پاکستان میں ہونے والا لین دین سامنے آگیا

وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے قطر کے حکمران کے دور ہ پاکستان کو انتہائی اہم قرار دیا ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قطر کے امیر کی اسلام آباد آمد پر شاندار استقبال بھی کیا اور دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے میٹرو بس سروس اور ٹریل فائیو پر ہائیکنگ بھی بند کی ۔سیاسی حلقوں میں یہ بات ہوتی رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے اسی قطری حکمران خاندان پر سابق وزیراعظم نواز شریف سے قریبی تعلقات کی وجہ سے سخت تنقید کرتے رہے اور اب دورہ پاکستان کے حوالے سے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے دراصل وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امیر قطر دو روزہ دورے پر ہفتے کو پاکستان پہنچے تھے جن کے ہمراہ وزراء اور حکام پر مشتمل وفد  بھی آیا وزیراعظم عمران خان نے نور خان ایئر بیس پر معزز مہمان کا استقبال کیا اور امیر قطر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی امیر قطر کے اعزاز میں باضابطہ استقبال یہ تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد کی گئی جہاں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ یہ وہی قطری خاندان ہے جس کے بارے میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد یہ کہتے رہے کہ وہ شاہد خاقان عباسی اور قطر کے درمیان ہونے والے ایل این جی معاہدے کی کرپشن قوم کے سامنے لے کر آئیں گے انہوں نے قومی اسمبلی میں بھی چیلنج کیا تھا اور خود غیر ملکی دورے میں ایل این جی معاہدے کی تفصیلات جمع کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے تھے۔ امیر قطر کے دورہ اسلام آباد کے موقعے پر نہ تو وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کو ایل این جی کے معاہدے میں کرپشن کی کوئی بات یاد آئی نہ ہی کسی حکومتی شخصیت نے ایل این جی معاہدے پر کوئی بیان دیا بلکہ پاکستان میں مشکل معاشی حالات میں توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے قطر سے سرمایہ کاری کی درخواست کر دی حکومتی ترجمان کے مطابق پاکستان اور قطر کے درمیان سیاسی اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق اور علاقائی صورتحال اور افغان امن عمل پر بھی بات ہوئی دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔



سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہو رہی تھی کہ امیر قطر کے آنے سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کو فائدہ ہوگا اور ان کی سزا اور مقدمہ بازی کے حوالے سے انہیں آنے والے دنوں میں ریلیف ملے گا۔ نواز شریف کو امیر قطر کے پاکستان آنے سےریلیف ملے گا یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا لیکن فی الحال جو لین دین ہوا ہے وہ سامنے آگیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ امیر قطر نے قومی فٹبال ٹیم کی جرسی وزیراعظم کو پیش کی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دستخطوں والا کرکٹ بیٹ امیر قطر کو پیش کیا فی الحال یہ لین دین سامنے آیا ہے جبکہ امیر  قطر نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں سہارا دینے کے لیے پاکستان کو تین ارب ڈالر کی فراہمی کی یقین دہانی کرادی ہے ۔ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کے لئے قطری حکومت کے جانب سے خوشخبری ملی ہے کہ ان کے لئے قطری حکومت کی کوششیں کامیابی کے مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ستر سے اسی فیصد تک امکانات روشن ہے کہ نواز شریف کو ریلیف ملے گا۔



تین ارب ڈالر پاکستان کو دینے کا اعلان ہوگیا ہے اور مزید 10 سے 12 ارب ڈالر دینے پر بات چیت ہوگی سینئر تجزیہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ قدر کے تعاون سے وزیراعظم عمران خان سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ایک ڈیل کی کوشش کی جارہی ہے جو پندرہ ارب ڈالر کے بدلے میں طے پا گئی تو پھر نواز شریف اور ان کی صاحبزادی لندن چلے جائیں گے اور وہیں قیام کریں گے البتہ شہباز شریف کا خاندان پاکستان میں رہے گا اور حمزہ شہباز بھی پاکستان میں ہی رہیں گے سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ عمران خان ماضی میں سخت موقف رکھتے تھے لیکن ملک کی معاشی صورتحال کی وجہ سے انہیں اپنے موقف میں لچک پیدا کرنی پڑ رہی ہے آنے والے دنوں میں ملک کی معاشی صورتحال کی وجہ سے حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ جبکہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔