خواجہ آصف نے مسلم لیگ نون میں سخت اختلافات کا اعتراف کرلیا

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ نون کے اہم رہنما خواجہ آصف نے پارٹی کے اندرونی اختلافات پر اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جی ہاں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ پارٹی کے اندر اختلاف ہے اور اختلاف اس بات پر ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک کب چلائی جائے ابھی یا کچھ دیر بعد کچھ رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک فوری طور پر شروع کی جائے اور کچھ کا خیال ہے کہ حکومت کو پوری طرح بے نقاب ہونے دیا جائے ۔جو کچھ بھی ہو گا عوام کے مفاد میں ہوگا ہم احتجاج بھی کریں گے تو عوام کے مفاد میں کریں گے۔

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

انہوں نے کہا کہ میں اس بات کا حامی ہوں کہ تحقیقاتی کمیشن 2002 سے لے کر 2019 تک کے لیے بننا چاہیے اس ملک میں حساب کتاب ہونا چاہیے سب کا ہونا چاہیے سلیکٹ نہیں بلکہ کاف لیگ اور تحریک انصاف کی حکومت کا حساب بھی ہونا چاہیے کیوں کہ قرضہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی لیا ہے مسلم لیگ نون کی حکومت نے پندرہ سو ارب روپے سود دیا تھا تحریک انصاف نے 2900 ارب روپے سو دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پارٹی میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن یہ اختلافات مثبت طریقے سے آگے بڑھنے کے لئے جمہوری آزادی کے طور پر سامنے آتے ہیں اگر شہباز شریف اور مریم نواز میں کسی بات پر اختلاف ہے۔



تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو جنگ قرار دے دیا جائے انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے پارٹی متحد ہے اور پارٹی میں نواز شریف کا بیانیہ ہی چلتا ہے اس میں کسی کو بھی شک نہیں ہے میزبان نے ان سے سوال پوچھا تھا کہ آپ کا جھکاؤ مریم نواز کے بیانیے کی طرف ہے یا شہبازشریف کی طرف ۔اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ وہ شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان میں ہیں اور ان کا راستہ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان سے گزرتا ہے دونوں رہنماؤں کی رائے ہے اور ایک مقام پر دونوں کا مقصد ایک ہی ہے اس لئے میں کسی ایک کی طرف نہیں ہوں انہوں نے کہا کہ میرا نواز شریف سے 55 سال پرانا تعلق ہے اور میری اپنی جو رائے ہے وہ اپنے لیڈر کی وجہ سے ہی ہے۔
غیر مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ قوم جانتی ہے کہ عمران خان دھاندلی شدہ الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آئے ۔میثاق معیشت کی پیشکش کو خود حکومت نے سبوتاژکیا۔



سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ  میثاق معیشت اب مذاق بن چکا ہے کیونکہ اس فرق کو حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنی اپنی جگہ پر متنازعہ بنا دیا اور جس طرح ایک ایک قدم آگے بڑھے تھے اب جتنا دو قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ٹی وی سٹار وزیراعظم نے دس روز میں دوختار کیے اور اب سمجھ میں آیا کہ تھرڈ کلاس کیا ہوتا ہے؟ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا خواب پورا نہ ہوسکا اس حکومت کی کارکردگی دیکھ کر یاد آیا پڑھاس کیا ہوتا ہے یہ نااہل نالائق حکومت کا ثبوت ہے اور کیا ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم کیوں پر اتر آئے آج پورا پاکستان سلگ رہا ہے ۔پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن سے قبل جو سبز باغ دکھائے گئے تھے ان کی کلی کھل کر عوام کے سامنے آ چکی ہے عوام باقی ہو چکی ہے کہ یہ نالائق نااہل حکومت ہے اور ان سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔