ڈاکٹر حاملہ خواتین کو بہت زیادہ کشتے کھلارہے ہيں CA اور آئرن کے Suppliments کو حکمت میں کشتہ کہتے ہیں ان سے بچیں

جس نے بھی یہ تحریر لکھی ہے اس نے حقائق لکھے ہیں اکثر حاملہ خواتین اور نوزائدہ بچوں کو شدید مسائل کا شکار ہوتے دیکھا ہے اس تحریر میں اس کی وجوہات واضح تور پر بیان کر دی گئی ہیں۔
عورت بچاؤ مہم
ایک دوست کا سوال
آج کل ڈیلیوریز نارمل کیوں نہیں ہوتی ہیں۔
حالانکہ آج کل جدید ترین ہسپتال طبی ، سہولیات میسر ہیں…
جب کسی خاتون کو امید ہوتی ہے تو وہ فورا لیڈی ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے
نو ماہ اس کے زیر نگرانی باقاعدگی سے چیک اپ کرواتی ہیں
اس کی تجویز کردہ ادویات بھی کھاتی ہیں
ان کی مہنگی فیسیں بھی ادا کرتی ہیں۔۔۔
مگر جب ڈیلیوری کا وقت آتا ہے تو پھر کیس نارمل کیوں نہیں ہوتا…؟؟
نو ماہ مسلسل فولک ایسڈ اور کیلشیم کی گولیاں کھانے… اورVenofer کی ڈرپس لگوانے کے باوجود…
ڈیلیوری کے وقت خون کی کمی کیوں ہو جاتی ہے۔۔۔؟؟

[embedyt]https://www.youtube.com/watch?v=3bgDy9yZWxY[/embedyt]

میرے عزیزو !
اس سوال کا جواب کچھ اس طرح ہے کہ
۔۔ڈیلیوری نارمل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ… مسکولر ٹشوز کا سخت ہوناہے
اور رطوبت تلیہ۔Lymphatic liquids  کا کم ہونا ہے
یاد رکھیں
عورت کے جسم میں جتنی لچک اور Flexibility ہو گی بچہ کے اتنے ہی چانسز نارمل کے ہوں گے
اور جتنے سخت ہوں گے اتنا ہی آپریشن کا امکان زیادہ ہو گا
مندرجہ ذیل عوامل عورت کے جسم کے مسکولر ٹشوز کو سخت اور راستوں کو تنگ کر دیتے ہیں اور ان کے اندر کی رطوبت تلیہlympatic liquids بھی کم ہو جاتی ہیں
جو لبریکیشن کا کام کرتی ہیں فطرت اور نیچر کے خلاف جب ہم چلے گئے تو فطرت ہمیں سزا ضرور دے گی
یعنی فطرت سے روگردانی کی سزا کی وجہ سےہمیں آپریشن سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔قطع نظر اس کے کہ
بہت بڑی بڑی بلڈنگز ہیں ،



ہسپتال ہیں…
مہنگے ڈاکٹرز ہیں…
مہنگی ادویات اور مہنگے انجکشنز…
ایئر کنڈیشنڈ کمرے…
یاد رکھیں
یہ سب کچھ کبھی بھی فطرت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔۔۔ پیسے کا لالچ اور ہوس اور انسانیت سے دوری…
مریض کی زندگی اور صحت سے زیادہ مریض کی جیب پر نظر کاہونا دوسری بڑی وجہ ہے… عورتوں کا سہل پسندہونا اور یہ تصور کہ حمل ہو جانے کے بعد کام نہیں کرنا
سارا دن فارغ بیٹھے رہنا…مسکولر ٹشوز اور خصوصا اووری کے مسلز کو نرم اور Flexible بنانے کے بجائے… Stiff اور سخت بنا دیتاہے…
فارغ سارا دن لیٹے رہنے کی بجائے اگر مخصوص ورزش خصوصا آخری مہینوں میں کی جائے
یا گھر کے کام کاج کیے جائیں…جیسے جھاڑو دینا…
ڈسٹنگ کرنا …



اس سے اووری کے مسلز کو حرکت ملے گی
جس سے حرارت پیداہوگی جو مسلز کو نرم کرے گی…
🧬خوراک میں جب ہم فولک ایسڈ یا  Venofer کے انجکشن لگائیں گے
تو یہ لوہا ہونے کی وجہ سے جسم کے مسلز کو انتہائی زیادہ سخت کرے گا
کیونکہ یہ مسلز کی خوراک ہے
جس سے راستہ کھلنے کے بجائے اور زیادہ تنگ ہو گا…
اس کی جگہ اگر
کالے چنے
مربہ ہڑڑ
مربہ املہ
مربہ بہی
سیب
پالک
ساگ
کلیجی
دودھ
انڈا
شہد
گھی
منقی
آڑو
لونگ
دارچینی
بادام
زعفران
کا استعال کیا جائے



تو اس سے جسم کو قدرتی فولک ایسڈ اور خون بھی وافر مقدار میں ملےگا
اور جسم کے مسکولر ٹشوز سخت ہونے کے بجائے طاقتور اور نرم ہو ں گے خوبصورت بچے پیدا ہوں گے…
اور گارنٹی سے کہتا ہوں لکھ کر دینے کو تیارہوں بچہ بھی خوبصوت پیدا ہو گا ۔ دوسری طرف کیلشیم کی گولیاں یاد رکھیں ہڈیوں کو سخت کر دیتی ہیں ۔۔ نو ماہ بے دریغ کیلشیم کی گولیاں کھانے سے ماں اور بچے دونوں کی ہڈیاں سخت…
تو آپ اندازہ کر لیں مسکولر ٹشوز بھی سخت… ہڈیاں بھی سخت…
اسی لیے بعض اوقات کہہ دیا جاتا ہے کہ
بچے کا سر بڑھا ہوا ہے
ماں کی ہڈی بڑھی ہوئی ہے اپریشن ہی ہو گا…
بھائی نو ماہ اندھا دھند گولیاں کھلا کھلا کر آپ نے نارمل ڈیلیوری کا چانس چھوڑا ہی کب ہے
کیونکہ اس سے کمائی زیادہ ہے آپریشن سے تو پیسے بننے ہیں نارمل سے کیا ملنا ہے…
…اگر قدرتی کیلشیم



دودھ
دہی
انڈے
گھی
کھلایا جاتا تو گارنٹی سے کہتا ہوں کبھی کیلشیم کی کمی نہ آتی
اور ہڈیاں مضبوط تو ہوتیں مگر۔۔بڑھتی نہ
…سخت نہ ہوتیں
ہاں !!! دکان کی سیل کم ضرورہو جاتی
کمیشن ضرور کم ہو جاتا…
سٹور کی سیل کم ہو جاتی
آپس میں لڑائی پڑ جاتی
بنک بیلنس کم ہو جاتا ۔
آمدنی کم ہونے کی وجہ سے…
کیونکہ عملی طور پر ہمارا یقین اللہ تعالی اور انسانیت پر زیرو ہے



تقریروں اور گفتگو میں 1000 فی صد ہے…ڈیلوری نارمل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ …
جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہڈیوں کا سخت ہونا…مسکولر ٹشوز کا سخت ہو کر ان میں لچک کا کم ہونا اور اس میں رطوبات صالح کی کمی کا ہونا ہے
جو لبریکیشن کا کام کرتی ہیں…ان سب کے لیے آخری ماہ… صدیوں سے آزمودہ فارمولہ جو ہماری مائیں استعمال کرتی آ رہی تھیں
ایک تو جسمانی مشقت اور ورزش تھیں
پاؤں کے بل…تو دوسری اہم چیز
دیسی گھی ۔
چھواروں
زعفران
کا استعمال تھا …
دودھ میں ڈال کر…
جس میں
فولاد
کیلشیم
گندھک
یعنی حرارت
وافر مقدار میں موجود ہوتی ہیں…
اس کا چھوڑ دینا…
اور سارا دن عورتوں کا بستر پر لیٹے رہنا
اور کیلشیم فولک ایسڈ کی گولیاں کھانا



اور  Venoferکے انجکشن لگوانا ہے… پھر ڈیلیوری کے روز اور دوران جو ظلم وستم ہوتا ہے…اللہ کی پناہ
ایک تو شرم و حیا کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں…
جسم دکھایا جاتا ہے…
چوڑے چمار تک جملے کستے ہیں…
سہیلفی بنائی  جارہی ہوتی ہیں…
استغفراللہ….
پھر پیسے کے لالچ اور حرص میں ہم اس حد تک گر چکے ہیں کہ
نارمل کیسز کو کٹ لگوا کر جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے….  ایک اور ظلم
جس کی طرف بطور خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں….
کہ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے
تو اسکا درجہ حرارت ٧٠ سے ٩٠ تک ہوتا ہے….
لیبر روم میں ایئر کنڈیشن ہونے کی وجہ سے ایک تو ماں کے عضلات سردی سے سکڑتے ہیں…. یہ سائنس کا اصول ہے
کہ سردی سے چیزیں سکڑتی اور حرار ت سے پھیلتی ہیں….



کمرے میں 16 درجہ کا ٹمپریچر ہونے سے رحم سکڑے گا یا پھیلے گا ؟؟
یقینا سکڑے گا تو یہ چیز نارمل ڈیلوری میں معاون ہو گی یا رکاوٹ؟؟
یقینی جواب ہے رکاوٹ….
مگر …… 
نازک مزاج ڈاکٹر صاحبان کو گرمی لگے گی….
لہذا مریض جائے بھاڑ میں
یا موت کے منہ ۔
آں جناب کی طبع نازک یہ برداشت نہیں کر سکتی
ڈاکٹر ہو کر اس کی ناک پر پسینہ آجائے ….
اتنا بڑا ظلم….
حد تو یہ ہے کہ ڈاکٹر تو ڈاکٹر ہیں
لیبر روم کا صفائی والا عملہ
اس کا نخرہ
اور اس کا رعب
اللہ کی پناہ….
وہ آسمان پہ ہوتا ہے….
مگر سلام ہے



ہماری ان ماؤں اور بہنوں کو جو لیبر روم میں انگھیٹیاں جلاکر پسینوں پیسنی ہو کر فطری عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی تھیں
گھر میں ہی…. اسی سلسلے میں ایک اور مسئلہ بچے کا سانس اکھڑنا اور Incubator میں ڈالنا….
پیارے بھائی !
جب بچہ یک دم تقریبا 80-90 کے ٹمپریچر سے یک دم سولہ کے ٹمپریچر پے آئے گا
تو اس کا سانس نہیں اکھڑے گا تو اور کیا ہو گا…؟ پھر درد کے انجکشن لگوانے کی سزا بلکہ بھینسوں والے انجکشن پابندی کے باوجود لگائے جاتے ہیں….
جو عورت کو ساری زندگی کمر درد کی صورت بھگتنا پڑتی ہے وہ ایک الگ کہانی ہے…. پھر ایک ایک دن کا گننا اور ایک دن بھی اوپر نہ جانے دینا کہ گاہک کسی اور دکان کا رخ نہ کر جائے….
ظلم پہ ظلم….
ڈاکے پہ ڈاکہ….
اس سلسلے میں صرف اتنا عرض کروں
کہ پھل جب پکتا ہے تو خود بخود نیچے گرتا ہے…
دردیں قدرتی اور فطری ہونی چاہیے ۔
یاد رکھیں فطرت انسان کی دوست ہے دشمن نہیں
مصنوعی دردیں کہ…



گاہک دوسری دکان پر نہ چلا جائے کے خوف سے بھینسوں والے ٹیکے لگائیں گے
تو فطرت کے ساتھ بھیانک مذاق ہے پھر نتائج تو بھگتنا پڑیں گے…
سزا تو ضرور ملے گی
فطرت کسی کو معاف نہیں کرتی…پھر یاد رکھ لیں
بچوں کے اندر جتنے کیسز خون کی کمی کے آرہے ہیں… 
وہ سب کے سب مصنوعی فولک ایسڈ اور مصنوعی کیلشیم کی وجہ سے ہیں
کیو نکہ اس سے تلی Spleen کا فعل متاثر ہوتا ہے
جس سے وہ انیمیا کا شکار ہو جاتے ہیں… المختصر …
فطرت سے جتنا دور ہٹیں گے اتنی ہمیں سزا زیادہ ملے گی
اس موضوع پر بہت کچھ ہے کہنے کو شاید اتنا بھی ہضم نہ ہو دکانداروں کو…
لیکن میرے پیارے بھائیو!
یہ ہماری ماؤں ، بہنوں بیٹیوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے
اس کو اتنا like .اور Share کیجئے Comment کیجیے کہ یہ
عورت بچاو مہم
بن جائے….



اور حکمران Scandinavian belt
کی طرح سخت قوانین بنانے پر مجبور ہو جائیں
سوشل میڈیا کی طاقت سے جہاں پر
خاوند لیبر روم میں موجود ہوتا ہے…
ہمارے ہاں تو اس کی زیادہ ضرورت ہے…
حتی المقدور نارمل کیس کی کوشش کی جاتی ہے آخری حد تک…
ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا
مصنوعی دردوں کے انجکشن نہیں لگوائے جاتے…
بلکہ قدرتی دردوں کو برداشت کرنے کا کہا جاتا ہے…
ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا…
فرانس میں ہر حاملہ خاتون اور بچوں کو قانونا چنے روزانہ کھلائے جاتے ہیں
فولاد کی کمی پوری کرنے کیلیے ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ؟؟
یہ قلم کا جہاد ہے ۔